ائیر چیف  مارشل ظہیر احمد بابر سدھوکا سکردو ائیر بیس کا معائنہ

148

اسلام آباد:سربراہ پاک فضائیہ ائیر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاک فضائیہ کی تنصیبات، نئے تعمیر شدہ انفراسٹرکچر، آلات اور سپورٹ یونٹس کا آپریشنل جائزہ لینے کے لیئے شمالی سیکٹر میں آپریشنل ائیر بیس اسکردو کا دورہ کیا ہے۔

ترجمان پاک فضائیہ نے کہا کہ ائیر چیف نے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ کی جانب سے انفراسٹرکچر اور عسکری صلاحیتوں میں اضافہ پاک فضائیہ کی آپریشنل صلاحیتوں کو توسیع دینے اور خطے کے پیچیدہ آپریشنل ماحول میں عسکری حکمت عملی میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاک فضائیہ کی شمالی ریجن میں فضائی صلاحیتیں اور عسکری ردعمل اس جدت سے مزید مستحکم ہوئے ہیں۔ اعلیٰ ترین پیشہ وارانہ معیار کو برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ خطے کی موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ ہمیں کسی بھی بیرونی یا اندرونی سکیو رٹی چیلنج کا جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا ہوگا۔

انہوں نے مزید کہا کہ خلائی، الیکٹرانک اور سائبر وارفیئر کے ساتھ ساتھ مخصوص تکنیکی علوم میں ترقی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ساتھ ملکر قومی سلامتی کے روایتی ماحول پر بھرپور طریقے سے اثرانداز ہو رہی ہیں چنانچہ ان تمام لاحق خطرات کے پیش نظر، محفوظ ماحول کی فراہمی اور تکنیکی صلاحیتوں کے اس خلا کو پر کرنے کے لیے پاکستان کی مسلح افواج تیز ترین انڈکشن پروگرامز کے ذریعے اپنی موجودہ صلاحیتوں میں جدت طرازی کی کوششوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ائیر چیف نے کہا کہ پاک فضائیہ، افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ مادر وطن کی خودمختاری کو لاحق کسی بھی خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے اور دشمن کی اسلحہ سازی اور عسکری صلاحیتوں کے ذخیرے سے بالکل بھی خائف نہیں۔ 

اس موقع پر سربراہ پاک فضائیہ کو مختلف یونٹس کے رول اینڈ ٹاسک کے بارے میں بریفنگ دی گئی جس میں آپریشنل، انتظامی امور اور بیس پر موجود انفراسٹرکچر کی ترقی کے مختلف منصوبوں کے بارے میں آگاہی شامل ہے۔بعد ازاں انہوں نے مختلف تنصیبات کا دورہ کیا جسکے دوران ایئر چیف نے افسران اور ایئر مین سے تبادلہ خیال  بھی کیا۔ ائیر اور گرائونڈ کریوز کے ساتھ گفتگو کے دوران ائیر چیف نے پاک فضائیہ کے اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی اور انکی پیشہ ورانہ مہارت کو سراہا۔قبل ازیں ائیر چیف کی سکردو بیس آمد پر پرنسپل سٹاف آفیسرز اور بیس کے اعلی حکام نے ان کا استقبال کیا۔