شہباز گل پر تشدد، تفتیشی کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کا حکم

138
unlicensed arms

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کیخلاف اپیلوں پروفاق کو نوٹس جاری کردیا، عدالت نے کیس کے تفتیشی کو ریکارڈ سمیت آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

 دوران سماعت جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نے شہباز گل کے وکیل سے استفسار کیا کہ بتائیں کس بنیاد پرجسمانی ریمانڈ دیا گیا؟ وکیل بولے آپ عرض کردیں کہ جسمانی ریمانڈ کیوں دیا گیا۔

 جسٹس مظاہرنقوی نے وکیل کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ میں عرض کروں،آپ کیا بات کر رہے ہیں،جج سے ایسے بات کرتے ہیں؟ جس کے بعد وکیل نے الفاظ واپس لیتے ہوئے معذرت کر لی۔

 جسٹس اعجازالاحسن کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بنچ نے سماعت کی، دوران سماعت جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی نے استفسار کیا کہ کیا پولیس نے شہباز گل سے زبان ریکور کرنا تھی جس سے وہ بولا تھا؟

 شہباز گل سے جو ریکوری کی گئی اس کا کیس سے کوئی تعلق ہی نہیں، شہباز گل کو متعلقہ فورم پر درخواست دائر کرنے سے کس نے روکا ہے؟ تشدد کیخلاف شہباز گل کو متعلقہ فورم سے رجوع کرنا ہوگا، جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا پی ٹی آئی حکومت میں کسی پر پولیس نے تشدد نہیں کیا؟ شہبازگل کے وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھا کہ پولیس تشدد کے واقعات کم ہی سامنے آتے ہیں۔