سندھ کے مختلف شہروں میں سیلاب متاثرین کا امداد نہ ملنے پر احتجاج

219
Protests

 کراچی: سندھ کے مختلف شہروں میں سیلاب متاثرین نے امدادنہ ملنے پر احتجاج شروع کردیا۔ دھرنے کے باعث شاہراہوں پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق سکھر، جیکب آباد میں سڑکیں بلاک کردیں، بدین میں سیم نالے میں کٹ لگانے کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے آگئے اور دو الگ الگ مقامات پردھرنا دے دیا،جیکب آباد میں بیگاری کیمپ کے قریب سیلاب متاثرین نے ضلعی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا، مظاہرین نے گڑھی خیرو روڈ پر سڑک بلاک کر دی جس سے رتو ڈیرو، قمبر شہداد کوٹ اور لاڑکانہ جانے والا ٹریفک معطل ہوگیا۔

متاثرین کا کہنا تھا کہ سیلاب اور بارشوں نے ہرطرف تباہی مچادی ہے، گھر سمیت زرعی فصلیں تباہ ہو چکی ہے، خواتین اور بچے سڑکوں پر پناہ لیے ہوئے ہیں لیکن کوئی امداد نہیں مل رہی،سکھر میں متاثرین امداد نہ ملنے کے خلاف روہڑی میں سراپا احتجاج بن گئے۔ مظاہرے میں خواتین اوربچے بھی شریک ہوئے اورفوری امدادکی فراہمی کا مطالبہ کیا،سجاول میں بھی متاثرین کا امداد نہ ملنے پر صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا، ٹھٹھہ ،سجاول شاہراہ پر دھرنا دے دیا۔ دھرنے کے باعث روڈ کے دونوں اطراف گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

سیلاب متاثرین کا کہنا تھا کہ ان کے مکان اور فصلیں ڈوب گئیں لیکن امداد من پسند افراد میں تقسیم کی جارہی ہیں،بدین میں ایل بی او ڈی اسپائنل ڈرین کی آر ڈی 211پر کٹ دینے کے حامی اور مخالفین آمنے سامنے آگئے،کٹ کے حامی گروپ کی جانب سے کھوسکی بائی پاس پر جبکہ کٹ کی مخالفت کرنے والے گروپ نے نیوی چک پر دھرنا دے دیا جس سے بدین سے تھرپارکر چلنے والا ٹریفک معطل ہوگئی۔