جمہوریت کا تماشا

275

جمہوریت کی ایک سادہ سی تعریف یہ بیان کی جاتی ہے کہ ایک ایسی حکومت جو عوام کی ہو، عوام کے لیے ہو اور عوام کے ذریعے چلائی جائے۔ ظاہر ہے کہ یہ کام عوام کا ہجوم نہیں کرسکتا، عوام کے نمائندے ہی کرسکتے ہیں۔ نمائندوں کے چنائو کے لیے انتخابات کا نظام وضع کیا گیا ہے۔ بس عوام ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کرتے، انہیں اسمبلیوں میں بھیجتے اور ان کے ذریعے وفاقی اور صوبائی حکومتیں قائم کرتے ہیں۔ اس کام کے لیے سیاسی جماعتیں خود کو عوام کے سامنے پیش کرتیں اور اپنے منشور سے انہیں متعارف کراتی ہیں، پھر انتخابات کے موقع پر عوام سے اپنے امیدواروں کے لیے ووٹ مانگتی ہیں۔ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن کے نام سے وسیع اختیارات کا حامل ایک ادارہ اپنے فرائض بجا لاتا ہے اور صاف و شفاف انتخابات کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتا ہے۔ جن ملکوں میں پارلیمانی یا صدارتی جمہوری نظام ہے وہاں یہ سارا سسٹم بحسن و خوبی کام کررہا ہے اور تمام جمہوری قدروں کی پاسداری کی جارہی ہے۔ سیاسی جماعتیں عوام کے پاس جانے سے پہلے خود اپنے اندر جمہوریت قائم کرتی ہیں۔ ان کے اندر قیادت اوپر سے مسلط نہیں ہوتی بلکہ ارکان کے ووٹوں سے منتخب ہو کر اوپر آتی ہے۔ ان ملکوں میں الیکشن کمیشن مرکزی یا صوبائی حکومتوں کی صوابدید پر کام نہیں کرتا بلکہ مقررہ وقت پر انتخابات کرانے کے لیے اپنے تمام اختیارات کو استعمال میں لاتا ہے۔ اسمبلیاں اپنے فرائض دیانتداری سے ادا کرتی ہیں اور ان میں ارکان کی خریدو فروخت کا کاروبار نہیں ہوتا۔ اس طرح عوام اپنے جمہوری نظام پر پختہ یقین رکھتے ہیں اور اس سے بغاوت پر آمادہ نہیں ہوتے۔ لیکن پاکستان کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں بظاہر جمہوریت ہے لیکن جمہوری قدروں کو بُری طرح پامال کیا جارہا ہے۔ سیاسی جماعتیں جمہوریت کا دعویٰ تو کرتی ہیں لیکن اپنے اندر جمہوریت قائم کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ انہیں جب انتخابات کے ذریعے حکومت ملتی ہے تو وہ حکومت کو جمہوری انداز میں چلانے کے بجائے آمرانہ طریقے اختیار کرلیتی ہیں اور جمہوریت کو سبوتاژ کرنا
شروع کردیتی ہیں۔ وہ اپنے سیاسی حریفوں کا زندہ رہنا دشوار کردیتی ہیں۔ الیکشن کمیشن کا بنیادی کام یہ ہے کہ وہ بلدیاتی سطح سے لے کر قومی سطح تک بروقت صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے اور بذریعہ ووٹ ’’عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام کے ذریعے‘‘ کے اصول کو کسی صورت پامال نہ ہونے دے، لیکن پاکستان میں الیکشن کمیشن حکومتی مصلحتوں کا پابند نظر آتا ہے۔ بلدیاتی ادارے جمہوری نظام کی بنیاد ہیں ان کے ذریعے عوام کے بہت سے مسائل ان کی دہلیز پر حل ہوجاتے ہیں۔ حکومتیں چوں کہ عوام کو مفلوج بنا کر رکھنا چاہتی ہیں اس لیے وہ بالعموم بلدیاتی اداروں کے انتخابات پر آمادہ نہیں ہوتیں اگر ہوجائیں تو وہ بلدیاتی اداروں اور ان میں موجود عوامی نمائندوں کو اختیارات اور ترقیاتی فنڈز منتقل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتیں۔ اس وقت بھی یہی صورت حال ہے۔ کراچی پاکستان کا بین الاقوامی شہر ہے، اس میں بلدیاتی الیکشن اس لیے بار بار ملتوی ہورہے ہیں کہ صوبائی حکومت اسے کرانے کے حق میں نہیں ہے، اسے ڈر ہے کہ انتخابات کے ذریعے بلدیاتی نظام ان لوگوں کے ہاتھ میں چلا جائے گا جو واقعی اس شہر کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور ماضی میں بھی کرچکے ہیں۔ جب کہ صوبائی حکومت اس بات کے حق میں نہیں ہے وہ تو اس شہر کو مفلوج رکھنا چاہتی ہے۔ صوبائی الیکشن اس سلسلے میں تابع مہمل کا کردار ادا کررہا ہے۔
اب قومی اسمبلی کا قصہ سنیے، یہ وہ ادارہ ہے جو عام انتخابات کے ذریعے قومی سطح پر وجود میں آتا ہے اور اس میں جس جماعت کو اکثریت حاصل ہو وہ مرکز میں حکومت بناتی، حکومتی پالیسیاں تشکیل دیتی اور انتظامی مشینری کے ذریعے ملک کا نظم و نسق چلاتی ہے۔ 2018ء کے عام انتخابات میں تحریک انصاف کو اکثریتی پارٹی کی حیثیت حاصل ہوئی تھی، تاہم یہ اکثریت بلاشرکت غیرے حکومت بنانے کے لیے ناکافی تھی اس لیے اس نے چھوٹی سیاسی جماعتوں کو ساتھ ملا کر حکومت بنائی تھی اور عمران خان وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے تھے، لیکن ان کی حریف سیاسی جماعتوں خاص طور پر مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام نے انہیں ایک دن بھی چین سے حکومت نہیں کرنے دی اور حکومت بنتے ہی احتجاجی تحریک شروع کردی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ عمران خان استعفا دے کر گھر واپس جائیں اور حکومت ہمارے حوالے کردیں۔ عمران خان کو چوں کہ طاقتور ادارے کی سرپرستی حاصل تھی اس لیے وہ بے جگری سے اپنے سیاسی حریفوں کا مقابلہ کرتے رہے اور ان کی گوشمالی بھی کرتے رہے۔ پھر ایک وقت ایسا آیا کہ وہ طاقتور ادارے کی حمایت سے محروم ہوگئے۔ اس طاقتور ادارے نے عمران خان کے سیاسی حریفوں سے کہہ دیا کہ وہ اب نیوٹرل ہوگئے ہیں، اگر عمران حکومت کو گراسکتے ہیں تو گرالیں اس موقع پر عمران کے سیاسی حریف دانشمندی اور تحمل کا مظاہرہ کرتے اور عمران حکومت کو گرانے کے بجائے اسے اپنی مدت پوری کرنے کا موقع دیتے تو عمران خان کے غبارے سے ساری ہوا نکل جاتی اور آئندہ انتخابات میں ان کے لیے عوام کا سامنا کرنا دشوار ہوجاتا، کیوں کہ ان کے سارے دعوے ہوا میں تحلیل ہوگئے تھے اور وہ عوام کی توقعات پر پورا اُترنے میں ناکام رہے تھے، لیکن ان لوگوں کو تو اپنے کرپشن مقدمات ختم کرانے اور نیب کے دانت اکھیڑنے کی جلدی تھی اس لیے انہوں نے اشارہ ملتے ہی عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا ڈول ڈال دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے انہیں اقتدار سے چلتا کیا۔ لیکن اقتدار سے محرومی عمران خان کے لیے عوامی مقبولیت کا زینہ ثابت ہوئی۔ موجودہ حکومت کی نالائقی نے انہیں پاکستان کا مقبول ترین لیڈر بنادیا ہے۔
عمران خان میں سیاسی سوجھ بوجھ ہوتی تو وہ قومی اسمبلی میں ایک مضبوط اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کرتے اور حکومت کو ہر قسم کی منفی قانون سازی سے روک سکتے تھے لیکن اس کے بجائے انہوں نے اپنی پارٹی کے اجتماعی استعفے پیش کرکے اسمبلی کا بائیکاٹ کردیا اور ڈھول بجاتے ہوئے سڑک پر آگئے۔ اسمبلی قوانین کے مطابق استعفوں کی منظوری کے لیے ضروری ہے کہ ہر مستعفی رکن اسمبلی اسپیکر کے سامنے پیش ہو کر اپنے مستعفی ہونے کی تصدیق کرے اور اسپیکر کو یقین دلائے کہ وہ اپنی مرضی سے استعفا دے رہا ہے۔ اس پر کوئی دبائو نہیں ہے۔ اس قانون کے تحت عمران خان سمیت پی ٹی آئی کا کوئی رکن اسمبلی نہ اسپیکر کے سامنے پیش ہوا ہے، نہ اپنے استعفے کی تصدیق کی ہے۔ یہ سب لوگ بدستور قومی اسمبلی کے پے رول پر ہیں، تنخواہیں اور مراعات حاصل کررہے ہیں لیکن اسمبلی کے اجلاس میں آنے کو تیار نہیں۔ ایک اور ڈراما ملاحظہ کیجیے، الیکشن کمیشن نے قومی اسمبلی کی دس نشستوں پر ضمنی انتخابات کا اعلان کیا تو عمران خان لنگر لنگوٹ کس کر فوراً میدان میں کود پڑے اور 9 نشستوں سے بذات خود الیکشن لڑنے کا اعلان کردیا اور ان کے کاغذات منظور بھی کرلیے گئے، حالاں کہ وہ پہلے ہی قومی اسمبلی کے رکن ہیں، انہوں نے ابھی تک اپنے استعفے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ اور کوئی رکن بھی ایک سے زیادہ نشست اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، پھر عمران خان کو یہ انتخابات لڑنے کی اجازت کیسے اور کیوں دی گئی۔ وہ تو کہیے کہ الیکشن کمیشن نے سیلاب اور بارشوں کے سبب ضمنی انتخابات ملتوی کردیے ورنہ اب تک یہ ڈراما بھی اپنے انجام کو پہنچ چکا ہوتا۔ اب الیکشن کمیشن نے پھر انگڑائی لی ہے اور کراچی کے بلدیاتی انتخابات سمیت ضمنی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کردیا ہے۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جمہوریت کے نام پر ملک میں ایک ایسا تماشا لگا ہوا ہے جس کا کوئی سر ہے نہ پیر۔ اس تماشے کے تمام کردار اس طرح ایک دوسرے کے ساتھ اُلجھے ہوئے ہیں کہ بے اختیار افتخارؔ عارف یاد آجاتے ہیں۔
کہانی آپ اُلجھی ہے یا اُلجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہوگا