خراٹے لینے والوں کے لئے بری خبر، کینسر کا سبب بن سکتے ہیں

132
snorers

برسلز:خراٹے لینے والوں کے لیے بری خبر آ گئی ہے کہ اپنی یہ عادت جلد تبدیل کر لیں ورنہ یہ موذی مرض کینسر کے خطرے کی گھنٹی بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق یورپین ریسپائریٹری سوسائٹی (European Respiratory Society) کی حالیہ کانفرنس کے دوران اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ خراٹے لینے والے افراد میں کینسر جیسے جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

یہ انتباہ سوئیڈن کی اپسالا (Uppsala) یونیورسٹی میں ہونے والی تحقیق میں جاری کیا گیا ہے کہ obstructive sleep apnea (او ایس اے) یعنی رات کو سوتے میں سانس رکنے کے عمل کے شکار افراد جو اس کے باعث خراٹے لیتے ہیں ان میں کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، اس کے علاوہ بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اس کے باعث ذہنی صلاحیت بھی کم ہو جاتی ہے۔

اوبسٹریکٹیو سلیپ اپنیا کے شکار افراد کا سانس نیند کے دوران بار بار رکتا ہے جس سے خراٹوں کے ساتھ ساتھ متعدد طبی پیچیدگیوں کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔تحقیق کے مطابق تمباکو نوشی یا الکحل کا استعمال کرنے والے، موٹاپے یا ذیابیطس کے شکار افراد میں او ایس اے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

مذکورہ تحقیق کے دوان تقریبا 62 ہزار سے زائد او ایس اے کے مریضوں پر مشتمل 2 گروپس بنائے گئے تھے جن میں سے 1 او ایس اے کے مریضوں کا تھا جن میں کینسر کی تشخیص ہوچکی تھی جبکہ دوسرا گروپ کینسر سے محفوظ او ایس اے کے مریضوں کا تھا۔مریضوں کی معلومات کا تجزیہ کیا گیا تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ کینسر کے شکار افراد کی نیند بہت زیادہ متاثر ہوتی ہے یا یوں کہہ لیں کہ ان میں او ایس اے کی شدت زیادہ ہوتی ہے۔