پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، بل منظور

156

لاہور: پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) بل 2021 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ 

ایوان کے اجلاس میں بل صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور راجہ بشارت نے پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی البتہ اسپیکر نے اجلاس کو جاری رکھا۔ اسپیکر کی جانب سے اجلاس جاری رکھنے پر اپوزیشن اراکین بینچوں پر کھڑے ہوئے اور شور شرابہ کیا اس دوران ایوان نے کثرت رائے سے لوکل گورنمنٹ بل 2021 کو منظور کرلیا۔

اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کرنے کے لئے قوانین معطل کیے گئے، جو غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔اسمبلی سے منظور ہونے والے بلدیاتی بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے۔ صوبے میں 25 ضلع کونسل اور 11 میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی۔ میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا اور عوام براہ راست ووٹ سے مئیر کا انتخاب کر سکیں گے۔

بل کے مطابق دیہاتوں اور شہروں میں یونین کونسل بنیں گی، تحصیل کونسل اور ٹاونز نئے بلدیاتی ایکٹ میں ختم کردئیے گئے، پنجاب کے ہر گاؤں میں ایک ویلج پنچائت کونسل ہوگی، ہر ضلع میں ضلعی کابینہ ہوگی جبکہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، واسا، پی ایچ ایز میٹرو پولٹین کے میئر کے ماتحت ہوں گی۔