سرچ کمیٹی اردو یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر دینے میں ناکام

431
search committee

وفاقی اردو یونیورسٹی کی انجمن اساتذہ(عبدالحق کیمپس) کے جنرل سیکریٹری روشن علی نے بیان جاری کیا ہے کہ مستقل وائس چانسلر کے تقرر کے لیے صدر پاکستان کے دوست زوہیر عشیر کی سربراہی میں تشکیل دی گئی سرچ کمیٹی کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہئے۔

روشن علی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سرچ کمیٹی نے یونیورسٹی کے 32 لاکھ کئی مہینوں تک جاری اجلاسوں پر خرچ کیے اور اس کے باوجود اردو یونیورسٹی کو مستقل وائس چانسلر دینے میں ناکام رہی اور یونیورسٹی ایک بار پھر قائم مقام وائس چانسلر کی تلاش میں ہے۔

ان کا بیانیہ ہے کہ سرچ کمیٹی کی طرف سے منتخب کیے گئے سر فہرست 3امیدواران میں سے 2 امیدواران کی اہلیت پر سوالیہ نشان آگئے جس کے نتیجہ میں ڈاکٹر شاہد قریشی نے اپنا تقررنامہ جاری ہونے کے باوجود جوائن نہیں کیا جبکہ ڈاکٹر اطہر عطاء چند دن گزارنے کے بعد کینیڈا واپس چلے گئے۔  ڈاکٹر شاہد قریشی 3 امیدواران کی اس فہرست میں پہلے نمبر پر براجمان تھے جن کی پروفیسر ہونے کی اہلیت پر سوال اٹھے جبکہ فہرست میں شامل تیسرے نمبر پر ڈاکٹر ظفر قریشی بھی مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے تھے جس کی تصدیق ہائر ایجوکیشن کمیشن نے کی،  نتیجتاً ڈاکٹر اطہر عطاء  کو مستقل وائس چانسلر تعینات کیا گیا اور کینیڈا سے تشریف لانے والے  ڈاکٹر اطہر عطاء بھی یونیورسٹی کو بحرانوں سے نکالنے میں ناکام رہے اور چند دن یونیورسٹی میں گزارنے کے بعد عید کی چھٹیاں گزارنے کی غرض سے کینیڈا گئے اور آن لائن یونیورسٹی کو چلانے کا تجربہ کرنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد کینیڈا سے ہی اپنا استعفیٰ دے دیا۔

جنرل سیکریٹری انجمن اساتذہ  نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ زوہیر عشیر صاحب اور سرچ کمیٹی کو پاکستان کی 22کروڑ کی آبادی میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو وائس چانسلر کی اہلیت پر پورا اترتا ہو؟ روشن علی نے صدرِ پاکستان و چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ سرچ کمیٹی کی اس ناکامی اور اس کے نتیجہ میں یونیورسٹی میں ایک بار پھر بحران کی کیفیت پیدا ہونے کی تحقیقات کر کے قانونی کارروائی کی جائے۔