قدرتی آفات اور ہماری ذمے داریاں

385

آج کل سیلاب کی جو تباہ کاریاں ہم دیکھ رہے ہیں، اللہ تبارک وتعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔ ان تباہ کاریوں کو دیکھ کر 1992 کا سیلاب یاد آ گیا، ان دنوں راقم چند ساتھیوں کے ساتھ وادی نیلم کے برف پوش پہاڑوں میں موجود تھا، جب اچانک بادل بپھر گئے اور کئی روز تک خوب برسے۔ ہمیں مشکلات تو بہت آئیں مگر اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل سے ہم محفوظ رہے۔ پہاڑ کی چوٹی پر ہونے کی وجہ سے اس طوفان نے جو تباہ کاریاں دریاؤں کے کناروں اور میدانی علاقوں میں مچائیں، اس کا ہمیں کچھ اندازہ نہ ہوا۔ بی بی سی کی اردو نشریات کے ذریعے پتا چلتا کہ سیلاب نے میدانی و پہاڑی علاقوں میں بہت تباہی مچائی ہوئی ہیں۔ البتہ ہمیں سنگینی کا بالکل اندازہ نہ ہوا، ہم اسے لائٹ موڈ میں لیتے ایک دوسرے سے ہنسی مذاق کرتے مثلاً گجرات کے دوستوں کو تنگ کرتے کے تمہارا صدیوں سے چرایا ہوا جوتوں کا خزانہ سیلاب میں بہہ گیا ہے، سرگودھا اور ملتان کے دوستوں کو کہتے تمہارے حقے پانی میں بہہ گئے ہیں اسی طرح سرحد کے ساتھیوں سے کہتے تمہارے نسوار کے کارخانے سیلاب کی نظر ہو گئے ہیں وغیرہ وغیرہ۔
جیسے ہی بارشوں کا سلسلہ تھما تو راقم کو برادر عبدالرحیم (راولپنڈی) کے ہمراہ باقی دوستوں سے پہلے واپس جانا پڑا۔ ہم دونوں جیسے ہی پہاڑ کی چوٹی سے نیچے اُترے تو سیلاب کی تباہ کاریوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر ششدر رہ گئے، بڑے بڑے درخت، پتھر، جانور، دریا کے کنارے واقع دکانیں مکان اور پل سب کچھ پانی اپنے ساتھ بہا کر لے جا چکا تھا۔ لوگوں کی کثیر تعداد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے بے یارو مددگار پڑی ہوئی تھی۔ بے سروسامان لوگوں کی یہ حالت زندگی میں پہلی بار دیکھی تو صحیح معنوں میں لوگوں کے مصائب کا اندازہ ہوا۔ پلوں کے ساتھ سڑکیں بھی بہہ چکی تھیں، آمد و رفت کے تمام سلسلے بند ہو چکے تھے۔ راقم اور اس کے ساتھی کو شاردہ سے مظفر آباد تک پیدل آنا پڑا۔ ہم دن بھر چلتے، سلائڈنگ اور بھارتی فوجیوں کی گولیوں سے بچتے بچاتے بمشکل دن بھر پندرہ سولا کلومیٹر ہی طے کر پاتے، رات کسی بچے کھچے ہوٹل یا کسی ٹوٹے پھوٹے مکان کے فرش پر گزارتے اور صبح ہوتے ہی پھر سے اپنے سفر کا آغاز کر دیتے۔ راستے میں مقامی سیب، بسکٹ اور کولڈرنک مل جاتی جس سے پیٹ پوجا کرتے۔ کچھ نیک بندے تو انتہائی مناسب دام پر چیزیں دے دیتے بلکہ رقم بھی بڑی مشکل سے وصول کرتے۔ جبکہ کچھ اللہ کے بندے اصل قیمت سے پچاس گنا زیادہ رقم وصول کرتے۔ ایک رات ہمیں سڑک کنارے بچ رہنے والے ایک کھوکھا نما ہوٹل میں گزارنی پڑی، وہ چارپائیاں کرایہ پر دے رہا تھا ہم نے پوچھا کیا کرایہ لو گے، اس نے کرایہ بتایا تو ہم نے کہا دو چارپائیاں دے دو اس نے پوچھا کتنے آدمی ہو، ہم نے کہا دو تو اس نے دوسری چارپائی یہ کہتے ہوئے دینے سے انکار کر دیا کہ دو بندوں کے لیے ایک چار پائی ہی ملے گی۔ ہم نے زیادہ رقم کی پیشکش کی مگر وہ نہ مانا آخر کار ہم دونوں ایک ہی چارپائی پر اس کو کوستے ہوئے سو گئے چارپائی چھوٹی تھی اور ہم دونوں ہی لمبے تڑنگے بہرحال جیسے تیسے ہوٹل والے کو برا بھلا کہتے رات کچھ جاگتے کچھ سوتے بسر کر ہی لی۔
اسی طرح زلزلے کے دنوں میں بھی جب لوگوں کی امداد کے لیے متاثرہ علاقوں میں جانے کا اتفاق ہوا تو اس وقت جو حالات وہاں دیکھے وہ بھی کسی قیامت سے کم نہ تھے، بچے اسکولوں کی عمارتوں کے نیچے باپ دکانوں کی چھتوں اور مائیں گھروں کے ملبہ کے نیچے، کیا قیامت صغریٰ کا منظر تھا۔ مصیبت کی اس گھڑی میں جو ان لوگوں کی حالت ہوتی ہے اس کا پتا انہیں کو ہوتا ہے جن پر بیت رہی ہوتی ہے۔ دور بیٹھ کر ہم اس کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ایسے حالات کا مقابلہ انسانی وسائل سے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف سے امتحان کی گھڑی ہوتی ہے۔ یہاں سرکاری مشینری، ہنگامی ادارے، نجی و سرکاری اہل کار، رضاکار سب بے بس ہوتے ہیں۔ آپ اپنے سامنے اپنے پیاروں کو زندگی سے ہاتھ دھوتے، زندگی بھر کی اپنی جمع شدہ پونجی، اپنے خوبصورت گھر مال مویشی ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور سوائے رونے دھونے یا اللہ تبارک وتعالیٰ کو یاد کرنے کے کچھ نہیں کر سکتے۔
اللہ رب العزت مصائب میں دھنسے لوگوں کہ ساتھ ساتھ مصائب سے بچے ہوئے لوگوں کو بھی آزما رہا ہوتا ہے۔ اس موقع پر سرکاری و غیر سرکاری اداروں اور عوام کی ذمے داری ہوتی ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں اپنے ان بھائیوں کو از سر نوع زندگی کے آغاز کے لیے تعاون کریں۔ الحمدللہ ان حالات میں ہمارے عوام بڑھ چڑھ کر آگے بڑھتے ہیں، اکثر دیکھا ہے کہ لوگ خلوص نیت کے ساتھ گلی محلوں میں متاثرین کی بحالی کے لیے امدادی سامان جمع کرتے ہیں اور بھاگم بھاگ متاثرہ علاقے کی طرف پہنچ جاتے ہیں ابھی راستے ہی میں ہوتے ہیں تو اکثر بہروپیے قسم کے لوگ متاثرہ ہونے کا ڈھونگ رچا کر زبردستی ان سے سامان وغیرہ لے لیتے ہیں۔ ان میں سے اکثر ان کے کام کا نہیں ہوتا جو وہ پھینک دیتے ہیں۔ اس طرح ایک تو سامان کے ضائع ہونے کا نقصان ہوتا ہے دوسرا سفید پوش اصل متاثرین تک امداد پہنچ ہی نہیں پاتی۔ راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ عوام نقصان سے کہیں زیادہ امداد اکٹھی کر لیتے ہیں مگر منظم طریقہ کار نہ ہونے کی وجہ سے آدھی سے زاید امداد ضائع ہو جاتی ہے۔ ایسے مواقع پر دیکھا گیا ہے کہ پاک فوج، الخدمت فاؤنڈیشن، فلاح انسانیت، ایدھی فاؤنڈیشن، الصفہ فاؤنڈیشن جیسے کئی سرکاری و غیر سرکاری اداروںں اور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رضاکاروں کی ٹیمیں بڑے سلیقے اور مہارت سے کام کر رہی ہوتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم انفرادی و اجتماعی طور پر جو بھی تعاون و مدد کرنا چاہیں وہ کسی نہ کسی سرکاری و غیر سرکاری مذہبی و سیاسی تنظیم ہی کے ذریعے ہی کریں۔ تا کہ صحیح معنوں میں اصل
حقداروں تک آپ کی امداد پہنچ سکے۔
معروف ماہر معیشت جناب محسن بشیر نے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کی ہنگامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ کی سہولت کے لیے انتہائی مختصر اور ٹو دی پوائنٹ ایک فہرست تیار کی ہے۔ جس سے آپ کی طرف سے دی جانے والی امداد سے متاثرہ علاقے کے لوگ بھرپور اور فوری مستفید ہو سکتے ہیں اور آپ کی امداد کے ضائع ہونے کے چانس بھی نہیں رہتے۔
1۔ خشک ایندھن (ماچس، موم بتی، مٹی کا تیل، سولر لیمپ، لکڑی، کیونکہ چولہے تک جلنے کی پوزیشن میں نہیں)
2۔ پینے کا صاف پانی (نلکے کام نہیں کر رہے اور بجلی سیلاب زدہ علاقوں میں احتیاطاً کاٹ دی جاتی ہے)
3۔ خشک خوراک (چونکہ پکا ہوا کھانا صرف ایک وقت کام آئے گا جب کہ خشک خوراک دو تین وقت کام دے سکتی ہے)
4۔ چادریں (کمبل یا رضائیوں کی جگہ صرف صاف چادریں، پولی تھین کی چادریں، فرش پر بچھانے کی دریاں، ترپال، مچھر دانیاں)
5۔ سلے ہوئے کپڑے جو فوری پہنے جا سکیں (کپڑے سینے کی سہولت کہیں میسر نہیں ہے)
6۔ پلاسٹک کے جوتے (عام جوتے وہاں قابل استعمال نہیں ہیں، جگہ جگہ کھڑے پانی میں عام جوتے کی سلائی کھل جاتی ہے)
7۔ خشک دودھ (چھوٹے بچوں کے لیے یا بچوں کی خوراک کے دیگر پیکٹ)
8۔ جانوروں کے لیے خشک چارہ (انسانوں کو پھر بھی امداد مل رہی ہے، جانوروں کا پرسان حال کوئی نہیں)
9۔ خیمے (مارکیٹ میں پہلے ہی شارٹ ہیں)
10۔ سینیٹری پیڈز (انتظامات چونکہ اکثر مرد حضرات کر رہے ہوتے ہیں اس لیے یہ پہلو رہ جاتا ہے)
سامان ضروریات مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ سے عافیت کی دعائیں بھی مانگتے رہیں۔ اللہ رب العزت ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔