عمران خان کی سیکورٹی پر ماہانہ 2 کروڑ اخراجات آتے ہیں، اسلام آباد پولیس

230

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ میں اسلام آباد پولیس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیکورٹی سے متعلق بتایا ہے کہ اس وقت پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی سیکورٹی پر تقریباً 266 اہلکارمامور ہیں۔

سیکورٹی اہل کاروں کی یہ تعداد 5 سرکاری اداروں پر مشتمل ہے، جس میں اسلام آباد پولیس ، خیبر پختونخوا پولیس ، گلگت بلتستان پولیس اور وزارت داخلہ کی طرف سے فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے جوان شامل ہیں ۔ پرائیویٹ لوگ اس کے علاوہ ہیں ۔ سیکورٹی پر تقریبا 2 کروڑ روپے ماہانہ کا خرچہ آتا ہے۔

کمیٹی اجلاس میں حکومتی اور پی ٹی آئی کے سینیٹرز کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے پی ٹی آئی کے 3سینیٹرز کو خصوصی طور پر کمیٹی میں بلائے جانے پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ یہ پارٹی کا اجلاس تو نہیں ہے، جلسہ کروانا ہے کیا ؟ جبکہ وزیرقانون کے ریمارکس کے ردعمل میں سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ میاں نواز شریف کی سیکورٹی پرساڑھے 3 ارب روپے کا خرچہ آتا تھا۔2ہزار دو سو لوگ میاں نواز شریف کی سیکورٹی پر رہے ہیں ۔

بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا اجلاس چیئرمین کمیٹی سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا ، اجلاس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کی سیکورٹی سے متعلق معاملہ زیر غور آیا۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ہمیں اطلاعات ملیں تھی کہ سابق وزیر اعظم سے سیکورٹی ہٹا دی گئی ہے، اس موقع پر چیئرمین کمیٹی نے عمران خان کی تعریف کی جس پرحکومتی ارکان نے اسے سیاسی گفتگو قرار دے دیا۔ رکن کمیٹی سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ میں جا رہا ہوں سیاسی تقریر ہو رہی ہے۔لاکھوں روپیہ میٹنگ پر لگتا ہے۔ سینیٹر اعجاز چوہدری نے کہا کہ میں سیاست دان ہوں اور ہر بات سیاسی کروں گا۔عمران خان کی سیکورٹی واپس کرنا کریمنل ہے۔اس سے بڑی زیادتی اور کوئی نہیں ہوگی ۔سابق وزیر اعظم کی بیٹی کو پروٹوکول دے رہے ہیں۔

سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ کیا آپ کو شاہد خاقان عباسی، راجہ پرویز اشرف نظر نہیں آئے ۔یا تو یہ کہا جائے کہ جتنے سابق وزیر اعظم ہیں ان سب کو برابر سیکورٹی دی جائے ۔ہر بندے کی حفاظت ہونی چاہئے۔ایک ریڑھی والے کی بھی حفاظت کرنی چاہئے۔سینیٹر مولا بخش چانڈیو نے پی ٹی آئی کے تین سینیٹرز کو خصوصی طور پر کمیٹی میں بلائے جانے پر اعتراض اٹھایا اور کہا کہ یہ پارٹی کا اجلاس تو نہیں، یہ آپ نے پارٹی اجلاس بلایا ہے، جلسہ کروانا ہے کیا ؟۔

سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سیکورٹی پر کبھی اعتراض نہیں اٹھایا گیا کیونکہ ان کو مناسب سیکورٹی ملتی رہی۔عمران خان اپوزیشن کے سب سے بڑے لیڈر ہیں ان کو تھریٹ ہے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ عمران خان حقیقت ہیں اور سابق وزیر اعظم ہیں۔ ہمارے وزیراعظم کو جب جیل میں ڈالا گیا تو خان صاحب نے کہا تھا پنکھا بھی اتروانا ہے اور اے سی بھی اتروانا ہے۔

آئی جی اسلام آباد پولیس نے عمران خان کی سیکورٹی سے متعلق کمیٹی کو بتایا کہ تقریباً اس وقت سابق وزیراعظم کے پاس 266لوگ تعینات ہیں ، یہ تعداد پانچ سرکاری آرگنائزیشنز پر مشتمل ہے جس میں اسلام آباد پولیس ، خیبر پختونخوا پولیس ، گلگت بلتستان پولیس اور وزارت داخلہ کی طرف سے فرنٹیئر کانسٹیبلری اور رینجرز کے جوان بھی شامل ہیں ۔پرائیویٹ لوگ اس کے علاوہ ہیں ۔ سیکورٹی پر تقریبا ًدو کروڑ روپیہ مہینے کا خرچہ آتا ہے۔

کامل علی آغا نے کہا کہ میاں نواز شریف کی سیکورٹی پرساڑھے 2 ارب روپے کا خرچہ آتا تھا۔ 2ہزار دو سو لوگ میاں نواز شریف کی سیکورٹی پر رہے ہیں ۔ عمران خان کو سیکورٹی تھریٹ ہونے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں آئی جی نے کہا کہ تھریٹ ہے تو 266لوگ تعینات ہیں۔