لگتا ہے تبدیلی شروع ہو چکی

608

گزشتہ چند دنوں میں کچھ عجیب منظر دیکھے، جس سے لگتا ہے تبدیلی شروع ہو چکی ہے۔ جماعت اسلامی پاکستان کے رہنما محترم ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی کے بیٹے سابق ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان حمزہ صدیقی کے نکاح کی خبریں و تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھنے کا اتفاق ہوا، نماز عصر کے بعد مسجد قباء فیڈرل بی ایریا کراچی میں محترم امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے مختصر درس قرآن کے ساتھ ایجاب و قبول اور دعا کروائی۔ نکاح کی یہ تقریب سنت مصطفیؐ کی نصیحت کے مطابق آسان نکاح کی تقریب تھی۔ نہ مہندی نہ آتشبازی نہ فضول رسوم نہ جہیز۔ نکاح بھی مسجد میں ہوا اور رخصتی بھی مسجد سے ہوئی۔ لڑکی والوں کو کسی بینکوئٹ کی بکنگ کروا کر دولہا والوں کے لیے نواع اقسام کے کھانوں کے انتظام کی ضرورت ہی نہ پڑی۔ اس انتہائی سادہ و با برکت تقریب نکاح میں امیر جماعت اسلامی پاکستان محترم سراج الحق، قائدین جماعت اسد اللہ بھٹو، محترم راشد نسیم، محمد حسین محنتی و محترم حافظ نعیم الرحمن سمیت جماعت اسلامی کے ذمے داران ، کارکنان و دوست احباب کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ آج کے اس دور میں تو دلہا والوں کی طرف سے دلہن والوں پر جہیز، باراتیوں کی خاطر تواضع سمیت بہت ساری ناجائز رسوم کے مطالبے تو عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ سلام ہے دلہا دلہن کو اور ان کے تحریکی والدین کو کہ جنہوں نے آج کے اس دور چمک دمک میں صاحب حیثیت ہوتے ہوئے بھی سنت نبوی کی پیروی کو خاندانی و علاقائی رسم و رواج پر ترجیح دی۔
اس ماڈرن دور میں بڑے شہروں کیا چھوٹے شہروں میں بھی مخلوط محفلوں کا رواج اور بے ہودہ قسم کے گانوں کی گونج و میوزک کی دھنوں میں دلہا دلہن کی ایک ساتھ ہال میں انٹری لازم و ملزوم ہو چکی ہے۔ تکلیف دہ بات تو یہ ہے کہ دینی جماعتوں کے لیڈران و کارکنان کے بچوں کی شادیوں پر بھی ایسی محفلوں کا انعقاد معمول بنتا جا رہا ہے۔ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کے ایک سابق رکن برادر محترم محمد اقبال المعروف ڈاکٹر صاحب کے بیٹے ڈاکٹر اسامہ اقبال کے ولیمہ میں شرکت کا موقع ملا، تبدیلی کے اثرات یہاں بھی سر چڑھ کے بول رہے تھے۔ خواتین و مرد حضرات کے لیے مکمل با پردہ علٰیحدہ علٰیحدہ نشستیں اور گانے بجانے و میوزک کی بے ہودہ دھنوں کی جگہ درس قرآن کا پر وقار اہتمام کیا گیا تھا۔ اس پر رونق و با برکت دعوت ولیمہ میں جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی قائدین لیاقت بلوچ، ڈاکٹر فرید پراچہ، برادر محترم اظہر اقبال حسن و اقبال اعوان سمیت سابقین جمعیت جامعہ پنجاب و دیگر دوست احباب کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
رجیم چینج کے بعد مہنگائی نے جس طرح یک دم اونچی اُڑان بھری، عام و خاص سب لوگوں کی زندگیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسلام آباد جانے کا اتفاق ہوا اچھی خاصی نامی گرامی بس میں بذریعہ ایڈوانس بکنگ سیٹ بک کروائی، پہلی بار اس کمپنی کی بس کو مقررہ وقت سے لیٹ روانہ ہوتے ہوا دیکھا، پھر راستے میں جگہ جگہ سواریاں اٹھاتے بلکہ یہاں تک کے چٹ پٹے چنے اور مزے دار مرنڈا بیچنے والے بھی بس میں اپنی کارروائی کرتے نظر آئے۔ اور پھر تھوڑی سی درخواست پر ہی بس ڈرائیور نے میری منزل مقصود کے قریب بغیر اسٹاپ کے اتار کر مزید حیران کر دیا۔ ان مہربانیوں کا جب ڈرائیور سے پوچھا تو اس نے بر جستہ جواب دیا کہ بھائی صاحب چار دن تجربہ کاروں کی حکومت اور رہ گئی تو شاید ٹرانسپورٹ ویسے ہی بند ہو جائے۔ منزل مقصود قریب تھی پیدل ہی منزل کی طرف جانے کا ارادہ کیا ابھی چند قدم ہی اٹھائے تھے کہ ایک صاحب جو وضع قطع سے خاصے امیر آدمی لگ رہے تھے نے اپنی گاڑی روک کر دروازہ کھولا اور بیٹھنے کا اشارہ کیا منع کرنے کے باوجود زبردستی بٹھا لیا پتا چلا کہ میری طرح کے دو راہ گیر پہلے سے بھی انہوں نے بٹھائے ہوئے ہیں۔ جب سے رجیم چینج ہوئی ہے اس دن سے مہنگائی سے پریشان حال لوگوں کو صاحب اپنے دفتر آتے جاتے یہ سہولت فی سبیل اللہ پہنچا رہے ہیں۔ حقیقی تبدیلی تب ہی آتی ہے جب ہمارے رویوں میں تبدیلی آئے۔