پانی میں پلاسٹک ذرات روکنے والا دنیا کا پہلا خصوصی فلٹر تیار

240

سیئول: آج کے جدید دور میں جہاں ہر جانب آلودگی پھیلتی جا رہی ہے، وہیں پلاسٹک کسی نہ کسی صورت میں پانی سمیت ماحول میں ہرجگہ موجود ہیں اور اسی بنا پر اب ایک ماحول دوست فلٹر بنایا گیا ہے جو پانی سے مائیکروپلاسٹک کے ذرات چھان سکتا ہے۔ اسے مائیکروپلاسٹک روکنے والا دنیا کا پہلا فلٹر بھی قرار دیا گیا ہے۔

جنوبی کوریا میں واقع  ڈائیگو گیونبک انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ماحول دوست ٹیکنالوجی وضع کی ہے جو بالخصوص پانی سے خردبینی (مائیکرو) اور نینوجسامت کے ذرات نکال باہر کرتی ہے۔

دوسری جانب پانی میں عام طور پر پلاسٹک کے ذرات 5 ملی میٹر تک ہوسکتے ہیں اور وہ انسانوں اور جانور دونوں کے لیے ہی انتہائی مضر ثابت ہوسکتے ہیں۔ یہاں تک کہ انسانی خون میں بھی پلاسٹک کے یہ ذرات دیکھے گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم مائیکروپلاسٹ کے انسانی اثرات پر مسلسل غور کررہی ہے۔

ڈائیگو انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر چو ہیکوئل اور ان کے ساتھیوں نے کوریا کے دیگر اداروں کے اشتراک سے برقی آلہ بنایا ہے جو الیکٹروفوریسس طریقے سے پانی سے پلاسٹک کے باریک ذرات علیحدہ کرتا ہے۔اس فلٹر کی تحقیقات نینو انرجی نامی جرنل میں شائع ہوئی ہیں۔