بھارت میں مسلماں خواتین کو مودی کے دور حکومت میں امتیاز سلوک کا سامنا

283
clean chit to Modi

نئی دہلی:  بھارت کی ایک ارب35کروڑ آبادی میں سے تقریبا 14فیصد مسلمان ہیں لیکن سرکاری یا نجی شعبے کی ملازمتوں میں ان کی یکساں نمائندگی نہیں ہے۔

میڈیا  رپورٹس کے مطابق حکومت کی طرف سے مقرر کردہ متعدد کمیشنوں نے کہا ہے کہ مسلمان تعلیم اور روزگار کے معاملے میں بھارت کے دیگر سماجی گروپوں کے مقابلے میں سب سے پیچھے ہے۔ان کمیشنوں میں سے ایک نے جس کی سربراہی ریٹائرڈ جسٹس راجندر سچر کر رہے تھے ،کہاکہ بھارت کے مسلمان سماجی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ہیں۔

کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ ان میں سے 8فیصد سے بھی کم باضابطہ شعبوں میں ملازم ہیں۔2014کے بعد سے صورتحال مزید خراب ہوئی جب وزیر اعظم مودی کی ہندوتوا حکومت اقتدار میں آئی۔ حکومت مسلمانوں اور ان کے معاشی اور مذہبی حقوق کو نشانہ بنانے کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے۔

ایک ماہرتعلیم اورانسانی حقوق کے کارکن اپوروانند نے کہاکہ تعصب ہمیشہ سے تھا لیکن بی جے پی اور آر ایس ایس کے غلبے کی وجہ سے لوگ اب مسلمانوں کو تمام معاشی شعبوں سے خارج کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کے حقوق کا مقصد مسلمانوں کو معاشی طور پر کمزورکرنا، انہیں محرومی اور محتاجی کی حالت پر مجبور کرنا ہے تاکہ وہ مستقل طورپرایک محکوم قوم میں تبدیل ہو جائیں۔

لیڈبائی فانڈیشن کی طرف سے جون میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں مختلف شعبوں میں داخلہ سطح کی ملازمتوں کے لیے بھرتی کے عمل میں مسلمان خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور تعصب کا بھی انکشاف ہواہے۔ اسی طرح ممبئی میں قائم حقوق نسواں کی ایک تنظیم نے ایک تحقیق میں بتایاکہ نئی دہلی اور ممبئی جیسے میٹروپولیٹن شہروں میں بھی مسلمانوں کو رسمی شعبوں میں تعصب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رسمی شعبوں میں مسلمان خواتین کی کمی مسلمانوں کے معاشی اخراج کی طرف منظم اور ادارہ جاتی پالیسی کی نشاندہی کرتی ہے۔