!!!ہنڑ تسی رسیداں کڈو

381

پی ٹی آئی اور اس کے لیڈر عمران خان کئی برس سے مسلم لیگیوں سے ایک ہی مطالبہ کررہے تھے کہ رسیدیں لائو… تم لوگ جھوٹے ہو۔ جلسوں میں یہی بات ہوتی تھی۔ پریس کانفرنسوں میں یہی ہوتا تھا۔ فیس بک، ٹویٹر، واٹس ایپ سمیت تمام سماجی ذرائع ابلاغ اس سے بھرے ہوتے تھے، مذاق بنتے تھے، رسیداں کڈو اوئے۔ یہ اوئے بھی عمران خان کی اصطلاح تھی کبھی اوئے شوباز شریف کبھی اوئے زرداری۔ لیکن جب سے اقتدار سے نکالے گئے ہیں ایک شخصیت کے نام کے ساتھ اوئے کہنے کی ہمت نہیں ہورہی حالاں کہ بہت تنقید کرچکے ہیں۔ خیر مسئلہ درپیش یہ ہے کہ نواز شریف ان کے صاحبزادگان اور بھائی بھتیجے وغیرہ رسیدیں لانے میں ناکام رہے اور خان صاحب کی گڈی اونچی اڑتی گئی۔ وہ وزیراعظم بھی بن گئے، اس کوشش میں جلسے میں لفٹ سے گر گئے لیکن پھر اٹھ گئے، تاہم اب الیکشن کمیشن کے سامنے مقدمے میں جس طرح گرے ہیں اب ان کا اٹھنا مشکل لگ رہا ہے۔ لوگ حیران ہیں کہ پاکستانی قوم کی قسمت میں کیا ایسے ہی لوگ ہیں جو ناجائز طریقے سے اقتدار حاصل کرتے ہیں، غیر ملکیوں سے فنڈ لیتے ہیں اور دوسروں کو امپورٹڈ کہتے ہیں۔ بات صرف عمران خان کی نہیں ہے، شریف خاندان کیا واقعی بہت شریف ہے۔ انہوں نے کوئی بدعنوانی نہیں کی۔ زرداری کیا واقعی بڑے اچھے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کہانیاں تو سب کی زبان زد عام بھی ہیں اور ریکارڈ پر بھی ہیں۔ کسی کے مقصود چپڑاسی اور ایان علی سامنے ہوتے ہیں تو کوئی ابراج گروپ کے عارف نقوی کے پیچھے چھپ رہا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میرا چور زندہ باد تیرا چور مردہ باد کا کھیل مسلسل چل رہا ہے اور اس میں ساتھ دیتا ہے میڈیا۔ جو اپنی وقعت خود بھی کھوتا جارہا ہے اور پاکستانی اسمبلی، سیاستدانوں اداروں سب کو بے وقعت کررہا ہے۔
دھماکا یہ ہوا کہ الیکشن کمیشن نے ممنوع فنڈنگ کیس المعروف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیا ہے۔ عمران خان کے حلفیہ بیانات کو جھوٹا قرار دیا ہے۔ غیر ملکی شہریوں اور اداروں سے فنڈز کے حصول کو ممنوع فنڈنگ قرار دیا ہے اور جھوٹے بیان حلفی داخل کرکے اکائونٹس چھپانے کے عمل کو آئین شکنی قرار دیا ہے۔ اس سارے مقدمے میں ایک شخص اکبر ایس بابر کی مسلسل جدوجہد قابل قدر ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اکبر ایس بابر خود کہاں کھڑے ہیں لیکن ایک فرد کی جدوجہد کی تعریف تو کرنی چاہیے۔ پی ٹی آئی اور عمران خان کے خلاف فیصلے نے سیاسی انتشار کی راہیں بھی کھول دی ہیں۔ عمران خان جس بلند آواز سے اسٹیبلشمنٹ کو للکار رہے تھے اس کی مثال نہیں ملتی لیکن اب ان کی جانب سے کہا جانے والا ہر لفظ ایک ایسے شخص کی بات قرار دیا جائے گا جو حلفیہ غلط بیانی کرتا ہے۔ جو غیر ملکیوں سے بھی رقوم وصول کرتا ہے۔ اس فیصلے سے بھی سیاسی جماعتیں ہی کمزور ہوئی ہیں۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ خان اب کتنا ڈٹے گا۔ یا پیچھے ہٹے گا۔ لیکن خرابی تو ہوچکی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ الیکشن کمیشن نے سب جھوٹ ہی کہا ہے۔ اس میں بہت کچھ سچ ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ گواہی گھر سے ملی ہے۔ اسے گھر کا بھیدی بھی سمجھا جا رہا ہے لیکن جس قدر محنت ہوئی ہے اور پاکستان کے باہر بھی جو کام ہوا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اکبر ایس بابر بھی کسی کے آگے کے آدمی ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے میں تاخیر ہوئی تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔ ایک تو خان صاحب کی حکومت نے رکاوٹیں ڈالیں۔ دوسرے یہ کہ جو لوگ پاکستان میں کسی مسٹر کلین کو اقتدار تک نہیں پہنچنے دیتے وہ کسی کو بھی اقتدار میں لانے سے قبل ہی اسے باہر نکالنے کے لیے کئی ایک منصوبے تیار رکھتے ہیں تا کہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ چناں چہ فارن فنڈنگ کیس آیدبکار کے طور پر رکھا ہوا تھا۔ بالآخر کام آیا۔
پی ٹی آئی کے خلاف فارن فنڈنگ یا ممنوع فنڈنگ کیس کے فیصلے سے قبل پی ٹی آئی سربراہ عمران خان الیکشن کمیشن اور کمشنر کے خلاف مہم چلانے لگے تھے اور فیصلے سے دو روز قبل الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا اعلان کردیا تھا۔ پی ٹی آئی رہنمائوں اور ہمنوائوں کا رویہ بھی عجیب ہے۔ اگر الیکشن کمیشن کا فیصلہ غلط ہے تو بڑے اعتماد سے عدالت جائیں اور ریلیف حاصل کریں۔ لیکن جس قسم کے جواب دیے جارہے ہیں وہ لاجواب ہیں جیسا کہ فواد چودھری کہتے ہیں کہ 16 اکائونٹس قانونی ہیں، ہم عدالت میں ان کو قانونی ثابت کریں گے۔ ان سے کسی نے کہا کہ وہ اکائونٹس غیر قانونی ہیں ان کے قانونی ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ وہ آپریٹ ہورہے ہیں اصل چیز تو یہ ہے کہ انہوں نے حقائق چھپائے۔ اکائونٹس کو ظاہر نہیں کیا۔ بیش تر رہنمائوں کا کہنا یہ ہے کہ ہماری چوری تو پکڑی گئی اب مسلم لیگ اور پی پی کے کیسز کا بھی فیصلہ کیا جائے۔ یہ ایسا ہی ہے کہ پپو نے ٹافی کھائی تھی تو گڈو بھی کھائے گا۔ یا پپو نے بغیر اجازت اسکول کی چھٹی کی تھی تو گڈو بھی کرے گا۔ ارے دونوں اپنے اپنے عمل کا جواب دیں۔ ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ اسد عمر صاحب نے کہا کہ حکومت کو شرمندگی ہوئی ہے۔ لیکن مخدوم شاہ محمود قریشی نے کیا خوب کہا ہے کہ عمران خان پھر سرخرو ہوگئے۔ اس مصرعہ طرح پر تو بے طرح داد دینی چاہیے۔ یعنی ایک شخص کا حلفیہ بیان غلط ثابت ہوا یعنی جھوٹا نکلا اسے سرخ رو کہا جارہا ہے۔ ہاں دنیا کے جن ممالک کی مثالیں خان صاحب دیا کرتے ہیں وہاں ایسا فیصلہ آجائے تو پارٹی سربراہ سچ مچ شرم سے سرخرو ہوجاتا ہے اور اکبر ایس بابر بلاوجہ رجیم چینج کی بات کررہے ہیں استعفا مانگ رہے ہیں۔ ارے ڈھٹائی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے۔ پی ٹی آئی والوں کا ایک بیانیہ یہ بھی ہے کہ یہ فارن فنڈنگ نہیں ممنوع فنڈنگ ہے۔ یعنی چوری کی ہے ڈاکا تو نہیں مارا… اور یہ ڈھٹائی اب عروج پر ہے۔ پی ٹی آئی سربراہ اور دیگر ہمنوا بڑے زور دار طریقے سے کہا کرتے تھے کہ رسیداں کڈو (رسیدیں لائو) تو اب ان کے مخالفین کہیں گے کہ ہنڑ تسی رسیداں کڈو۔