حکومت، مقتدرہ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ

383

اِن دنوں سوشل میڈیا پر آرمی چیف کی اس ٹیلی فونک گفتگو کا بہت چرچا ہے جو انہوں نے امریکی نائب وزیر خارجہ سے آئی ایم ایف کے قرضے کی قسط کے بارے میں کی ہے اور مبینہ طور پر امریکی اہلکار سے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے کے لیے آئی ایم ایف پر دبائو ڈالے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے اگرچہ اس گفتگو کی تصدیق کی ہے لیکن اس کی تفصیل میں جانے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ گفتگو کی تفصیل آئی ایس پی آر ہی بتا سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک صاحب نے لکھا ہے کہ جب ’’رجیم چینج‘‘ کی بات چل رہی تھی تو آرمی چیف سے کہا گیا تھا کہ جن لوگوں کو آپ لارہے ہیں وہ ملک کی معیشت کو سنبھال نہیں سکیں گے۔ لیکن اس وقت انہوں نے اس بات پر کان نہیں دھرا، اب ملکی معیشت کو دبائو سے نکالنے کے لیے خود انہیں امریکا کے آگے ہاتھ پھیلانا پڑا ہے جب کہ سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ یہ کام آرمی چیف کا نہیں ہے۔ وہ شاید بھول رہے ہیں کہ ان کے دور حکومت میں جب وہ اور فوجی قیادت ایک پیج پر تھی تو آرمی چیف نہایت حساس خارجہ امور انجام دے رہے تھے اور یہ کہا جارہا تھا کہ عمران حکومت نے خارجہ تعلقات کا شعبہ آرمی چیف کے سپرد کردیاہے اور وہ بہترین صلاحیتوں کے ساتھ یہ خدمت انجام دے رہے ہیں۔ عمران حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلاف اس بنیاد پر نہیں ہوا کہ آرمی چیف اپنے منصب سے ماورا کردار کیوں ادا کررہے ہیں بلکہ اختلاف کی خلیج اس وقت حائل ہوئی جب عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے اپنے آئینی اختیارات بروئے کار لانے پر اصرار شروع کردیا تھا۔ یہ اختلافات اس وقت شدت اختیار کرگئے جب عمران خان جنرل فیض حمید کو ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر برقرار رکھنا چاہتے تھے جب کہ آرمی چیف نے انہیں تبدیل کرنے کے احکامات جاری کردیے تھے۔ عمران خان نے اپنے آئینی اختیارات کے بل پر مزاحمت تو کی لیکن پلّہ آرمی چیف کا ہی بھاری رہا۔ جب مزاحمت زیادہ بڑھ گئی تو عمران حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا بگل بجادیا گیا۔ یہ ’’ہماری بلی ہمی کو میائوں‘‘ کی عملی تفسیر تھی۔
موجودہ حکومت میں اگرچہ تیرہ چودہ جماعتیں شامل ہیں لیکن یہ سب کاغذی شیر ہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت کسی میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ فوجی قیادت کی مخالفت کرسکے۔ اِن جماعتوں نے اگر فوجی مقتدرہ کی مخالفت کی بھی تھی تو اقتدار سے باہر کی تھی، اقتدار میں آنے کے بعد وہ اسی طرح مقتدرہ کی تابع فرمان ہیں جس طرح کبھی عمران حکومت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آرمی چیف موجودہ حکومت کو برقرار رکھنا اپنی ذمے داری سمجھ رہے ہیں وہ اسے معاشی مشکلات سے نکالنا چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنا وجود برقرار رکھ سکے۔ اسی ذمے داری کے تحت انہوں نے آئی ایم ایف کے معاملے میں امریکی نائب وزیرخارجہ سے بات کی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ حکومت مقتدرہ کی حمایت کے بغیر ایک دن بھی برقرار نہیں رہ سکتی۔ اسے عوام کا اعتماد حاصل نہیں ہے۔ عوام مہنگائی، بیروزگاری، ٹیکسوں کی بھرمار اور پٹرول و ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ مزید برآں لوڈشیڈنگ نے ان کا ناطقہ بند رکھا ہے، جب کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب سے جو تباہی پھیلی ہے اس سے بھی موجودہ حکومت کی نااہلی سامنے آگئی ہے۔ ان حالات میں مقتدرہ حکومت کو سنبھالا نہ دے تو اس کا ٹکنا محال ہے۔
پنجاب میں اتحادی جماعتوں کی ہزیمت کے بعد حکومت کے کار پردازوں کا مطالبہ تھا کہ الیکشن کمیشن تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کے فیصلے کا جلد اعلان کرے تا کہ عمران خان کی بڑھتی ہوئی عوامی مقبولیت کو روکا جاسکے۔ الیکشن کمیشن میں یہ کیس گزشتہ سات آٹھ سال سے زیر التوا چلا آرہا تھا جسے خود تحریک انصاف کے ایک بانی رکن نے دائر کیا تھا اور یہ موقف اختیار کیا تھا کہ تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین نے بیرون ملک ممنوع ذرائع سے پارٹی فنڈز حاصل کیے ہیں جسے حسابات کے گوشوارے میں چھپایا گیا ہے اور پارٹی چیئرمین نے اس سلسلے میں جھوٹا بیان حلفی دائر کیا ہے۔ چناں چہ پارٹی اور اس کے چیئرمین کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن میں اس کیس کو رکوانے کی پوری کوشش کی۔ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار کو بھی عدالت میں چیلنج کیا جب اس میں ناکامی ہوئی تو سماعت میں رکاوٹ ڈالنے اور تادیبی و تاخیری حربے اختیار کرنے میں کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی گئی۔ بار بار وکیل بدلے گئے، سماعت میں رکاوٹ ڈالی گئی، الیکشن کمیشن اور چیف الیکشن کمشنر کے خلاف الزام تراشی کا طوفان برپا کیا گیا۔ اس طرح ہزار رکاوٹوں کے باوجود الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت تو مکمل کرلی گئی لیکن فیصلہ سنانے میں تاخیر ہوتی گئی۔ آخر 2 اگست کو فیصلے کی گھڑی آگئی اور فیصلہ سنا دیا گیا۔ فیصلے کے مطابق تحریک انصاف پر ممنوع فارن فنڈنگ کا الزام ثابت ہوگیا ہے اور اس کے چیئرمین کا بیان حلفی بھی جھوٹا قرار پایا ہے۔ فیصلے کے مطابق تحریک انصاف کو شوکاز نوٹس جاری کردیا گیا ہے جب کہ فیصلے کے تحت حکومت تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کے خلاف قانونی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے۔ اس طرح تحریک انصاف اور اس کے چیئرمین کے خلاف اتحادی جماعتوں نے لڑائی کا پہلا رائونڈ جیت لیا ہے۔ اب اس لڑائی کا دوسرا اور حتمی رائونڈ عدالتوں میں لڑا جائے گا۔ دیکھیے وہاں کس کی جیت ہوتی ہے لیکن بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی پر بھی ممنوع فارن فنڈنگ کے الزامات ہیں اور الیکشن کمیشن میں ان کے کیس بھی زیر سماعت ہیں جب تک ان کا فیصلہ نہیں آتا تحریک انصاف کو سنگل آئوٹ کرنے سے بات نہیں بنے گی، عوام اسے تحریک انصاف کے ساتھ ناانصافی ہی سمجھیں گے۔