جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کیلیے ایرانی اور یورپی نمائندے ویانا پہنچ گئے

180
nuclear weapon

ویانا: عالمی جوہری معاہدے پر ایک بار پھر مذاکرات کا دور شروع ہونے والا ہے۔ا س سلسلے میں ایران اور یورپی یونین کے نمائندے آسٹریا کے دارالحکومت ویانا پہنچ گئے ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ علی باقری اور یورپی یونین کے نمائندے اینرک مورا ویانا پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ 7 سال پہلے ہونے والے جوہری معاہدے کی بحالے کے حوالے سے مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب امریکی خصوصی ایلچی برائے ایران رابرٹ میلے نے کہا ہے کہ واشنگٹن جوہری معاہدے کے حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے کے لیے نیک نیتی کے ساتھ کوشاں ہے، تاہم اس سلسلے میں جلد ہی یہ پتا چل جائے گا کہ ایران اس کے لیے کتنا تیار ہے۔ واضح رہے کہ رابرٹ میلے بھی مذاکرات کا حصہ بننے کے لیے ویانا پہنچ رہے ہیں۔

دریں اثنا روس نے بھی مذاکرات میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ روسی ایلچی میخائل اولیانوف کے مطابق جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن جلد دوبارہ بحال ہونا شروع ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جوہری معاہدے کے فریق پانچ ماہ کے بعد ایک بار پھر مذاکرات کے لیے ویانا آ رہے ہیں جب کہ ماسکو بھی اس سلسلے میں تعمیری بات چیت کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا دور گزشتہ ماہ قطر کے دارالحکومت دوحا میں ہوا تھا، جو 2 دن جاری رہنے کے بعد بغیر کسی نتیجے پر پہنچے ہی ختم ہوگیا تھا۔