جماعت اسلامی کا بجلی بلوں میں ٹیکس وصولی پر ‘‘آل کراچی تاجر کنونشن’’ کا اعلان

161

کراچی: جماعت اسلامی کراچی کی جانب سے بجلی بلوں میں تاجروں سے ٹیکس وصولی کے خلاف آل کراچی تاجر کنونشن منعقد کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے بلوں میں  ریٹیلر، تاجر اور دکانداروں پر ظالمانہ اور جبری ٹیکس کے خلاف جمعہ 5 اگست کو 3بجے دن نیو ایم اے جناح روڈ پر عظیم الشان ”آل کراچی تاجر کنونشن“ ہوگا، پوری تاجر برادری اور تنظیموں سے اپیل ہے کہ کنونشن میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں اور ایسے ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں جو قانونی اور آئینی جدوجہد کے ذریعے اپنا حق لینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ کے الیکٹرک کا لائسنس فوری منسوخ کرکے اسے قومی تحویل میں لیا جائے اور اس کا فارنزک آڈٹ کیا جائے۔وفاقی حکومت یہ بھی بتائے کہ جون 2018سے اگست2022تک کے الیکٹرک کس کے کنٹرول میں ہے؟کراچی کے تاجروں سے ٹیکسوں کے نام پرظلم کیا جارہا ہے، کے الیکٹرک خود اپنی ساکھ کھوچکی ہے، حکومت اسے کیسے اختیار دے سکتی ہے کہ وہ ریٹیلر، تاجر اور دکانداروں سے فکس ریٹیلر سیلز ٹیکس کوصول کرے۔

حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ ایک پرائیویٹ کمپنی کو سہولت کار بنا کر کیوں نوازا جارہا ہے؟ ایف بی آر تاجر تنظیموں اور چیمبر آف کامرس سے مشاورت کر کے فکسڈ سیلز ٹیکس کا منصفانہ اور قابل عمل نظام وضع کرے،کے الیکٹرک کے بلوں میں ناجائز اور ظالمانہ ٹیکس کسی صورت قبول نہیں ہے۔ تاجروں کے اس فیصلے کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ جب تک بجلی کے بلوں سے ٹیکس ختم نہیں کیا جائے گا وہ بل ادا نہیں کریں گے۔

امیر جماعت اسلامی کراچی نے کہا کہ شہر قائد میں نئی مردم شماری درست طریقے اور اس بنیاد پر کی جائے کہ جو جہاں رہتا ہے اسے وہیں شمار کیا جائے گا۔اگر اس بنیاد پر مردم شماری نہیں کی گئی تو یہ جھوٹ اور فراڈ کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ قومی ادارہ شماریات، حکومت پاکستا ن اس حوالے سے تمام، ٹی او آر عوام کے سامنے لائے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص کو یہ اختیار ملنا چاہیے کہ وہ یہ چیک کرے کہ اسے شمار کیا گیا ہے یا نہیں؟۔اگر اس طریقے کار کے مطابق مردم شماری نہیں کی گئی تو قوم کے 32سے 33ارب روپے ضائع کرنے کی کیا ضرورت ہے؟۔

ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعرات کو ادارہ نورحق میں شہر کی بدترین صورتحال، تاجرو ں کے مسائل اور آئندہ کے لائحہ عمل کے حوالے سے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب امراء کراچی ڈاکٹر اسامہ رضی، مسلم پرویز، سکریٹری کراچی منعم ظفر خان،ڈپٹی سکریٹری عبدا لرزاق خان ،کے الیکٹرک کمپلنٹ سیل کے نگراں عمران شاہد،سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری ودیگر بھی موجود تھے۔

حافظ نعیم الرحمن نے مزیدکہاکہ کے الیکٹرک نے شہر میں ایک مرتبہ پھر سے بدترین لوڈ شیڈنگ شروع کردی ہے،بجلی کے بلوں میں بے انتہا اضافے،فیول ایڈجسٹمنٹ کے باوجود کئی کئی گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے،ہم تمام اداروں سے بھی سوال کرنا چاہتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ 900میگاواٹ بن قاسم تھری کا پلانٹ لگادیا جائے گا جس سے لوڈ شیڈنگ ختم کردی جائے گی،جس کی تاریخیں بھی دی جاتی رہیں اور آج بھی خبریں گردش کررہی ہیں کہ مشین کے پرزے خراب ہوگئے ہیں جن کو منگوانے میں 3مہینے لگ سکتے ہیں،اس کے بعد پلانٹ چلائے جاسکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6ماہ سے مسلسل نیپرا کی تمام سماعت اور عدالت میں جو بھی سماعتیں ہوئیں ان سب میں کے الیکٹرک کی جانب سے ہی مؤقف سامنے آتا رہا، لیکن عملاً صورتحال یہ ہے کہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ عوام کی ضرورت کے مطابق پلانٹ نہیں چلاتی لیکن بلوں میں فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر اضافی وصولی کی جاتی ہے ۔ کراچی کے عوام کے خلاف نیپرا حکومت اور کے الیکٹرک کا شیطانی اتحاد ہے، ہر حکومت الیکٹرک جیسی مافیا کو تمام مراعات دیتی ہے لیکن یہ مافیا شہریوں کوکسی بھی قسم کا ریلیف دینے کے لیے تیار نہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے مزیدکہاکہ ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی جو تمام حکومتوں اور حکمران پارٹیوں کے قریبی دوست ہیں ان سے تمام ہی حکمرا ن جماعتوں نے فائدہ حاصل کیا ہے اور یہ کمپنی جون 2018میں ڈیفالٹ کرگئی کیونکہ اس نے کرپشن کی تھی۔جس پر کہا گیا تھا کہ ان کے اثاثے فروخت کر کے سرمایہ کاروں کو واپس کی جائیں گی۔

وفاقی حکومت بتائے کہ جون 2018سے اگست 2022تک کے الیکٹرک کمپنی کا کنٹرول کس کے پاس ہے؟اگر”KES کے“ای ایس پاورسامنے ہے جو کہ پہلے ہی ابراج گروپ کی ہولڈنگ کمپنی ہے،اس کا واضح مطلب یہ ہے کہKESپاور کی مالک کمپنی ڈیفالٹ کرگئی ہے،اس کے اثاثے فروخت کر کے انویسٹر کو دیے جارہے ہیں  تو عوام کو بتایا جائے کہ اصل حقیقت کیا ہے لیکن کسی بھی حکومت نے عوام کو جواب دینا ضروری نہیں سمجھا،حکمران ویسے تو آپس میں ایک دوسرے کے خلاف بڑھ چڑھ کر باتیں کرتے ہیں لیکن یہ بتانے کو تیار نہیں ہیں کہ کے الیکٹرک کا اس وقت کنٹرول کس کے پاس ہے۔

حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ سوال صرف جماعت اسلامی ہی نہیں بلکہ چیف جسٹس آف پاکستان نے بھی میڈیا کے سامنے اُٹھایا تھا کہ کے الیکٹرک کے اصل مالکان کون ہے؟ہوسکتا ہے کہ اس میں انڈیا کا ایجنٹ بھی شامل ہولیکن اس کے بعد یہ سوال معدوم ہوگیا جو خود ایک سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جون 2018میں طے کیا گیا تھا کہ حکومت کے الیکٹرک کا انتظام خود سنبھال لے گی لیکن فی الحا ل ابھی تک ایسا کچھ نہیں کیا گیابلکہ کے الیکٹرک ڈائریکٹر زکے نام پر وائٹ کالر کرمنل ہم پر مسلط کردیے گئے۔ جن پر سالانہ اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور یہ رقم کراچی کے عوام سے اربوں روپے فیول ایڈجسٹمنٹ اور دھوکا دہی سے وصول کر کے پوری کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ہی جاگیردار اور وڈیرے عوام کو خون چوس رہے تھے اب وائٹ کالر کرمنل بھی کارپوریٹ سیکٹر میں داخل ہوکر معیشت کو تباہ و برباد کر رہے ہیں، یہ کرمنل قوم کے سامنے جھوٹے اعداد وشمار پیش کر تے ہیں پوری قوم اور معیشت کو تباہ کرنے میں ان کا کردار سامنے آرہا ہے، ہمارا بس ایک ہی سوال ہے کہ بتایا جائے کہ کے الیکٹرک کی مالک کمپنی کون ہے؟حکومت اس کمپنی کو کیوں فیور دے رہی ہے؟

یہ سوال ان تمام حکمرانوں سے بھی ہے جنہوں نے اپنے اپنے دور حکومت میں کے الیکٹرک کو سپورٹ کیا اورسپریم کورٹ آف پاکستان سے بھی ہم یہ اپیل کرتے ہیں کہ برسوں سے کے الیکٹرک کے خلاف جماعت اسلامی نے پٹیشن دائر کی ہوئی ہے اس کی سماعت کی جائے اور اہل کراچی کو کے الیکٹرک کے ظلم اور لوٹ مار سے نجات دلائی جائے۔