حسن البنا شہید کی پاکستان سے محبت (آخری حصہ)

270

اسی حوالہ سے امام حسن البنّا نے قائداعظم گورنر جنرل پاکستان کے نام ٹیلی گرام میں بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر تعزیت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ مسلمانان ہند کے بہنے والے خون پر اخوان المسلمون گہرے رنج وغم کا شکار ہے ہم اپنے تمام فوت شدگان کے لیے شہادت اور ان کے اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا کرتے ہیں اور یہ کہ ہم نے ماؤنٹ بیٹن کو فوری تار ارسال کرتے ہوئے اس زیادتی کو روکنے میں غفلت برتنے پر ذمے دار ٹھیرایا ہے ہم دل کی گہرائیوں سے آپ کے ساتھ ہیں اور عملاً آپ کے شانہ بشانہ ہیں اس ضمن میں ہم نے مصر میں موجود سفارتی حلقوں تک بھی اپنے جذبات پہنچاتے ہیں۔ ہم اپنے دینی بھائیوں کی خون ریزی رکوانے کے لیے جو کچھ ممکن ہوا ضرو ر کریں گے آپ ہمیں جو بھی ہدایت فرمائیں گے اس کی روشنی میں ہم اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے‘‘۔ امام حسن البنّانے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ تحریک پاکستان کے بزرگ راہنما اور ممتاز دینی قائد علامہ شبیر احمد عثمانی کے نام بھی اظہار یکجہتی کیا۔ یہ ٹیلی گرام امام حسن البنّا شہید نے 18 نومبر 1947ء کو دیا۔ جس میں علامہ شبیر احمد عثمانی کو یقین دلایا کہ اس مبارک سفر میں ہمارے پاکستان بھائی تنہا نہیں ہیں اخوان المسلمون جو کہ ان اقوام والم کی اکثریت کی ترجمانی کرتی ہے اور جس کا شعار یہ ہے ’’اللہ ہمارا مقصود ہے رسول ہمارا اسوہ ہیں قرآن ہمارا دستور ہے جہاد ہمارا راستہ ہے اور اللہ کی راہ میں موت ہماری سب سے بڑی آرزو ہے‘‘ وہ تب تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک کہ پاکستان کو نصرت واستحکام نصیب نہ ہو۔ اس راستے میں جو بھی قربانیاں دینا پڑیں ضرور دیں گے۔ امام حسن البنّا نے مزید فرمایا کہ ’’اگرچہ مسلم ممالک کی حکومتیں اسلام کی تعلیمات سے منحرف ہو چکی ہیں لیکن اب یہ اللہ کی مشیت ہے کہ حکومت پاکستان کی بنیاد ہی اسلام پررکھی جائے۔ اب اسلام ہی اس کا شعار، اس کی متاع، اس کی دینی بنیاد اسلام ہی اس کی ترقی کا رزقرارپائے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے یہ فضیلت اسی ملک کے لیے بچارکھی تھی تاکہ و ہ دوسروں سے پہلے اور دوسروں سے نمایاں ہوکر اس فضیلت کو پالے‘‘۔
پاکستان کی مشکلات اور رنج وغم کے ماحول میں امام حسن البنّا شہید نے 24 نومبر 1947ء کو فرمایا ’’ہم وہ مبارک گھڑیاں کبھی فراموش نہیں کرسکتے جن میں مصر کو آپ کی زیارت اور آپ سے ملاقات کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس وقت خون ریزی کے واقعات سننے کو آرہے ہیں اور جس طرح مسلمانوں کی نوتشکیل ملک کے خلاف کی جارہی ہے اس کی بازگشت مصر اور عالم عرب کے ہر ذی شعور باشندہ اور اخوان المسلمون کے ہر کارکن نے بطور خاص اپنے دل میں محسوس کی۔ آپ یقین رکھیں کہ ہم آپ کے شانہ بشانہ رہ کر دل وجان سے ہر قربانی دینے کو تیار ہیں‘‘۔ امام حسن البنّا شہید نے جواہر لعل نہرو وزیراعظم ہند کو 14 جون 1948 راج گوپال گورنر جنرل نیودہلی اور شری پرکاش بھارتی کونسلر جنرل مقیم کراچی کے نام ٹیلی گرام میں حیدرآباد دکن کی آزاد ریاست ہر مسلمان اور ہرعرب باشندے کو بے حدعزیز ہے اس کے خلاف کوئی بھی جارحیت عالم اسلام کے ہر باشندے کو اشتعال دلانے کا سبب بنے گی اور اس ریاست کے خلاف کسی بھی جارحیت پر ہم ہاتھ پر ہاتھ دھرے نہیں بیٹھیں گے۔ وزرائے خارجہ کے نام بھی یکم اگست 1947ء کو ٹیلی گرام کیا کہ بھارت میں انگریز سامراج کی پشت پناہی اور تعاون سے بھارت میں ہندؤں اور سکھوں کے ہاتھوں بیمانہ ظلم وستم پر مجرمانہ خاموشی پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ آزاد ریاست حیدرآباد کی حمایت کریں انہوں نے اس ٹیلی گرام میں مسلم سفیروں کی غیرت وحمیت اسلامی کو چیلنج کیا اور مطالبہ کیا کہ بھارت کی مسلم کش پالیسی کے خلاف آواز اُٹھا کر مسلم برادری کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
پاکستان کے پہلے یوم آزادی پر یکم اگست 1947ء کو گورنرجنرل آف پاکستان قائداعظم محمدعلی جناحؒ کو ٹیلی گرام ارسال کرتے ہوئے فرمایا ’’اسلامی ریاست پاکستان کی تشکیل پر پورے عالم اسلام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے اسلامی نظام حیات کی اقامت پر اخوان المسلمون کی خوشی اپنے دوسرے بھائیوں سے کہیں زیادہ ہے۔ پاکستان کی آزادی سے ہمارے اس یقین کو مہمیز ملی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی یقینا اسلامی نظام کی اس منزل تک پہنچائے گا اور اس اسلامی ریاست کو برکتیں عطافرمائے اور اسے اپنی نصرت خاص سے نوازے۔ انہوں نے مزید فرمایا ’’ہم پاکستان کی اس مبارک عید آزادی کے موقعے پر اس کے معزز عوام کے حکیم حکومت اور قائداعلی (محمدعلی جناح) کی خدمت میں دلی مبارک باد اور معطر تحیات پیش کرتے ہوئے خوشی محسوس کرتے ہیں‘‘۔
پھر وہ وقت بھی آیا جب نوزائیدہ مملکت پاکستان اپنے حقیقی قائد مخلص راہنما قائداعظم محمدعلی جناح کی قیادت سے محروم ہوگئی۔11 ستمبر 1948ء کو انتقال ہوا۔ ان کے انتقال سے فوری فائدہ اُٹھاتے ہوئے 3 دسمبر 1948ء کو علی الصباح بھارت کی مسلح افواج نے ریاست حیدرآباد پر حملہ کردیا جس کے نتیجہ میں دولاکھ مسلمان شہید، ہزاروں خاندان اُجڑ گئے۔ مسلمانوںکو ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا اور بے شمار مساجد شہیدکردی گیئں۔ اخوان المسلمون کے قائد امام حسن البنّا شہید نے فوری طور پر مسلم ممالک کے سفیروں کی غیرت اور حمیت اسلامی کو للکارا اور بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر مجرمانہ خاموشی کو شدید تنقید کا نشانہ
بنایا۔ اس مردحق شناس نے مسلمانان عرب اور عالم اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج اگر ہندؤں کی جارحیت کو نہ روکا گیا تو وہ دن دور نہیں جب بلاد عرب بھی ہندؤ تہذیب وتمدن کی لپیٹ میں آجائے گا۔ اس مرد قلندر کی یہ پیشن گوئی آج برحق ثابت ہورہی ہے۔ بھارت کی ہندو تہذیب تمام بلاد عرب عالم اسلام اور متحدہ عرب امارات میں جڑ پکڑ رہی ہے۔ بلاد عرب کے حکمرانوں کی برین واشنگ کی جارہی ہے اس نے اپنی معیشت کے ذریعے ان بلاد عرب کے حکمرانوں کی گردنیں دبا رکھیں ہیں ان کے دل ودماغ سے اسلام کی غیرت وحمیت اور اسلامی اخوت وچارہ کا جنازہ نکال دیا ہے۔ آج نہ صرف ہندوستان بلکہ فلسطین، برما ارکان، مقبوضہ کشمیر اور دوسرے ممالک میں مسلمان گاجر مولی کی طرح ذبح کیے جارہے ہیں مگر ان ہندؤ ذہنیت کے حامل عرب حکمرانوں نے مجرمانہ خاموشی اختیار کر رکھی ہے اِس مجرمانہ خاموشی کی وجہ سے بھارت اور دوسرے اسلام دشمن حکومتوں نے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے اس سے قبل اخوان المسلمون کے لاکھوں رضاکاروں نے اسرائیل کی فوج کو زبردست ہزیمت سے دوچار کررکھا تھا اور اسرائیل فلسطین پر قابض نہ ہوسکا تھا۔ چنانچہ اسرائیل نے استعمار کے ایجنٹوں اور مغربی تہذیب کے عیاش مسلم حکمرانوں کو استعمال کرکے امام حسن البنّا کو شہید کروا دیا۔ اخوان پر پابندی لگادی گئی۔ اب جاکر اسرائیل اپنے ہی نام نہاد مسلمان بداعمال حکمرانوں کی وجہ سے فلسطین پر قابض ہوگیا اگر امام حسن البنّا شہید نہ کیے جاتے تو اخوان کے لاکھوں رضاکار جہاد فلسطین کی کامیابی کے بعد جہاد آزادی کشمیر میں امام حسن البنّا کی قیادت میں بھرپور شرکت کرکے جہادکشمیرکو کامیابی سے ہمکنار کرتے مگرہائے افسوس۔۔۔
اے عقل والو (اگر عقل رکھتے ہو) تو (اس المناک) ماضی سے عبرت حاصل کرو۔