لڑکھڑاتی حکومت اور ڈگمگاتی معیشت

350

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی ڈپٹی سیکرٹری آف اسٹیٹ وینڈی شرمین سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے کہا ہے کہ آئی ایم ایف پر اپنا اثر رسوخ استعمال کرکے پاکستان کو قرض کی قسط جاری کرائیں۔ اس کے ساتھ جنرل قمر جاوید باجوہ کی امریکی سینٹ کام میں بھی کچھ فوجی حکام سے ٹیلی فونک رابطے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا ذاتی طور پر قرض کی قسط کے لیے سرگرم ہونا ان معاملات میں حد درجہ بگاڑ کا پتا دیتا ہے۔ ملک میں ایک سیاسی حکومت قائم ہے اور یہ کسی ایک سیاسی جماعت کی نہیں بلکہ ملک کی تمام چھوٹی بڑی جماعتوں کی حکومت ہے۔ تحریک عدم اعتماد سے چند دن پہلے شہباز شریف نے جس مائنس عمران خان حکومت کا تصور پیش کیا تھا موجودہ منظر نامہ اس کے تصور کی عملی تصویر ہے۔ ملک میں برس ہا برس تک برسر اقتدار رہنے والی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی اور ان کے ساتھ مختلف ادوار میں اتحادی کے طور پر شریک اقتدار رہنے والی تمام جماعتیں اس وقت حکومت میں ہیں۔ اس تصویر میں صرف ایک شخص مائنس ہیں وہ عمران خان ہیں گوکہ اب دو صوبوں میں ان کی حکومت قائم ہو چکی ہے لیکن معیشت اور خارجہ پالیسی کے فیصلوں میں ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یوں وفاقی اور قومی منظر میں انہیں مائنس ہی سمجھا جاسکتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت اپنا نقش قائم کرنے سے قاصر ہے۔
حکومت کی تجربہ کاری اور شہباز شریف کے بہترین منتظم ہونے کا تاثر کانچ کی طرح کرچی کرچی ہو چکا ہے۔ حکومت کے قیام کا مقصد صرف اقتدار اور اختیار کا استعمال ہی معلوم ہوتا ہے۔ یوں لگتا ہے اسی اور نوے کی دہائی کی سیاسی کلاس نے اس موقع کو اپنی اگلی نسل کو اقتدار کی وادیوں اور گزرگاہوں سے آشنا کرنے کے لیے استعمال کیا۔ آصف زرداری، شہباز شریف اور مولانا فضل الرحمن کے جانشین اقتدار کی وادیوں میں اپنا تعارف کراچکے ہیں۔ یوں یہ مائنس عمران خان تمام جماعتوں کی حکومت ہے جسے ملک کی ہئیت مقتدرہ کی بھرپور حمایت اور معاونت حاصل ہے۔ حکومت پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ یہ امریکا کی مداخلت سے قائم ہوئی مگر ابھی تک یہ سب کچھ بے کار ہی ثابت ہوا ہے۔ ڈالر نے اقبال کے شاہین کو بھی بلند پروازی میں پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ڈالر ڈھائی سو روپے تک پہنچ گیا ہے اور اُڑان کا یہ سفر یہیں رک جائے تو غنیمت سمجھا جائے گا۔ پٹرولیم مصنوعات، گیس اور بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ اس کا فطری نتیجہ مہنگائی میں ہوش رُبا اضافہ ہے۔ حالات پر قابو پانے کی ہر تدبیر اُلٹی ہو کر رہ گئی ہے۔ حکومت اگر امریکا کی پسند سے قائم ہوئی ہے تو پھر امریکا اس پر مشرف حکومت کی طرح دھن کیوں نہیں برساتا مگر امریکا حکومت پر مہربان ہونے سے گریزاں ہے۔ امریکی ایما پر آئی ایم ایف کا رویہ بھی سخت ہے۔ بلاول زرداری امریکا کا رویہ تبدیل کرانے سے قاصر نظر آتے ہیں تو مفتاح اسماعیل آئی ایم ایف کے دل میں نرمی پیدا کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ دن یونہی گزر رہے ہیں اور سری لنکا کا انجام سامنے نظر آرہا ہے۔
ملک معاشی طور پر دیوالیہ پن کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ عمران خان نے آرمی چیف کی طرف سے امریکا سے رابطے پر یہ تبصرہ کیا ہے کہ یہ آرمی چیف کا کام نہیں اور اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ حالات بہت بگڑ گئے ہیں مگر شیخ رشید احمد کا کہنا ہے کہ مداخلت نرم ہو گرم ہو یا سخت مل کر ملک بچانا ہے۔ یوں تحریک انصاف اور اس کے اتحادی اس معاشی صورت حال کی بہتری کے لیے آرمی چیف کے اس اقدام پر نرم گرم موقف اپناتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ شیخ رشید احمد حالات کے بھنور سے نکالنے کے لیے فوج کی مداخلت کی حمایت کر رہے ہیں تو عمران خان اسے تجربے اور صلاحیت کا بھانڈہ پھوٹ جانے کے زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک سوال تو اہم ہے کہ یہ کیسی امپورٹڈ حکومت ہے کہ جس کو امریکا نے یکا وتنہا چھوڑ دیا ہے؟۔ یوں لگتا ہے کہ امریکا کے مطالبات حکومت کی تبدیلی سے بہت آگے اور اونچے ہیں۔ اسی لیے وہ آئی ایم ایف اور فیٹف کے ذریعے پاکستان کے حکمرانوں کو ناک سے لکیریں نکلوانے کی کوشش کر رہا ہے۔ موجودہ حکومت سیاسی جماعتوں کی عددی قوت کے لحاظ سے قومی اور اجتماعی تو ہے مگر عوامی سطح پر حکومت پانیوں پر تیری ہوئی کاغذ کی نائو ہے یا ہوا کے دوش پر کٹی ہوئی پتنگ۔
عمران خان کے طوفانی جلسوں نے سیاسی عدم استحکام کے تاثر کو مزید گہرا بنادیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اپنے سارے انڈے اور ڈنڈے ایک ایسی حکومت کی ٹوکری میں ڈالنے سے گریزکر رہا ہے جو عوامی سطح پر بے تاثر اور بے اثر ہے۔ پنجاب کے حالیہ ضمنی انتخابات کے نتائج کے موقع پر ایک امریکی ماہر سیاسیات مائیکل کوگلمین نے ٹویٹر پر اس حکومت کے لیے ’’رولنگ اینڈ ریلنگ پی ایم ایل این گورنمنٹ‘‘ یعنی مسلم لیگ ن کی ڈگمگاتی ہوئی حکومت کے الفاظ استعمال کیے تھے۔ اب تک کے حالات بتاتے ہیں کہ آئی ایم ایف امریکا کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے ہے جونہی وہ امریکیوں کے ماتھے کی شکنیں ختم ہوتا دیکھے گا پاکستان کے لیے قرض کی قسط جاری کر دے گا یا امریکا اسے آنکھ مار کر ’’گو اے ہیڈ‘‘ کا اشارہ کرے گا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا ٹیلی فونک رابطہ امریکا کی جبینوں کی شکنیں دور کرنے کا باعث بنتا ہے یا نہیں اس کا فیصلہ چند دن میں ہوجائے گا مگر یہ بات توطے ہے کہ ڈپلومیسی اور اسٹرٹیجک تعلقات کی دنیا میں ’’فری لنچ‘‘ یعنی مُفت کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ میں پاکستانیوں سے زیادہ اور کون اس حقیقت سے واقف ہے۔