کراچی کی ابتر صورتحال اور سندھ حکومت

197

کراچی میں حالیہ بارش کے دوران سڑکوں کا برا حال ہوگیا تباہی کے سبب گٹر لائنیں بھی بند ہوگئیں جس کے سبب سڑکوں پر گٹر اور بارش کا پانی بہہ رہا ہے۔ یہ پانی دو تین دن میں سڑک کو تباہ کردیتا ہے شہر کی بڑی شاہراہوں سمیت اب چھوٹی چھوٹی سڑکیں اور اندرونی گلیاں بھی تباہ ہوچکی ہیں۔ بارش ابھی مزید ہونی ہے۔ جہاں جہاں سڑکیں تباہ ہوئی ہیں اب تک ان کی مرمت نہیں ہوئی ہے۔ مرمت کے نام پر پہلے تو تھوڑا بہت ڈامر ڈال دیا جاتا تھا لیکن اب مٹی سے سڑک بنانے کا تجربہ بھی کیا جارہا ہے جو ہلکی سی بارش سے بھی بہہ جاتی ہے۔ گزشتہ 13یا چودہ برس سے سندھ پر پیپلز پارٹی حکمران ہے۔ اس نے اس عرصے میں کراچی اور دیگر شہروں کے بلدیاتی اداروں پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے۔ یہ کنٹرول خدمت کے لیے تو نہیں لیا گیا یقینا ان اداروں کا بجٹ کسی کی بھی رال ٹپکانے کے لیے کافی ہے جب حکومت سندھ نے تمام بلدیاتی اداروں کا کنٹرول اور بجٹ اپنے پاس رکھا ہے تو اسے واٹر بورڈ ایس بی سی اے، کے ایم سی وغیرہ کو ہدایات دینے کے بجائے تمام کام خود کرنے چاہئیں۔ جتنا اختیار لیا ہے اتنی ذمے داری تو لی جائے۔ صوبائی حکومت نے بڑی ہوشیاری سے بلدیاتی اداروں پر سیاسی ایڈمنسٹریٹر بھی تعینات کر رکھے ہیں تاکہ یہ ادارے اپنے حق کے لیے کوئی آواز بھی نہ اٹھاسکیں۔ حیرت اور افسوس کا مقام یہ ہے کہ بڑے بڑے حادثات کے باوجود صوبائی حکومت پر کوئی اثر نہیں ہوا کسی قسم کی شرمندگی بھی نہیں اس پر بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانے بلکہ ان سے بھاگنے کی کوشش کی جارہی ہے۔