ن لیگ، پی پی اور پی ٹی آئی مالی معاملات میں صاف شفاف نہیں، لیاقت بلوچ

152

لاہور: نائب امیر جماعتِ اسلامی اور مجلسِ قائمہ سیاسی امور کے صدر لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ، پی پی پی اور پی ٹی آئی مالی معاملات میں صاف شفاف نہیں۔ اِن کے ہاتھوں پاکستان کی سیاست، معیشت، پارلیمان اور سماجی قدریں بھی صاف شفاف نہیں ہوسکتیں۔ الیکشن کمیشن کے فیصلے سے پی ٹی آئی کا عملی کردار سامنے آ گیا ۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سیلاب زدگان کی امدادی کارروائیوں میں مصروف کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی اور دیگر افسران، جوانوں کی شہادت پوری قوم کے لیے المیہ اور صدمہ ہے۔ متاثرین سیلاب کی جانیں بچانے والے خود قربان ہوگئے۔ شہدا قوم کے محسن اور فخر ہیں۔ متاثرہ خاندانوں سے جماعتِ اسلامی تعزیت کا اظہار کرتی ہے۔

لیاقت بلوچ نے کہا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے متنازعہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کا فیصلہ سنادیا۔ پی ٹی آئی کا عملی کردار واضح ہوگیا کہ اس میں اخلاق، امانت، دیانت، غلطیوں کو تسلیم کرنے اور صاف شفاف سیاسی کردار کی کوئی حیثیت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے فنڈز پر کوئی ممانعت اور قانونی رکاوٹ نہیں، مسئلہ غیرقانونی، بے نامی ذرائع اور فنڈز کا غلط استعمال ہے۔ ہر سال پارٹیاں حسابات الیکشن کمیشن میں جمع کراتی ہیں، الیکشن کمیشن کی اسکروٹنی کمیٹی اعتراضات لگاتی ہے۔

رہنما جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ  پارٹیاں وضاحت کرتی ہیں جبکہ پی ٹی آئی ممنوعہ فارن فنڈنگ کا مسئلہ خود پارٹ کے اندر سے بانی رکن اکبر ایس  بابر نے اعتراضات جمع کرائے اور پی ٹی آئی قیادت 8 سال سے وضاحت نہ کرسکی اور فرار کا ہر حربہ استعمال کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پوری قوم آگاہ ہوگئی کہ انہوں نے کہا کہ پاپولر جماعتیں مقدمہ بازی پر کروڑوں خرچ کرکے عوام کو ہمیشہ گمراہ کرلیتی ہیں، عوام کو ہی اپنی پرچی کی طاقت سے دھوکے باز، نوسر باز، نااہل، کرپٹ، عوام دشمن دھڑوں کو مسترد کرنا ہوگا۔لیاقت بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی سیاسی بحرانوں کی وجہ سے ہماری افغانستان، ایران، مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر میں بھارت مظالم کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں اور نہ ہی بروقت کوئی حکمتِ عملی ہے۔ اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی کو قومی سلامتی اور عوامی مسائل کے حل سے کوئی سروکار نہیں، سیاسی انتہا پسندی کے ہاتھوں ریاستی آئینی ادارے محفوظ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج، عدلیہ، الیکشن کمیشن اور سول انتظامیہ کی درگت بن رہی ہے۔ بحرانوں کا علاج صرف یہ ہی ہے کہ سیاست، حکومت اور ریاستی ادارے آئین کی بالادستی قبول کریں۔ جماعتِ اسلامی پاکستان کو اسلامی، خوشحال، مستحکم بنانے کی سیاسی عوامی جدوجہد جاری رکھے گی.