عمران خان کی نا اہلی کیلیے حکومت کا سپریم کورٹ میں ریفرنس دائرکرنے کا فیصلہ

165
Threats are being

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ ن کی اتحادی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نا اہلی کیلئے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا جائے گا۔

پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے خلاف جلد آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔  عمران خان اور دیگر قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈالنے سے متعلق وفاقی کابینہ سے کل منظوری لی جائے گی۔ ریڈ زون میں تحریک انصاف کو کسی صورت  احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا۔

پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام ف مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس کے بعد پی ٹی آئی کے عہدیداران کی فوری طور پر گرفتاریاں عمل میں لائی جانی چاہئیں، ان کے ملازمین کو گرفتار کر کے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں۔ پی ٹی آئی سے 2013 کے بعد کی فنڈنگ کا بھی حساب لیا جائے۔  عمران خان ایک ملزم نہیں بلکہ اب مجرم بھی قرار دیا جا رہا ہے اور ثابت ہوچکا ہے کہ تحریک انصاف کو غیر ملکی فنڈنگ ہوئی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان کا  بدھ کے روز وزیراعظم ہاوس میں اجلاس ہوا، اجلاس میں پیپلزپارٹی کی جانب سے خورشید شاہ، فیصل کریم کنڈی، پلوشہ بہرام اور فاروق ایچ نائیک، جب کہ مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز، مریم اورنگزیب، اعظم تارڑ، رانا تنویر، دیگر جماعتوں کے آفتاب شیرپاو، محمود خان اچکزئی، کشور زہرہ بھی شریک ہوئیں، اجلاس میں لندن سے ویڈیو لنک پر نواز شریف اور اسحاق ڈار بھی شریک ہوئے۔

اجلاس میں قانونی ٹیم  نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے شرکا کو بریفنگ دی۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تحریک انصاف پر پابندی اور عمران خان کی نااہلی کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

اجلاس کے دوران عمران خان اور دیگر قیادت کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا فیصلہ کیا گیا اور نام نام ای سی ایل میں ڈالنے کی منظوری  کل وفاقی کابینہ کرے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ریڈ زون میں تحریک انصاف سمیت کسی بھی جماعت کو احتجاج نہیں کرنے دیا جائے گا ۔

اجلاس کے دوران گفتگو میں جے یو آئی ف کے وزرا نے زور دیا کہ تحریک انصاف کیخلاف کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔ پیپلزپارٹی کے وزرا نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔  اجلاس میں ہونے والے فیصلے کی روشنی میں  پی ٹی آئی عہدیداروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق قانونی ماہرین کی رائے میں عملی اقدام ہوگا، عمران خان کی نااہلی کے لئے قانونی کارروائی کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے، عمران خان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہوگی اور ان کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں آئے گی۔ ذرائع کے مطابق پورے پاکستان میں مختلف ٹیمیں بیک وقت کارروائی کریں گی، ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ ادارے کارروائی کریں گے، عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کی 12 نکاتی چارج شیٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، عمران خان کے خلاف کئی چارجز کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق آئندہ چند دن میں پی ٹی آئی کے مرکزی اور صوبائی عہدیداروں کے خلاف آپریشن کلین اپ شروع ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق اسد قیصر، قاسم سوری، عمران اسماعیل، شاہ فرمان، پنجاب کے سابق سینئر وزیرمیاں محمود الرشید، نجیب ہارون، ثمرعلی خان، سابق ایم پی اے سیما ضیا، عامر کیانی، سیف اللہ نیازی، ڈاکٹر ہمایوں مہمند، کرنل ریٹائرڈ یونس علی رضا، طارق شیخ، سردار اظہر طارق کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی سنٹرل سیکریٹریٹ کے 4 ملازمین طاہراقبال، محمد نعمان افضل، محمد ارشد اور محمد رفیق کو شامل تفتیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ مرکزی فنانس بورڈ کے 6 ارکان کے خلاف بھی قانونی کارروائی ہوگی۔ اجلاس کے بعددیگر رہنماوں کے ہمراہ مشترکہ نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سربراہ پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم)نے کہا کہ فارن فنڈنگ کیس میں عمران خان اورتحریک انصاف کے خلاف فرد جرم آچکی ہے،اب اس کے خلاف آئین وقانون کے مطابق کیا سزا ہوگی مرحلہ آچکا ہے،عمران خان اب ملزم نہیں مجرم قراردیئے جاچکے ہیں،یہ پارٹی فارن ایڈڈ پارٹی ڈکلیئرہوچکی ہے، ثابت ہوچکا ہے پی ٹی آئی کوغیرملکی فنڈنگ ہوئی، الیکشن کمیشن فیصلے کی روح کے مطابق صادق اورامین نہیں کذاب اورخائن بن چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسلسل نئی نسل کے سامنے جھوٹ بول رہا ہے،آئے روزعمران خان کا بیانیہ تبدیل ہوتا ہے، اب آئین وقانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی،جھوٹے سرٹیفکیٹ جمع کرائے جوآئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس نے ریاست کی عمارت کو زمین بوس کرنے کے لیے عالمی سطح پرمدد حاصل کی، قوم ہرادارہ جودفاع وطن کے جذبے سے سرشارانہیں ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، فنڈنگ کیس میں ثابت ہوچکا عمران خان غیر ملکی کٹھ پتلی ہیں،351غیرملکی کمپنیز اور34غیرملکی شہریوں سے فنڈنگ لی گئی، اس نے اسرائیل، بھارت، امریکا، کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ سے فنڈنگ لی، ان ممالک کی فنڈنگ سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ان کا ایجنڈا کیا تھا۔

ان کا کہا تھا کہ  16 بینک اکاؤنٹس الیکشن کمیشن سے چھپائے،عجیب سی بات ہے کہتے ہیں فیصلہ ہمارے حق میں آگیا،جب تھوڑا سا ہوش آیا تواب الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرنے کا اعلان کررہے ہیں۔ امیر جمعیت علمائے اسلام ف نے کہا کہ  بنوں میں کہا تھا یہ اب الیکشن کمیشن پر دباو ڈالے گا، یہ الیکشن کمیشن کواب بلیک میل کررہا ہے، ہم ان کے خلاف مدعی نہیں تھے، مدعی ان کی پارٹی کا اکبر ایس بابر تھا، اکبر ایس بابر سرخرو ہوئے، سٹیٹ بینک نے شواہد فراہم کیے ہیں، اسکروٹنی کمیٹی انہی کی حکومت میں بنائی گئی تھی۔ اکبرایس بابر نے 2011 میں عمران کو ان جرائم سے آگاہ کیا تھا،  عمران نے اپنے دستخطوں سے بینک اکاونٹس کھلوائے، صرف عمران خان نہیں پوری پارٹی جرم میں شرکت دار ہے، تمام جماعتیں کہہ رہیں اب فوری طور پر ان کے خلاف کارروائی کی جائے، صدرمملکت کوفوری طورپراستعفی دینا چاہیے، صدرعارف علوی پرجرم ثابت ہوچکا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پی ٹی آئی کے عہدیداران کی فوری طورپرگرفتاریاں عمل میں لائی جانی چاہئیں، ان کے ملازمین کو گرفتار کر کے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں، اب ریاست کی بقا کا مسئلہ ہے، ریاست کی بقا کے لیے ریاست کے دفاع کے تمام ذمہ داران کوملک کو بچانے کی فکرکرنی چاہیے، اس قسم کے جرائم پیشہ طبقوں کوملک کی سیاست سے اکھاڑ باہرپھینکیں گے، اس کومثال بنا دینا چاہیے تاکہ آنے والی نسلیں سبق حاصل کریں۔