قال اللہ تعالیٰ وقال رسول اللہ ﷺ

1004

اِسی طرح ہم نے اْن لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ’’نصاریٰ‘‘ ہیں، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصہ اْنہوں نے فراموش کر دیا آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں۔ اے اہل کتاب! ہمارا رسول تمہارے پاس آ گیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی اْن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آ گئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب۔ (سورۃ المائدۃ14:تا15)

سیدنا ابوبکر ؓ سے روایت ہے کہ آپؐ نے فرمایا: ’’بے شک زمانہ گھوم کر پھر اُسی نقطہ پر آگیا ہے جب اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کیے تھے۔ سال بارہ مہینے کا ہوتا ہے، اس میں چار مہینے حرمت والے ہیں جن میں تین لگاتار ہیں: ذی قعد، ذی الحجہ اور محرم، چوتھا رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے‘‘۔ ان حرمت والے مہینوں میں کسی قسم کی برائی اور فسق و فجور سے کلی طور پر اجتناب کرنا اور ان کے احترام کوملحوظِ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ تشریح: یوں تو چاروں مہینے برکت و فضیلت سے بھر پور ہیں، لیکن ماہ محرم کی دس تاریخ کو رسول اللہؐ نے روزے کا دن قرار دیا اور اسے سال بھر کے لیے کفارئہ گناہ ٹھیرایا ہے۔ (بخاری کتاب التفسیر)