2030 تک ایل ای ڈی لائیٹس عالمی بجلی کی طلب میں 40فیصد تک کمی کریں گی۔

246

اسلام آباد: پاکستان میں ایل ای ڈی ٹیکنالوجی دن بدن مقبول، 2050تک بجلی کے بلوں میں 6.5 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے،عالمی مارکیٹ حجم 59ارب ڈالر،2028تک 135ارب ڈالر ہو جائیگا،2030 تک ایل ای ڈی لائیٹس عالمی بجلی کی طلب میں 40فیصد تک کمی کریں گی۔

ویلتھ پاک کی رپورٹ کے مطابق توانائی سے چلنے والی ایل ای ڈی پاکستان میں لوگوں کی برقی روشنی تک رسائی بڑھانے، ان پر بلوں کے بوجھ کو کم کرنے اور ماحول کو صاف رکھنے کی صلاحیت کے باعث مقبول ہو رہی ہیں۔

ٹیلی کاسٹ ٹیکنالوجی پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مینیجر حسیب خالد نے ویلتھ پاک کو بتایا کہ ان کی کمپنی نے بجلی کے اتار چڑھاو کو کنٹرول کرنے کے لیے خصوصی سرج پروٹیکٹر سٹینڈ بائی کپیسیٹر کے ساتھ مختلف قسم کی الیکٹرانک اشیا تیار کی ہیںجومرکری سے پاک اور توانائی سے بھرپور ہیں۔

انہوں نے کہاکہ حکومت نے ایل ای ڈی مارکیٹ سے وابستہ لوگوں کو پلاسٹک انجیکشن مولڈنگ آپریشنز کو بڑھانے اور اسمبلنگ پارٹس کو مقامی طور پر تیار کرنے کی ترغیب دینے کے لیے 17 فیصد پر درآمدی ڈیوٹی مقرر کی ہے۔

سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ پالیسی انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان میںایل ای ڈی لائٹنگ میں مکمل تبدیلی سے 0.7 میٹرک ٹن پارے کی بچت ہو سکتی ہے، 33 ملین میٹرک ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج سے بچا جا سکتا ہے اور 2020-2050 کے درمیان بجلی کے بلوں میں 6.5 ارب ڈالر کی بچت ہو سکتی ہے۔

عالمی ایل ای ڈی لائٹنگ مارکیٹ کی قیمت 2021 میں تقریبا 59 ارب ڈالر تک پہنچ گئی اور 2028 تک اس کے 135 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔

رپور ٹ کے مطابق توانائی کے موثر لائٹنگ سلوشنز کا بڑھتا ہوا استعمال، روشنی خارج کرنے والے ڈائیوڈس کی لاگت کو کم کرنا اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیر ی سرگرمیاں مارکیٹ کو چلانے والے اہم عوامل ہیں۔

اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آگاہی، ایل ای ڈی لائٹنگ کی پائیداری اور سازگار حکومتی پالیسیاں بھی مارکیٹ کی ترقی میں معاون ہیں۔رپورٹ کے مطابق توانائی کی بچت والی روشنی میں منتقلی 2030 میںعالمی بجلی کی طلب میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کرے گی۔

پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جواب بھی قابل بھروسہ بجلی تک مکمل رسائی سے محروم ہے جہاں بہت بلیک آئو ٹ ہوتے ہیں۔

آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ توانائی کی کھپت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں توانائی کا مسئلہ شدید ہوتا جا رہا ہے۔پاکستان کو فلوروسینٹ لائٹنگ کو ختم کرنے اور توانائی کے قابل ایل ای ڈی کی منتقلی کو تیز کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سے ملک کو ماحولیاتی اور توانائی کی کارکردگی دونوں کے لحاظ سے فائدہ پہنچے گا۔