قائمہ کمیٹی قانون و انصاف نے قومی احتساب ترمیم (دوم) بل منظور کر لیا

232
budget increased

اسلام آباد : قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے قومی احتساب(ترمیم دوم)بل منظور کر لیا،بل کے مطابق نیب 50 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن کے کیسز کی تحقیقات کر سکے گا۔

مسلم لیگ(ن)کی رکن کمیٹی زہرہ ودود فاطمی اور پیپلز پارٹی کی رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے20 لاکھ روپے سے زائد کی ٹرانزیکشن کو غیر معمولی یا بڑی ٹرانزیکشن تصور کئے جانے سے متعلق ترمیم پراعتراض اٹھایا اور رقم کی حد 20 لاکھ سے بڑھانے کا مطالبہ کیا، تاہم وزیر مملکت برائے قانون شہادت اعوان نے ان کا مطالبہ تسلیم نہ کیا۔

کمیٹی نے جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق 26 ویں آئینی ترمیم کا بل آئندہ اجلاس تک کےلئے موخر کردیا جبکہ جے یوآئی(ف)کی رکن کمیٹی عالیہ کامران نے بل واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بل کی منظوری کے بعد سینیٹ میں نشستیں مختص کرنے کا کیا ہو گا؟کمیٹی نے ”قوانین پاکستان کی اشاعت( ترمیمی) بل بھی منظور کر لیا۔

پیر کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس چیئرمین کمیٹی محمود بشیر ورک کی صدارت میں ہوا،اجلاس میں ارکان کمیٹی عالیہ کامران، زہرہ ودود فاطمی، نفیسہ شاہ، عثمان ابراہیم اور مہناز اکبر عزیز نے شرکت کی، چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ سابق چیئرمین کمیٹی ریاض فتیانہ کا بڑا اچھا کام تھا انہوں نے بہت کام کیا ان کی تعریف کرتا ہوں، ان کی قدر اور احترام کرتا ہوں،اجلاس میں قومی احتساب(ترمیم دوم)بل 2022 کا جائزہ لیا گیا۔

وزیر مملکت برائے قانون و انصاف سینیٹر شہادت اعوان نے بل پر شق وار کمیٹی کو بریفنگ دی اور کمیٹی کو بتایا کہ ترامیم کے مطابق500 سے ملین سے میگاکرپشن کے کیسز کی تحقیقات نیب کرے گا، 500 ملین سے کم کے کیس نیب کے پاس نہیں جائیں گے۔ رکن کمیٹی زہرہ ودود فاطمی نےپراسیکیوٹرجنرل کے عہدے کو قابل توسیع کرنے سے متعلق ترمیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ ایکسٹینشن غلط ہے،کوئی ایکسٹیشن نہیں ہونی چاہیے،ہر چیز کی ٹائم لمٹ کرنا ضروری ہوتا ہے،اس قسم کی ایکسٹینشن ہر چیز میں نہیں ملنی چاہیے۔

زہرہ ودود فاطمی نے 20 لاکھ روپے سےزائد کی ٹرانزیکشن غیر معمولی یا بڑی ٹرانزیکشن تصور کئے جانے سے متعلق ترمیم پر بھی اعتراض اٹھایا جبکہ رکن کمیٹی نفیسہ شاہ نے بھی کہا کہ 20 لاکھ کم ہے۔وزیر مملکت برائے قانون سینیٹر شہادت اعوان نے کہا کہ اس بل پر ہم نے 12دن لگائے ہیں، اس پر بہت مشاورت ہوئی ہے، یہ سب چیزیں سوچ کر کی ہیں۔

نفیسہ شاہ نے کہا کہ اس وقت ہم جو ممبران بیٹھے ہیں ہم سب کی ایک ہی سوچ ہے ،اپوزیشن موجود نہیں ہے،آگے جا کر کیا یہ ہولڈ کرے گا یا ریورس ہوگا، اس بل پر سب کا اتفاق رائے ہونا چاہیے۔کمیٹی نے بل منظور کرلیا جبکہ چیئرمین کمیٹی نے زہرہ ودود فاطمی کو کہا کہ آپ اختلافی نوٹ دے دیں۔

اجلاس میں آئینی (26ویں ترمیم)بل 2022 کا بھی جائزہ لیا جانا تھا، تاہم جے یو آئی (ف)کی رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ اس بل کو واپس لیں۔ اس بل کی منظوری کے بعد سینیٹ میں نشستیں مختص کرنے کا کیا ہو گا؟کمیٹی نے بل آئندہ اجلاس تک موخر کردیا۔اجلاس میں ”قوانین پاکستان کی اشاعت( ترمیمی) بل2022 ” کا بھی جائزہ لیا گیا جس کے بعد کمیٹی نے بل منظور کر لیا۔