عوام سے کھلواڑ مت کرو

322

مجھے خواب میں وہ بچہ بار بار آرہا ہے، وہ نازک پھول سا بچہ، جس کو سورج کی کرنوں نے بوسہ دیا تھا، سورج کی پہلی روپیلی کرنوں نے اس چہرے کو پیار سے چوما۔ ہوا نے اسے ماتھے پر تھپکی دی، اور سمندر کی لہروں نے اسے بہت ہی آہستگی سے بلوچستان کے ریتلے ساحل پر سلا دیا۔ پرندے نے سریلی لے میں اسے آواز دی۔ ایک مچھلی نے ایک اونچی لہر سے سر نکال کر اسے دیکھا۔ لیکن یہ بچہ تو گہری نیند سور رہا ہے۔ اپنی ماں کی گود سے نہ جانے کب جدا ہوا ہوگا، ماں نے اسے اپنے ہاتھوں سے نکلتے اور پانی کی موجوں میں ڈوبتے ابھرتے دیکھ کر کیسی چیخیں ماری ہوں گی اور اسے پکڑنے کی جدوجہد میں پانی کی لہروں میں جانے کہاں تک اس نے ہاتھ پاؤں مارے ہوں گے۔ اب یہ نازک پھول سا بچہ ستر ماؤں سے زائد پیار کرنے والے اپنے رب کے پاس پہنچ چکا ہے۔ بلوچستان کا ساحل خاموشی سے بین کررہا ہے، اور قریبی پہاڑیاں سر جھکائے غم زدہ اور افسردہ کھڑی ہیں، بارش کے قطرے آنسو کی طرح آسمان سے برس رہے ہیں۔
جانے کتنی لاشیں سیلابی پانی اور دریا میں تیر رہی ہیں، کئی کئی دن سے پانی میں تیرتی یہ لاشیں اپنی بے نور آنکھوں سے یہ سوال کررہی ہیں، ہمیں کون نکالے گا، کب ہماری لاشیں گور و کفن سے فیضیاب ہوں گی، میں ان سسکتے بلکتے بچوں اور آہ و بکا کرتی عورتوں اور فریاد کرتے مرد و جوانوں کو دیکھ رہا ہوں، جو کئی کئی دن سے چاروں طرف پانی سے گھرے میدان اور مکانوں میں محصور ہیں۔ خوراک اور پانی ان سے دور ہے، ان کی نظریں آسمان پر ہیں، اور فریاد کناں ہیں، اے رب رحیم ہمیں ایسے ظالم اور بے رحم حکمرانوں سے نجات دے، جو ہمیں مصیبت میں مدد کرنے کے بجائے، اقتدار میں آنے اور لوٹ مار میں سرگرم ہیں، اے اللہ ایسے ظالم سپہ سالاروں سے ہمیں نجات دلا۔ جو اٹھانے، گرانے، پھر اٹھانے، اور ظالموں کو ہم پر مسلط کر نے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ اے اللہ ہمیں ایسے منصفوں سے نجات دے، جو عدالتوں کو رات کو صرف امیروں بااثر ظالم جھوٹے خائن اور لٹیروں کے اقتدار کو قائم رکھنے، انہیں ریلیف دینے، انہیں ضمانت دینے، اور انہیں رہائی کا پروا نہ جاری کرنے کے لیے تو کھولتے ہیں، لیکن کبھی مظلوم کو انصاف، بے سہارا کو سہارا دینے، اور مصیبت میں گھرے ہوئے لوگوں کی امداد کے لیے حرکت میں نہیں آتے۔
میں ان گمشدہ نوجوانوں کے لیے بھی دعا گو ہوں کہ جن کی مائیں ان کی واپسی کی راہ تک رہی ہیں، ان کی ماؤں کی فریاد جانے کب سنی جائے گی۔ عدالتیں ان کے لیے کب کھلیں گی، ان کی درخواستوں کے نمبر کب آئیں گے۔
تمام ماؤں کے ہونٹ پتھر ہیں۔
اور آنکھوں میں زخم ہیں۔
رات کہتی ہے ان کے بیٹوں کو
شب گئے
چند لشکری
ساتھ لے گئے تھے
تو اب تلک ان کی واپسی کی خبر نہیں ہے۔
مجھے انتظار ہے، اس فون کال کا۔ جو دور امریکا کے کسی دفتر سے آنی ہے۔ جو ہمارے چیف اور حکمرانوں کو یہ نوید سنائے گی کہ ہاں تمہاری معافی کا فیصلہ ہوگیا، اب تمہارے قرضے جاری کردیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف تمہیں قرضے دے گی یہاں تک کہ تمہارے سارے اثاثے ہم گروی رکھ لیں۔ اب تک ہم ایک ڈرامے کے مہر بلب ناظرین ہیں، جو ہر آن آغا حشر کے ڈائیلاگ سن رہے ہیں۔ حکمران ہیں کہ بندر کی پھرتیاں دکھا رہے ہیں۔ اور کہہ رہے ہیں کہ میں نے کوشش تو بہت کی لیکن کچھ نہ ہوا تو میں کیا کروں۔ دل تو چاہتا ہے کہ ان سب کے محلوں کو آگ لگا دی جائے، جو سرخ قالین پر قدم رکھ کر کہتے ہیں کہ ’’یہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے‘‘۔ غریب کی زیست مشکل سے دوچار ہے، وہ گھر سے ملازمت کی جگہ جانے کے بھی قابل نہ رہا کہ جو کچھ کماتا ہے، وہ کرائے بھاڑے میں خرچ ہوجاتا ہے۔ جانے یہ کہانی ختم کب ہوگی؟ اور پردہ کب گرے گا؟ یا یہ ڈراما یونہی چلتا رہے گا۔ ایک کہتا ہے کہ ’’8 مارچ کو جب تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی تو ڈالر 178 روپے کا تھا۔ آج 250 پر پہنچ گیا ہے۔ 8 مارچ 2022 کو مہنگائی 16 اعشاریہ پانچ فی صد تھی اور آج یہ 38 فی صد کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے۔ یہ امپورٹیڈ حکومت مجرموں پر مشتمل نہیں بلکہ یہ سراسر نا اہل بھی ہے‘‘ اور دوسرا جواب دیتا ہے کہ: ’’خان اقتدار میں آیا تو ڈالر 122 کا تھا اور اقتدار چھوڑا تو 190 روپے تک پہنچ چکا تھا۔ خان اقتدار میں آیا تو پاکستان پر قرض25 ہزار ارب تھا، جب اقتدار سے گئے تو اس میں 19 ہزار ارب کا اضافہ ہوا اور وہ 44 ہزار ارب تک پہنچ گیا‘‘۔ بند کرو یہ نورا کشی، بنچ فکسنگ، الزامی سیاست ، اس ملک کے کروڑوں عوام سے کھلواڑ مت کرو۔
سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے۔
سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا
خداوندِ جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف و اکبر
ہمارے شہر میں اب
جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر!!