ترجیحات درست کرلیں

242

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسمٰعیل نے کہا ہے کہ مہنگائی کنٹرول کرنا ترجیح نہیں بلکہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ترجیح ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچانے کے لیے تجویز دی کہ سب کو ٹیکس دینا ہونا گا۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے آٹا 40 روپے، چینی 70 روپے اور گھی 300 میں فروخت کرنے کے لیے سبسڈی دی۔ سب کو ٹیکس دینا ہو گا کہنے کے فوراً بعد وزیرخزانہ نے فکس ٹیکس کی شرح کم کر کے 150 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والوں کو استثنا دینے کا اعلان کر دیا اور اس سے زیادہ بجلی استعمال کرنے والوں سے سالانہ 36 ہزار ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ گویا 6 ہزار کو تین ہزار تو کر ہی دیا ہے۔ لیکن وزیرخزانہ یہ بھی بتا دیں کہ 150 یونٹ سے کم بجلی کتنے لوگ استعمال کرتے ہیں ایک یونٹ بھی زیادہ ہو گیا تو اس پر 36 ہزار سالانہ ٹیکس لگے گا۔ وزیرخزانہ چونکہ ایک کاروباری شخصیت ہیں اس لیے اپنے ملک کے عوام کے ساتھ بھی کاروبار کر رہے ہیں۔ فلاں چیز کی قیمت اتنی ہے اچھا دو لو گے تو آدھی قیمت معاف عوام کے ساتھ سودے بازی کی جارہی ہے۔ اعدادوشمار کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ لیکن تاجروں کے دبائو کی وجہ سے کچھ رعایت بھی دی جارہی ہے۔ وزیرخزانہ نے جو یہ کہا ہے کہ ملک کو ڈیفالٹ سے بچانا ترجیح ہے اس میں دو سوال ہیں کہ اگر ڈیفالٹ یا دیوالیہ قرار دے دیا جائے تو کیا ہو گا۔ دوسرے یہ کہ ملک کو ڈیفالٹ تک پہنچانے کا ذمے دار تنہا عمران خان ہے یا پی ڈی ایم میں شامل جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں۔ یہ تو ایک تسلسل ہے جو گزشتہ کئی عشروں سے چلا آرہا ہے۔ ملک کو اس نہج تک پہنچانے والے بھی وہی لوگ ہیں جو آج کل ڈیفالٹ، دیوالیہ اور اسی قسم کی باتیں کرتے نظر آرہے ہیں۔ لیکن دنیا کے کئی ممالک اس سے قبل عالمی اداروں کے قرض ادا نہ کرنے کے سبب دیوالیہ بھی قرار پائے اور کئی ممالک پر کمال مہربانی سے قرض وصولی کے لیے نرمی بھی کر دی گئی۔ حال ہی میں ایک جائزہ شائع ہوا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ارجنٹائن کئی مرتبہ قرض کی ادائیگی سے انکار کر چکا ہے۔ مگر اس پر سری لنکا جیسی صورت حال مسلط نہیں کی گئی۔ اسے مہلت دی گئی۔ اسے 2005ء اور اس کے بعد 2010ء میں جو یہی صورت حال درپیش تھی امریکا نے بڑی محبت سے اسے اپنی مرضی سے قرض واپسی کی شرائط طے کرنے اور مدت کا تعین کرنے کی اجازت دی نہ صرف یہ بلکہ قرض کے عوض ضمانت کے طور پر رکھے گئے ارجنٹائن کے اثاثے بھی ضبط کرنے سے روک دیا گیا۔جبکہ افغانستان کے اثاثوں پر سانپ بنا بیٹھا ہے اس جائزے کے مطابق ارجنٹائن 9 مرتبہ نادہندہ ہو چکا ہے۔ یونان 2015ء میں ان ہی حالات سے گزرا لیکن اسے بھی مہلت دیتے ہوئے یہ بیان خود ہی بنا دیا گیا کہ اس کی جانب سے قرضوں کی واپسی میں دیر ہو رہی ہے۔ نادہندگی میں برطانیہ، پرتگال، اسپین وغیرہ نے بھی ریکارڈ بنائے جنوبی اور وسطی امریکی ممالک بھی یہ حالات بھگت چکے ہیں۔ خود امریکا تین مرتبہ ایسے حالات سے گزرا لیکن ان میں سے کسی کو ڈیفالٹ یا دیوالیہ نہیں کیا گیا۔ قرض دینے والے اصل زر اور سود بھی لینا چاہتے ہیں ڈیفالٹر قرار دینے سے ان کے اپنے پیسے ڈوب جائیں گے۔ خرابی صرف یہ ہے کہ جب تک کوئی بھی ملک ان اداروں کے احکامات پر عمل کرتا رہے گا وہ اچھا بچہ کہلائے گا اسے نمبر ملیں گے اور ترقی بھی لیکن کنٹرول کے ساتھ۔ کسی کو اپنے پنجوں سے آزاد نہیں ہونے دیں گے۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ جو لوگ ملک کو ڈیفالٹ سے خوفزدہ کر رہے ہیں ان کے سارے کرتوت سامنے آجائیں گے۔ ایک مسئلہ یہ بھی ہے پاکستان، ارجنٹائن یونان یا برازیل نہیںکہ اس پر خاص مہربانی کی جائے بلکہ پاکستان تو سب کے نشانے پر ہے اور اسے یہاں تک لے جانے والے یہی سہولت کار ہیں۔ مفتاح اسمٰعیل صاحب ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے عوام کو ڈیفالٹ نہ کردیں ان کا اپنا دیوالیہ نہ کریں بلکہ آمدنی بڑھائیں مہنگائی کم کریں اور مہنگائی کم کرنے کو ترجیح اول بنائیں۔ پاکستان اگر دیوالیہ قرار پایا تو اس کے ذمے دار عوام کسی طور نہیں ہوں گے اس کی سزا عوام کو دینے کے بجائے گزشتہ تیس پینتیس سال کے حکمران خود کٹہرے میں کھڑے ہو جائیں اور آئندہ سیاست سے توبہ کر کے اس ملک میں عام آدمی کی طرح زندگی گزاریں۔