بلوچستان سیلاب:جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے دئیے جائیں گے،شہباز شریف

194

 وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب زدگان کو سہولیات نہ ملنے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے  کہا ہے کہ متعلقہ افسران نے متاثرین کیلئے کچھ کیا بھی ہے یا صرف کاغذی کارروائی ہو رہی ہے، متاثرین خود کہہ رہے ہیں کہ کھانا پانی نہیں ملا، میڈیکل کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، امدادی کیمپوں میں کھانا فراہم نہ کرنے پر انتظامیہ کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے گا،  چیف سیکریٹری بلوچستان کو کھانا فراہم نہ کرنے والے عملے کو فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت کی جس پر عملے کو معطل کرکے واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی،جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے دئیے جائیں گے، سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں آج سے صبح اور رات کا کھانا فراہم کیا جائے گا،  سیلاب سے بلوچستان کی حالت ناقابل بیان ہے، بارشی سیلاب سے 142 افراد جاں بحق اور ہزاروں مکانات مکمل تباہ ہوئے، کھڑی فصلیں اور بے شمار پلوں اور سڑکوں کو شدید نقصان پہنچا، مصیبت کی اس گھڑی میں صوبائی اور تمام وفاقی ادارے عوام کی خدمت میں مصروف ہیں۔ پیر کووزیراعظم شہباز شریف نے  چمن کے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کی۔اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں قائم ریلیف کیمپوں میں شہریوں کو کھانا اور پانی نہ ملنے کی شکایات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو معطل کر دیا۔وزیراعظم بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقے قلعہ سیف اللہ پہنچے تو سیلاب زدگان کے کیمپ کے حالات جان کر شدید ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی بلوچستان عبدالقدوس بزنجو سے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت کر دی۔اس موقع پر وزیراعظم نے متعلقہ افسران کے خلاف شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کچھ کیا بھی ہے یا صرف کاغذی کارروائی ہو رہی ہے، متاثرین خود کہہ رہے ہیں کہ کھانا پانی نہیں ملا، میڈیکل کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ چمن کے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بلوچستان وہ صوبہ ہے جہاں بارشوں کے باعث ہونے والی تباہ کاریاں ناقابل بیان ہیں، بارشی سیلابی ریلے میں 142افراد جاں بحق ہوئے، اس میں سینکڑوں افراد زخمی ہوئے، ہزاروں مکانات تباہ ہو گئے، بلوچستان میں سیلابی ریلے کے باعث فصلیں تباہ ہو گئیں اور کئی مویشی ہلاک اور سڑکیں تباہ حالی کا شکار ہو گئیں، ہم متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر متاثرین کیلئے امدادی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، پاک فوج کے جوانوں نے سیلاب میں پھنسے افراد کی مدد کی، انہیں راشن پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں وفاقی ،صوبائی حکومت اور متعلقہ ادارے آپ کے ساتھ ہیں اور خدمت کیلئے حاضر ہیں، متاثرین کو ادویات، خوراک اور خیمے مہیا کئے جا رہے ہیں، پینے کے صاف پانی کیلئے پوری کاوشیں کی جا رہی ہیں، مال مویشی کیلئے خصوصی طور پر خیمے نصب کئے گئے ہیں، وبائی امراض کیلئے بھرپور اقدامات کئے جا رہے ہیں، ان تمام اقدامات کو اچھا کہنا توہین انصاف ہے، بعض خامیوں کو دور کرنے کیلئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں، قلعہ سیف اللہ کے علاقے خسنوب میں خوراک کی فراہمی کا موثر انتظام موجود نہیں تھا جو افسوسناک ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہوزیراعلیٰ بلوچستان نے فوری طور پر ایکشن لیا اور ذمہ داران کو معطل کر دیا گیا، معطل کرنے کی وجہ سے ان کی غفلت اور کوتاہی ہے، اس کی انکوائری کی جائے گی، غفلت اور کوتاہی سے کام کرنے کی قطعی طور پر اجازت نہیں ہے، انتظامیہ کے خلاف ایکشن کے بعد سب کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہو گا، بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیراعظم کی طرف سے شاباش کے مستحق ہوں گے اور ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر عوام کے کٹہرے پر کھڑا کیا جائے گا اور اس کی سزا ملے گی۔ وزیراعظم نے سیلاب متاثرین کو فوری طور پر زرتلافی ادا کرنے کا حکم جاری کردیا اور کہا کہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو 20 لاکھ روپے دئیے جائیں گے، سیلاب متاثرین کے کیمپوں میں آج سے صبح اور رات کا کھانا فراہم کیا جائے گا۔چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام چیکس تقسیم کرنے کی ہدایت کی، ہمیں صوبے میں شفافیت اختیار کرنی ہے، تاخیر سے پرہیز کیا جائے، وفاقی حکومت کافرض ہے کہ جاں بحق افراد کے لواحقین پر دست شفقت کا ہاتھ رکھے، زخمی افراد کو دو لاکھ یا اس سے زائد رحلت فراہمی کی جائے گی، تباہ حالی کا شکار مکانات کے متاثرین کو  5لاکھ وفاق کی جانب سے دیا جائے گا،تمام صوبوں میں ہونے والی تباہ کاریوں کے باعث امدادی چیکس ان کے چند دنوں میں مہیا کر دیئے جائیں گے، میرا یہ وعدہ بلا تاخیر مکمل ہو گا، فصلوں اور تباہ حالی کا شکار سڑکوں پر وفاق اور صوبائی حکومت کی جانب سے تخمینہ لگایا جائے گا تا کہ حقدار کو اس کا حق ملے۔