عوام 28 اگست کو جماعت اسلامی کا میئر منتخب کرینگے، حافظ نعیم الرحمٰن

305

امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے ’’حقوق کراچی تحریک ‘‘ اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ضلع ملیر میں داؤد بروہی گوٹھ ،بھینس کالونی ، شاہ لطیف ٹاؤن، گلشن حدید سمیت دیگر مقامات کا دورہ کیااورکارنر میٹنگز ، معززین علاقہ کی جانب سے دیے گئے استقبالیے میں شرکت کی ۔اس موقع پر امیرجماعت اسلامی ضلع ملیر محمد اسلام ،بلدیاتی انتخابات میں یوسی 2کے گھگھر کے نامزد چیئرمین عبد الرحمن، یوسی 3پپری کے نامزد چیئرمین زاہد حسین لانگاہ ،یوسی 3 گلشن حدید کے نامزد چیئرمین جاوید اقبال ، یوسی 4 اسٹیل ٹاؤن کے نامزد چیئرمین فیض احمد فیض ودیگر موجود تھے ۔علاوہ ازیں گوشت مارکیٹ بھینس کالونی کے دکانداروں کے مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی جانب سے ظالمانہ ریٹیلر سیلز ٹیکس کی شدید مذمت کی اور کہاکہ جماعت اسلامی دکانداروں کے ساتھ ہے، ریٹیلر سیلز ٹیکس ظالمانہ ٹیکس ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔حافظ نعیم الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بارش کے ندی نالوں کا پانی گلیوں اور سڑکوں پرجمع ہوگیا ہے ،بارش کے بعد پھیلنے والی گندگی سندھ حکومت کی نااہلی و ناقص کارکردگی کا کھلا ثبوت ہے ،کراچی کو گٹر اورغلاظت میں تبدیل کردیا گیا ہے ،نہ نالوں کی صفائی کی کرائی جارہی ہے اور نہ ہی پانی کی نکاسی کا کوئی مؤثر انتظام موجود ہے ،اس صورتحال کے باوجود حکمران صرف ڈھٹائی کے ساتھ اعلانات کرتے پھرتے ہیں لیکن عملاً کچھ نہیںکرتے۔ بلدیاتی انتخابات میں ترازو پر مہر لگاکر جماعت اسلامی کامئیر منتخب کریں ، جماعت اسلامی کا میئر وہیں سے تعمیر کا سفر شروع کرے گا جہاں سے نعمت اللہ خان نے چھوڑا تھا۔ کراچی کے عوام درست فیصلہ کر کے جماعت اسلامی کو منتخب کریں، جماعت اسلامی 4 سال میں کراچی کو ایک بار پھرسے چمکتا دمکتا شہر بنائے گی۔ کراچی کے شہریوں نے 24 جولائی کو ہی جماعت اسلامی کا میئر منتخب کر لیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے من پسند پارٹیوں کی ایما پر بلدیاتی انتخابات کو ایک ماہ مزید آگے بڑھادیا ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ مردم شماری کے حوالے سے ایک بار پھر سے سازش کی جارہی ہے کہ کراچی کی آبادی کو آدھا کیا جائے ،اگر مردم شماری اس طریقے سے کی گئی کہ جو جہاں رہتا ہے اس کو شمارنہ کیا گیاتو ایسی مردم شماری کوکسی صورت قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی اس کی کوئی حیثیت ہوگی، یہ بھی المیہ ہے کہ وفاق اور صوبے میں شامل تمام پارٹیاں درست مردم شماری کے حوالے سے بات نہیں کرتیں،جماعت اسلامی واحدجماعت ہے کہ جس نے درست مردم شماری کے حوالے سے طویل جدوجہد کی ۔انہوں نے کہاکہ کراچی کے تاجروں نے گزشتہ سال کی نسبت اس سال 42فیصد زیادہ ٹیکس ادا کیا ہے اس کے باوجود کراچی کے تاجروں پر جبری ریٹیلر سیلز ٹیکس لگایا جارہا ہے ،کے الیکٹرک کا ادارہ اس ظالمانہ ٹیکس وصولی کا سہولت کار بنا ہوا ہے اس سے کراچی کے عوام پہلے ہی عدم اطمینان کا شکار ہیں ،یہ وہ ادارہ ہے جو بغیر کسی ایگریمنٹ کے وفاقی ادارے سوئی سدرن گیس کمپنی سے گیس لے رہا ہے ، کے الیکٹرک گیس کمپنی کا 100ارب روپے کا نادہندہ ہے ،کسی بھی حکومت کو اتنی جرات نہیں ہوتی کہ وہ گیس کمپنی کے پیسے واپس دلوائے ، کے الیکٹرک کوکلاء بیک کی مد میں کراچی کے عوام کو 42ارب روپے ادا کرنے ہیں کسی حکومت اور پارٹی میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کراچی کے عوام کو ان کے پیسے دلوائے ۔ اگر کے الیکٹرک کی انتظامیہ اس ٹیکس کی وصولی سے معذرت کرلے تو وزیر خزانہ کو اتنی جرات نہیں ہوگی کہ وہ اس کو پابند کرے کہ کراچی کے تاجروں سے ٹیکس وصول کرے ،جماعت اسلامی کی تاجر تنطیموں سے مشاورت ہوئی ہے اور تمام تاجر ٹیکس اداکرنے کے لیے نہ صرف تیار ہیں بلکہ انہوںنے خود تجویز دی تھی کہ ٹیکس وصول کیا جائے لیکن جبری اور جعلی طریقے سے ظالمانہ ٹیکس کسی صورت قبول نہیں کیاجائے گا۔محمد اسلام نے کہاکہ سیوریج کا بھی بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے جو کہ حل نہیں کیا جارہا،معمولی سی بارش سے ہی برسات کا پانی ندی نالوں میں بھرنے کے بعد گلیوں اور سڑکوں میں آجاتا ہے جس کے باعث شہریوں کے لیے باران رحمت باران زحمت بن جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ کراچی سے پی ٹی آئی کے 14ایم این اے اور 30ایم پی ایز منتخب ہوئے انہوں نے بھی کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا،سندھ اسمبلی میں اتنی بڑی تعداد ہونے کے باجود جب کراچی کے لیے کچھ نہیں کیا تو بلدیاتی حکومت میں یہ لوگ کراچی کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟پی ٹی آئی صرف سوشل میڈیا پر کراچی فتح کرسکتی ہے عملا کچھ نہیں کرسکتے۔کراچی کے مسئلے کا حل صرف جماعت اسلامی ہے۔