تاجر تنظیموں نے بجلی کے بلوں میں  ٹیکس وصولی کیخلاف ملک گیر ہڑتال کا اعلان کردیا

111

اسلام آباد: حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں میں ٹیکس وصول کیے جانے کے خلاف تاجر تنطیموں نے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت نےتاجر برادرے کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کردیا جائے گا۔

اسلام آباد میں مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر محمد کاشف چودھری و دیگرنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے بجلی کے بلوں پر ٹیکس لگایا گیاہے، جو بند دکانوں اور زیرو میٹر ریڈنگ کی تفریق کیے بغیر کمرشل بلوں میں شامل کیا گیا جب کہ تاجر پہلے ہی ایڈوانس ٹیکس، ایکسٹرا ٹیکس، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ اور  دیگر ٹیکس ادا کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا چھوٹا تاجر بل ادا کرنے کی سکت نہیں رکھتا۔ حکومت سے کئی بار ٹیکس ختم کرنے کی درخواست کی گئی، تاہم تاجروں کی نمائندہ تنظیم کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی گئی۔

تاجر رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کے چھوٹے تاجروں پر فکس ٹیکس لگایا جائے تاکہ وہ ایف بی آر کے اہلکاروں کی بلیک میلنگ کا سامنا نہ کریں۔ سیلز ٹیکس چھوٹے تاجروں پر لاگوہی نہیں ہوتا ۔ جس کا 100 روپے بل ہے وہ بھی 8 ہزار روپے ادا کرنے پر مجبور ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا تاجرسیلز ٹیکس لگے بل جمع نہیں کرائے گا۔

کاشف چودھری کا کہنا تھا کہ ہم آئی ایم ایف کی ایما پر کیے گئے حکومتی اقدامات کو مسترد کرتے ہیں۔ حکومت نے ہم سے کوئی مشاورت نہیں کی۔ ہم آج بھی حکومت کو مذاکرات کی پیش کش کررہے ہیں۔

صدر مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ اگر بجلی کے بلوں میں لگایا گیا یہ ٹیکس  واپس نہ لیا گیا تو تاجر 17 اگست کو ملک بھر میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کریں گے  اور مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ہڑتال کو مزید بڑھایا جائے گا۔