کیا شہباز حکومت مدت پوری کرپائے گی؟

326

ن لیگ نے تو عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی اس پر عدم اعتماد کا اظہار کردیا تھا۔ اس کے لیڈروں کا اصرار تھا کہ کیس کی سماعت کے لیے عدالت عظمیٰ کا فل بنچ بنایا جائے اس کے لیے انہوں نے باقاعدہ درخواست بھی دائر کی تھی لیکن چیف جسٹس نے اس کی سرسری سماعت کے بعد اسے مسترد کردیا اور تین رکنی بنچ ہی میں کیس کی سماعت جاری رکھی اور کیس کو طول دینے کے بجائے (ن) لیگ کے تمام تر دبائو اور عدالتی بائیکاٹ کے باوجود فیصلہ سنادیا، جس کے تحت ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے حمزہ شہباز کو وزارت علیا کا منصب چھوڑنے اور چودھری پرویز الٰہی کو فوری طور پر اس منصب کا حلف اُٹھانے کا حکم دیا گیا تھا۔ چودھری پرویز رات گئے اپنے عہدے کا حلف اُٹھا کر پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے اور انہوں نے انتظامی نوعیت کے اقدامات بھی شروع کردیے ہیں لیکن ان کی حکومت (ن) لیگ کو ہضم نہیں ہورہی۔ وفاقی حکومت کے منہ کا ذائقہ بھی خراب ہوگیا ہے، اس کی عملداری چند کلو میٹر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رانا ثنا اللہ پنجاب میں گورنر راج لگانے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اس منصوبے پر کام شروع ہوگیا ہے اور گورنر راج کے لیے سمری تیار کی جارہی ہے۔ اس سمری کی بنیاد پر وزیراعظم صدر کو پنجاب میں گورنر رائج قائم کرنے کی ایڈوائس دیں گے۔ اگر صدر نے ایڈوائس قبول نہ کی تو پندرہ دن بعد یہ خود نافذ العمل ہوجائے گی۔ رانا ثنا اونچی ہوائوں میں ہیں اور بہت اونچے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہے اگر یہ ممکن ہوتا تو پی ٹی آئی کی حکومت سندھ میں گورنر راج لگا چکی ہوتی، جب کہ اسے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت بھی حاصل تھی۔ موجودہ شہباز حکومت تو اپنے ہی بوجھ میں دبی ہوئی ہے وہ گورنر راج کیا لگائے گی۔ معیشت اس سے سنبھل نہیں رہی، روپیہ مسلسل گر رہا ہے اور ڈالر اوپر جارہا ہے۔ خیال تھا کہ اسحق ڈار پاکستان واپس آکر ڈالر کی اُڑان کو روکنے کی کوشش کریں گے اور معیشت کو سنبھالا دیں گے لیکن وہ حکومت کی کشتی ڈولتی دیکھ کر آتے آتے رُک گئے ہیں۔ واقعی حکومت کی کشتی ڈول رہی ہے، صنعتیں بند ہورہی ہیں۔ بیروزگاری بڑھ رہی ہے، مہنگائی آسمانوں سے بھی آگے چلی گئی ہے، پٹرول اور گیس کے بارے میں وزیراعظم نے یہ کہہ کر ہاتھ اُٹھا دیا ہے کہ ان کی قیمتیں ان کے اختیار میں نہیں ہیں۔ دیکھا جائے تو کچھ بھی ان کے اختیار میں نہیں ہے۔ ان کا ریموٹ کنٹرول لندن میں میاں نواز شریف کے پاس ہے، وہ میاں صاحب کی ہدایات کے مطابق حکومت چلارہے ہیں اور حکومت میں شامل چودہ جماعتوں کو بھی خوش رکھنے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کوئی بھی ان سے خوش نہیں ہے۔ حتیٰ کہ مولانا فضل الرحمن بھی ان پر برہمی کا اظہار کررہے ہیں۔ میاں صاحب کا بس چلتا تو حکومت ان سے لے کر مریم نواز کے حوالے کردیتے۔
شہباز حکومت کو سب سے بڑا دھچکا پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت جانے سے لگا ہے۔ باپ نے بیٹے کی حکومت بچانے کی کوشش تو پوری کی تھی لیکن بس نہ چل سکا، اب سارا ملبہ عدلیہ پر ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ میاں نواز شریف نے عدالت عظمیٰ کے ان تینوں ججوں کو ’’سلام‘‘ پیش کیا ہے جس کے فیصلے نے میاں صاحب کے مطابق پوری دنیا میں پاکستان کو رسوا کردیا ہے لیکن ان کے ناقدین کب چُوکتے ہیں وہ کہہ رہے ہیں کہ اس ’’سلام‘‘ کے مستحق تو خود میاں صاحب ہیں جنہوں نے اپنے دور حکومت میں عدالت عظمیٰ پر حملہ کر کے پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا تھا۔ بہرکیف اب شہباز حکومت کی کوشش ہے کہ اس گستاخانہ فیصلے کے ردعمل میں عدلیہ کے اختیارات سلب کرلیے جائیں اور اسے نیب کی طرح بے دست و پا بنادیا جائے۔ اس منصوبے پر کام شروع ہوگیا ہے، دیکھیے کیا ہوتا ہے۔ اس ساری کہانی میں آصف زرداری کا کردار بہت دلچسپ اور پُراسرار ہے۔ انہوں نے حمزہ شہباز کی حکومت کو بچانے کے لیے سردھڑ کی بازی لگادی۔ وہ بار بار چودھری شجاعت کے پاس گئے جو بیماری کی اس منزل میں ہیں کہ نہ بول سکتے ہیں نہ لکھ پڑھ سکتے ہیں اور ان سے ایک ایسا خط حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے جس میں (ق) لیگ کے ارکان اسمبلی کو اپنے ہی امیدوار چودھری پرویز الٰہی کو ووٹ دینے سے روکا گیا تھا۔ شاید اسی خط کے انتظار میں پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر بھی اسمبلی کے اجلاس کو روکے ہوئے تھے، انہیں جونہی یہ خط موصول ہوا اجلاس بلا کر رائے شماری کے بعد (ق) لیگ کے ووٹ مسترد کردیے۔ ڈراما تو خوب رچایا گیا لیکن اس کا رزلٹ حسب توقع نہ آیا تو زرداری صاحب دبئی پھوٹ لیے۔ اب واپس آئے ہیں تو کورونا میں مبتلا بتائے جاتے ہیں۔ زرداری صاحب کا ایک انٹرویو بھی ان دنوں سوشل میڈیا پر چل رہا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ میاں صاحب کو تھکا تھکا کر ماریں گے۔ شاید چودھری شجاعت کا خط اسی کوشش کا حصہ تھا۔ زرداری بہت باریک چال چلتے ہیں، وہ اِس وقت (ن) لیگ کی حکومت میں شامل ہو کر اسے تھکانے میں مصروف ہیں۔ جب حکومت تھک کر بے دم ہوجائے گی تو زرداری بھی قرنطینہ سے باہر نکل آئیں گے۔ البتہ اس وقت تک ملک کی سیاست بھی بیدم ہوچکی ہوگی اور یہ سوال پھن پھیلائے کھڑا ہوگا کہ کیا شہباز حکومت اپنی مدت پوری کرپائے گی؟