معاشی بحران کا ذمے دار کون؟

351

ہر حکومت ملک کے معاشی خسارے اور بحران کا ذمے دار سابق حکمرانوں کو قرار دیتی ہے۔ عارضی حکومت کو تیسرا مہینہ ہے اور سابق پی ٹی آئی حکومت ملک کی تباہی کی تمام تر ذمے داری نئی حکومت کے تین ماہ کے فیصلوں پر عائد کررہی ہے۔ یہ صورت حال عجیب ہے۔ پی ڈی ایم نے حکومت سنبھالتے ہی کہا کہ پی ٹی آئی نے چار سال میں ملک کو تباہ کردیا اور چار سال سے پی ٹی آئی یہ کہتی آرہی تھی کہ پی پی اور ن لیگ نے ملک تباہ کردیا۔ یہاں تک کہ پی پی اور ن لیگ ایک ہوگئے اور اب سابقہ حکومت اور تمام سابقہ حکومتیں ایک ہیں۔ لیکن الزامات کا تبادلہ اسی طرح جاری ہے۔ چلیں یہ تو سیاسی جماعتیں ہیں لیکن ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی تاجر ہوتے ہیں اور وہ خود انتشار کا شکار ہیں۔ سب کے خیالات مختلف ہیں، ایک جانب مرکزی تنظیم تاجران حکومت پاکستان کے فیصلے کے خلاف بجلی کے بلوں میں سیلز ٹیکس کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج میں مصروف ہے، دوسری جانب تاجروں کی مختلف تنظیموں کے مختلف خیالات ہیں۔ چند روز قبل آباد کے چیئرمین محسن شیخانی نے حکومت کی پالیسیوں پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے عہدے سے استعفا دے دیا تھا۔ بیش تر ماہرین معاشیات کا کہنا تھا کہ معاشی بحران کا سبب حکومتوںکے فیصلے آئی ایم ایف کے پاس جانا اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کو قومی اداروں میں دخل دینے کا قانون منظور کرنا تھا۔ لیکن اچانک ملک کے دیگر شعبوں کی طرح تاجروں میں بھی اختلاف رائے سامنے آگیا۔ حتیٰ کہ ایک ہی روز کے اخبار میں تاجروں کے مختلف نمائندوں کے مختلف انداز کے بیانات ہیں۔ کراچی چیمبر کے خیال میں معاشی بحران کی ذمے دار سیاسی جماعتیں ہیں۔ لیکن چیمبر کے رہنمائوں زبیر موتی والا، محمد ادریس، طاہر خالق، ہارون فاروقی اور انجم نثار وغیرہ نے جو بیان جاری کیا ہے اس کی تفصیل میں یہ کہا گیا ہے کہ بینک غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین پر بہت زیادہ منافع کما رہے ہیں۔ انٹربینک ریٹ اور بینکوں کے طے شدہ ریٹ میں فرق دس ڈالر سے بھی زیادہ ہوگیا ہے۔ دو روز قبل یہی بات کہی گئی تھی کہ بینکس دس سے بیس روپے زیادہ چارج کررہے ہیں اور ایل سی کھولنے میں بھی رکاوٹیں ڈال رہے ہیں۔ کراچی چیمبر کے یہ رہنما بتا سکتے ہیں کہ ملک کے کتنے بینک بشمول سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کون کون سی سیاسی جماعتوں کی ملکیت میں ہیں۔ سیاسی جماعتوں اور سیاستدانوں کا نام عمومی طور پر لینا ایک فیشن بن گیا ہے۔ یہ تاجر رہنما اگر جرأت رکھتے ہیں تو کھل کر ان سیاسی جماعتوں کا نام لیں جو اس بحران کا سبب ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ معاشی صورت حال کے باعث کئی تاجر عارضی طور پر کاروبار بند کرنے پر غور کررہے ہیں۔
جس روز یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ کراچی چیمبر نے سیاسی جماعتوں کو معاشی بحران کا ذمے دار قرار دیا ہے، اسی روز یہ خبر بھی شائع ہوئی ہے۔ پاکستانی تاجر برادری کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم یونائٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے کاروبار کی تباہی کا الزام کمزور ترین معاشی پالیسیوں پر عائد کیا ہے۔ یہ پالیسیاں سیاسی جماعتیں ضرور بناتی ہیں لیکن اس وقت جب وہ حکومت میں ہوں تو ان رہنمائوں کو لفظ حکومت کہنے کی ہمت کیوں نہیں ہوتی۔ زبیر طفیل نے سیاستدانوں کو الزامات اور انتقامی سیاست کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کے ملک کے مفاد میں سوچنے کا مشورہ دیا ہے جو ایک صائب مشورہ ہے۔ لیکن معیشت سمیت ہر چیز کا بیڑا غرق کرنے کا الزام جن قوتوں پر لگایا ہے وہ وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک ہیں کہ وہ کمرشل بینکوںکے اختیارات میں کمی نہیں کررہے۔ اس طرح نیشنل بزنس گروپ کے میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ افراط زر کی وجہ ضرورت سے زیادہ کرنسی چھاپنا ہے۔ میاں زاہد نے خرابی اور مہنگائی کی ذمے داری جن شعبوں پر عائد کی ہے ان میں سیاسی محاذ آرائی کو آخری نمبر پر رکھا ہے۔ انہوں نے پہلے نمبر پر عالمی صورت حال کو، دوسرے پر ناکام سرکاری ادارے اور سیاسی محاذ آرائی کو، آخری نمبر پر رکھا ہے۔ سیاسی جماعتوں پر الزام لگانے والے بتادیں کہ عالمی صورت حال کون سی پاکستانی سیاسی جماعت نے خراب کیے ہیں۔ ہاں سرکاری ادارے سیاسی جماعتوں نے ناکام کیے ہیں لیکن جب وہ حکومت میں ہوتی ہیں۔ لہٰذا یہ نہ کہا جائے کہ سیاسی جماعتوں نے خرابی پیدا کی ہے۔ ویسے تو جن جماعتوں کو سیاسی کہا جارہا ہے ان میں سے کتنی سیاسی ہیں اور کتنی گملے کی پنیریاں ہیں اس پر کوئی تاجر تنظیم بیان دے دے۔
ملکی معاشی صورت حال پر ایک تبصرہ پاکستان اکانومی واچ کے چیئرمین بریگیڈیئر (ر) اسلم خان نے کیا ہے کہ بااثر اشرافیہ ٹیکس دے، قرضوں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ چونتیس برس سے ہر حکومت ملکی ترقی کے دعوے کررہی ہے لیکن ملک پھر بھی بحران میں ہے۔ یہ تجزیہ تمام تاجروں اور ان کی تنظیموں کے تبصروں پر بھاری ہے، چوں کہ اکانومی واچ کو ریبیٹ لینا ہے نہ دوہرے ٹیکس کاغذات بنانے ہیں نہ ٹیکس مارنا ہے اس لیے اکانومی واچ نے درست نشاندہی کی ہے کہ نام نہاد معاشی ماہرین کو نئے قرضے لے کر پرانے قرضے ادا کرنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ اب ایک ہی بات رہ جاتی ہے کہ ان حکمرانوں، معاشی ماہرین اور غیر ملکی اداروں کو مسلط کرنے والے سلیکٹرز کا بھی کوئی نام لے دے۔ تا کہ یہ دائرہ مکمل ہوجائے ورنہ الزام تراشیوں کے کھیل میں جیت کسی کی نہیں ہوتی قوم کا نقصان ہوتا رہتا ہے۔