بلوچستان: بارشوں اور سیلاب سے تباہی

299

وطن عزیز میں طوفانی بارشوں کے بعد موثر پلاننگ اور انفرا اسٹریکچر ٹھیک نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی صورت حال ہے، سب سے زیادہ بلوچستان متاثر ہوا ہے، وہاں مون سون کی تباہ کاریاں جاری ہیں، سوشل میڈیا پر ڈوبتے بچوں کی تصاویر و ویڈیو آرہی ہیں جن میں سیلاب کے پانی میں کم سن بچوں سمیت خواتین کو ڈوبتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب کہ کئی ویڈیوز اور تصاویر میں گھروں سمیت مویشی بھی سیلاب میں بہتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ چیف سیکرٹری بلوچستان عبدالعزیز عقیلی کے مطابق بارش اور سیلاب سے بلوچستان میں 6077 مکمل اور 10 ہزار سے زائد گھر جزوی طور پر تباہ ہوئے۔ مون سون سیزن کے دوران 500 فی صد زیادہ بارشیں ہوئی ہیں۔ بارشوں اور سیلابی صورتِ حال سے 10 اضلاع زیادہ متاثرہ ہوئے ہیں، مجموعی طور پر 111 اموات ہوئی ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ سندھ کو بلوچستان سے ملانے والی خضدار شہداد کوٹ ایم ایٹ قومی شاہراہ بھی شدید موسم کے باعث بند ہے۔ کراچی کوئٹہ قومی شاہراہ، بیلا، اوتھل، وندر، اور گڈانی کے مقام سے بہہ گئی ہے، چار پل بھی سیلاب کی نذر ہوگئے ہیں، پاک افغان بارڈر باب دوستی آمدو رفت کے لیے بند ہے جبکہ پاکستان اور ایران کے درمیان ریلوے اور سڑک کا رابطہ بھی منقطع ہوگیا ہے کہا جارہا ہے اسے بحال ہونے میں ہفتہ لگے گا۔ بلوچستان میں 1998 اور اس کے بعد 2010ء میں تباہ کن سیلاب آچکے ہیں، طوفانی بارشوں اور سیلاب سے 2021 میں بھی ہلاکتیں ہوئی تھیں۔ صوبے میں سیلابی صورتحال کے بعد بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو نے اپنا لندن کا دورہ بھی منسوخ کردیا جب کہ تمام سرکاری افسران کی چھٹیاں منسوخ کرتے ہوئے صوبے میں ہنگامی حالات کے نفاذ کا اعلان کیا ہے لیکن صورت حال قابو میں نہیں ہے، موسلا دھار بارشیں تقریباً ہر سال ہی بلوچستان کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی وجہ بن جاتی ہے، الخدمت کے مطابق ضلع جھل مگسی کا شہر گنداوا مکمل طور پر زیر آب ہے جب کہ گنداوا کے 8 ہزار گھرانے بھی زیر آب ہونے کی وجہ سے امداد کے منتظر ہیں۔ ریسکیو اور ریلیف کی کارروائیوں میں امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کی خصوصی ہدایات پر بارشوں سے پیدا ہونے والی تباہ کن صورتحال کے پیش نظر الخدمت ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور آف روڈ کلب پاکستان کا متاثرہ پسماندہ گائوں گوٹھوں میں مشترکہ ریلیف آپریشن جاری ہے۔ بارش سے متاثرہ خاندانوں میں راشن پیک، پکاہوا کھانا، پینے کا پانی و دیگر اجناس تقسیم کیے جارہے ہیں۔ بلوچستان کی موجودہ صورت حال سے پورا پاکستان تشویش میں مبتلا ہے اور لوگ فکر مند ہیں یہ ہمارا آدھا پاکستان ہے ملک کے کل رقبے کے 42فی صد حصے پر پھیلا ہوا ہے‘ پہلے ہی موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث مسلسل زلزلے کی زد میں رہتا ہے، یہ معدنی دولت، تیل، پٹرول، ڈیزل، سونا، چاندی، گیس، کوئلہ سے مالامال خطہ ہے، لیکن عالمی کھیل، دہشت گردی اور ریاست کی عدم توجہ کی وجہ سے آج یہاں کے لوگ بدترین زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، پسماندگی جابجا عیاں ہے، تعلیم، صحت و آمدو رفت اور روز گار کے وسائل بہت کم اور احسان کرکے دیے جاتے ہیں۔ پورے پاکستان میں یہاں کی گیس سے چولھے جلتے ہیں لیکن جہاں سے یہ گیس نکلتی ہے وہاں چولھے بجھے رہتے ہیں، گوادر کو سی پیک کا سب سے اہم حصہ ہے لیکن وہاں کے لوگ اپنے حق کے لیے در در پھر رہے ہیں، مائیں، بہنیں سڑکوں پر احتجاج کررہی ہیں، یہاں کے باشندوں کو قدرتی آفات سے بچانے کے لیے کسی بھی حکومت کی طرف سے کوئی ایسے انتظامات و اقدامات نہیں کیے گئے جس سے بروقت یہاں کے پسماندہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ یہاں کے لوگوں کی بدقسمتی رہی ہے کہ تاریخی طور پر انہیں ہر دور حکومت میں نظر انداز کیا گیا ہے، یہاں کے لیے حکومتیں عمل کچھ نہیں کرتی ہیں، اعلانات بہت کرتی ہیں، وہاں کی اکثریت مٹی کے بنے ہوئے گھروں میں رہتے ہیں، جواب باہر سڑکوں، گلیوں یا میدانوں میں کھلے آسمان تلے اپنے بچے کھچے سامان اور کے ساتھ رات دن گزارنے پر مجبور ہیں۔ بلوچستان کی پسی عوام کو جہاں اہل اقتدار کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہے، وہاں اہل خیر افراد کو بھی بلوچستان کے عوام کو اس مشکل وقت میں تنہا نہیں چھوڑنا چاہیے۔