پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نے معرکہ مار لیا، سبطین خان اسپیکر منتخب

224

لاہور: پی ٹی آئی نے پنجاب اسمبلی میں اسپیکر کے انتخاب میں ن لیگ کو شکست دے دی۔ تحریک انصاف کے امیدوار سبطین خان صوبائی اسمبلی کے اسپیکر منتخب ہوگئے۔

نجی ٹی وی کے مطابق پینل آف چیئرمین کے سینئر ممبر نواب زادہ وسیم خان بادوزئی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا اجلاس  منعقد ہوا، جس میں نئے اسپیکر کا انتخاب کیا گیا۔ تحریک انصاف کی جانب سے سبطین خان اور ن لیگ اتحاد کی جانب سے سیف الملوک کھوکھر کے درمیان سخت مقابلہ ہوا۔ اجلاس شروع ہوتے ہی مسلم لیگ ن کے رکن اسمبلی طاہر خلیل سندھو نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرنے کی اجازت مانگی تاہم چیئرمین نے انکار کردیا جس پر ن لیگی رکن نے احتجاجاً پولنگ بوتھ پر چادریں لگا دی۔

ن لیگی ارکان کی جانب سے ایوان میں کیمروں کی تنصیب کی جگہ پر اعتراض کیا گیا جس پر پولنگ بوتھ کی جگہ تبدیل کرتے ہوئے انہیں اسپیکر کی نشست کے دائیں اور بائیں رکھ دیا گیا ساتھ ہی بوتھ کے اوپر لگائے گئے سی سی ٹی وی کیمروں کے اوپر بھی کپڑا ڈال دیا گیا۔بعدازاں چیئرمین نے ووٹنگ کا عمل شروع کیا اور ممبران کو دوحصوں میں تقسیم کردیا جس کے بعد خفیہ رائے شماری کے ذریعے ووٹنگ کا عمل ہوا۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں پہلا ووٹ پی پی 254 افتخار گیلانی نے کاسٹ کیا۔ پی ٹی آئی سے منحرف ہو کر الیکشن جیتنے والے راجہ صغیر کا ووٹ ڈالنے پر لوٹے لوٹے کے نعرے لگ گئے جس پر چیئرمین نے نعرے لگانے سے منع کردیا۔ چودھری نثار علی خاں ووٹ ڈالنے نہیں آسکے۔ حمزہ شہباز شریف، عثمان بزدار، پرویز الہی اور خود چیئرمین پینل وسیم خان بادوزئی نے بھی اپنے اپنے ووٹ کاسٹ کیے۔

پی ٹی آئی  کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے لیے واثق قیوم کا نام سامنے آیا، واثق قیوم نے جب اپنا ووٹ کاسٹ کیا تو حکومتی ارکان نے ڈپٹی اسپیکر ڈپٹی اسپیکر کے نعرے لگائے۔ ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری ووٹ ڈالنے آگئے تو ان پر لوٹے لوٹے کے نعرے لگے جواب میں مسلم لیگ ن کی جانب سے بھی شوروغل کیا گیا جس پر چیئرمین پینل نے ارکان کو نعرے بازی سے منع کردیا۔

ن لیگی ایم پی ایز نے پولنگ بوتھ کے آگے جمع ہوگے نعرے بازی شروع کردی جس پر پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی سے نمٹنے کے لیے سیکیورٹی طلب کرلی گئی جس نے اسپیکر کی چیئر کے گرد حصار قائم کرلیا۔اسپیکر کے امیدوار سبطین خان نے پینل آف چیئرمین کو تحریری اعتراض جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ یہ لوگ چار بیلٹ پیپرز لے گئے ہیں، ان بیلٹ پیپرز کی ریکوری کرائی جائے، یہ بیلٹ پیپرز میرے خلاف استعمال ہوسکتے ہیں، جس پر چیئرمین پینل نے رولنگ دی کہ بیلٹ پیپرز واپس کیے جائیں۔

ن لیگی رہنما عطا تارڑ نے کہا کہ کچھ دیر پہلے پولنگ میں انکشاف ہوا ہے کہ ق لیگ اور پی ٹی آئی کو جو بیلٹ پیپرز دیے جارہے ان پر سیریل نمبر درج ہے جس سے ووٹنگ خفیہ نہیں رہی، پرویز الہی اور ان کے صاحبزادے نے دھاندلی کا منصوبہ بنایا ہے، یہ ووٹنگ آئین کے تحت خفیہ نہیں رہی، اس پر نمبر درج نہیں ہونا چاہیے، آئینی طور پر یہ پولنگ کالعدم ہے۔

ہنگامہ آرائی کے باوجود ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی کی گئی۔ بعدازاں چیئرمین پینل وسیم بادوزئی نے تحریک انصاف کے امیدوار سبطین خان کی فتح کا اعلان کردیا۔ سبطین خان پنجاب اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہوگئے جس پر تحریک انصاف کے ارکان نے ایوان میں نعرے بازی کی۔ پینل چیئر وسیم بادوزئی نے اپنے اعلان میں بتایا کہ سبطین خان نے 185 اور سیف کھوکھر نے 175 ووٹ حاصل کیے، جب کہ 4 ووٹ مسترد ہوئے۔

ن لیگی ارکان میں جلیل شرق پوری، فیصل نیازی، مولوی عیاث الدین اور پی ٹی آئی کے رکن میاں مسعود نے ووٹ نہیں ڈالا، جعلی ڈگری کیس میں نااہل ہونے والے چوہدری کاشف نے بھی ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔ بعدازاں چیئرمین پینل وسیم خان نے سبطین خان نے بطور اسپیکر پنجاب اسمبلی حلف لیا جس کے بعد پی ٹی آئی ارکان نے انہیں مبارک باد دی۔