اداروں سے نہیں کچھ افراد سے شکایت ہوسکتی ہے، مولانا فضل الرحمان

152
not from institutions

پشاور: پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم)کے سربراہ اور امیر جمعیت علمائے اسلام (ف)مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ہمارا مطالبہ تھا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے، وزیراعظم اپنے تمام ماتحت اداروں سے مل کر کام کر رہے ہیں، ہمیں اداروں سے نہیں کچھ افراد سے شکایت ہوسکتی ہے، کیا سارے فیصلے تین جج ہی کریں گے۔

ہفتہ کو پشاور میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل کے اخلاق کوخراب کیا جارہا ہے، معاشرے میں بے حیائی،بداخلاقی کا فروغ دیا جارہا ہے۔ 2013 میں ایک وفد نے مجھے کہا پشتون بیلٹ میں مذہب کی گہری جڑوں کو اکھاڑنے کے لیے عمران سے زیادہ مناسب آدمی نہیں، 15سال تک این جی اوپرپیسہ خرچ کیا گیا، اس نے پشتون قوم کی روایات، مہمان داری کو تباہ کردیا، ایسے باطل طبقے کے خلاف اکیلا بھی لڑنا پڑا تولڑوں گا۔

پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ آج پتا چلا چینج رجیم کون ہے، کہتا ہے بین الاقوامی طاقت کے ذریعے نکالا گیا، آپ کونکالا نہیں بین الاقوامی طاقت کے ذریعے لایا گیا تھا، مجھے افسوس ہے اشرافیہ کے گھروں سے ان کو سپورٹ ملی۔اس کو اقتدارسے اتارنا کافی نہیں، نام ونشان کو بھی مٹانا ہے، ہتھیار نہیں ڈالنے، سیاسی، آئین کی جنگ لڑنی ہے، اگر کوئی طاقت نوجوانوں کے اخلاق کو تباہ کرے تو پہلے علما کرام کا رول بنتا ہے، اگرکوئی علماکرام اس کے ساتھ ہے تو وہ چھٹی انگلی ہے جس کو کاٹ کرپھینک دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ جلسوں میں کہا تھا ملک کو تباہ کر دیا گیا، آج ہم محسوس کر رہے ہیں ہمیں کس دلدل میں پھنسایا گیا، امریکا کے ساتھ ہمارا نظریاتی اختلاف ہے، امریکا پاکستان کا دوست ہو کر بھی اقتصادی مشکلات کیوں پیدا کر رہا ہے، چارسال کی دلدل سے نکلنے کے لیے چارماہ کافی نہیں۔ ہمارا مطالبہ تھا اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل رہے، وزیراعظم اپنے تمام ماتحت اداروں سے مل کر کام کر رہے ہیں، ہمیں اداروں سے نہیں کچھ افراد سے شکایت ہوسکتی ہے، کیا سارے فیصلے تین جج ہی کریں گے۔