ایک ملک 2 حکمران

312

اگر بادی النظر میں دیکھا جائے تو اس وقت ہمارے ملک میں بیک وقت دو حکمران ہیں ایک بارہ جماعتی اتحاد کے رہنما شہباز شریف ہیں جو آئینی اور قانونی طور پر ملک کے وزیر اعظم ہیں، دوسرے پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان جو آئینی اور قانونی طور پر سربراہ مملکت تو نہیں ہیں لیکن سب سے بڑے صوبے میں ان کی حکومت ہے، کے پی کے اور کشمیر میں تو پہلے ہی سے پی ٹی آئی کی حکومتیں قائم ہیں بلوچستان میں بھی ان کا اثر رسوخ کچھ کم نہیں ہے سندھ کے مرکز اور سب سے بڑے شہر کراچی میں بھی پی ٹی آئی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کی تعداد اور جماعتوں سے زیادہ ہے اس طرح اگر دیکھا جائے تو عمران خان ملک کے آئینی سربراہ نہ ہونے کے باوجود اس وقت ملک کی سب سے زیادہ طاقتور شخصیت ہیں اور ان کے مقابلے میں چند ووٹوں کے اضافے سے بننے والے وزیر اعظم ایک کمزور فرد نظر آتے ہیں۔
22جولائی بروز جمعہ جب وزارت عُلیا پنجاب کا انتخاب ہوا تو تحریک انصاف اور ق لیگ کو 100فی صد یہ امید تھی پرویز الٰہی وزیر اعلیٰ منتخب ہو جائیں گے، اس لیے کہ پی ٹی آئی اور ق لیگ کے ملا کر تعداد 186 بن رہی تھی اور بارہ جماعتی اتحاد کے ووٹوں کی تعداد 179ہورہی تھی لیکن آصف زرداری نے جو ترپ کی چال چلی اور چودھری شجاعت کے پاس پانچ گھنٹے بیٹھ کر ان سے وہ خط لکھوانے میں کامیاب ہوگئے کہ جس میں ڈپٹی اسپیکر کو کہا گیا کہ ق لیگ کے دس ووٹ گنتی میں شمار نہ کیے جائیں کہ انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عمران خان کے امیدوار کو ووٹ نہ دیں، اس طرح ڈپٹی اسپیکر نے پرویز الٰہی کے 186ووٹوں میں سے 10ق لیگ کے ووٹ منہا کردیے اور اس طرح پرویز الٰہی کے 176ووٹ رہ گئے اور 3ووٹوں کی برتری سے حمزہ شہباز وزیر اعلیٰ برقرار رہے۔ حمزہ شہباز نے اسی دن حلف بھی اٹھا لیا اور اپنی چالیس رکنی کابینہ کا بھی اعلان کرکے ان کی حلف برداری بھی کرلی۔
جمعہ کی رات ہی کو پرویز الٰہی نے عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا رات گئے ان کی پٹیشن سماعت کے لیے منظور ہو گئی لیکن اس کی سماعت دوسرے دن یعنی ہفتے والے دن ہوئی اسی دن بارہ جماعتی اتحاد نے پرویز الٰہی کی پٹیشن کی سماعت کرنے والے تین رکنی بنچ جس کے سربراہ چیف جسٹس عطا بندیال تھے کو درخواست دی کہ عدالت عظمیٰ کا فل بنچ اس کیس کی سماعت کرے لیکن اس تین رکنی بنچ نے اتحادی جماعت کی طرف سے دائر کردہ درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ اس وقت فل بنچ نہیں بن سکتا اس کے لیے ستمبر تک انتظار کرنا پڑے گا۔ جس وقت پرویز الٰہی اپنا کیس عدالت عظمیٰ میں لے کر گئے تو اسی دن پی ڈی ایم کے رہنمائوں کا اہم اجلاس ہوا اور اس میں یہ طے کیا گیا کہ عدالت عظمیٰ اور اس کے ججوں کے خلاف سخت زبان استعمال کی جائے اور اگر فل بنچ کی درخواست مسترد ہوتی ہے تو عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کیا جائے پیر والے دن مختلف وکلا نے دلائل دیے پھر سماعت منگل تک کے لیے ملتوی کردی گئی منگل والے دن مختصر سماعت کے بعد تین رکنی بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا اور پھر رات نو بجے گیارہ صفحات پر مشتمل فیصلہ سنایا جس میں ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں انہوں نے ق لیگ کے دس ووٹوں کو گنتی سے منہا کردیا تھا اور حمزہ شہباز کو جتوا دیا تھا۔
یہاں پر ایک بات قابل غور ہے کہ اس دوران پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے عدالت عظمیٰ کے ججوں کے خلاف بڑی سخت زبان استعمال کی بالخصوص فیصلہ آجانے کے بعد پی ڈی ایم کے رہنمائوں کا غصہ اور زیادہ شدید ہوگیا مریم نواز نے کہا کہ جس طرح میچ فکسنگ ہوتی ہے اسی طرح بنچ فکسنگ ہوتی ہے عدالت عظمیٰ کے تینی ججوں نے بڑے حوصلے سے اپنے اوپر ہونے والی تنقیدوں کے تیروں کو برداشت کیا اسی لیے انہوں نے اپنے فیصلے میں یہ لکھا کہ آج یعنی منگل کی رات ہی کو ساڑھے گیارہ بجے تک گورنر پرویز الٰہی سے حلف لے لیں اگر گورنر حلف نہ لیں تو پھر صدر ان سے حلف لے لیں چنانچہ جب گورنر نے حلف لینے سے انکار کردیا تو پھر رات ساڑھے بارہ بجے کی فلائٹ سے پرویز الٰہی اسلام آباد گئے اور وہاں صدر جناب عارف علوی نے ان سے رات دو بجے حلف لیا۔ دوسرے دن پرویز الٰہی نے بنی گالا جا کر عمران خان سے ملاقات کی اور عمران خان نے بدھ والے دن یوم تشکر منانے کا اعلان کیا پھر رات کو انہوں نے ویڈیو لنک پر ہر شہر میں یوم تشکر پر جمع ہونے والے افراد سے خطاب کیا۔
بدھ والے دن جہاں تحریک انصاف نے یوم تشکر منایا اور ایک گھنٹے سے زائد پوری قوم سے خطاب کیا دوسری طرف پی ڈی ایم اور دیگر اتحادی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی نے اجلاس میں ایک قرارداد پاس کی ہے جس میں عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے اختیارات کو کم کرنے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس کے اختیارات کو کم کرنے کے ساتھ یہ اصول بھی طے کرے گی کہ عدلیہ مقننہ کے دائرے میں دخل اندازی نہ کرے۔ دیکھیے اب آگے کیا ہوتا ہے فی الحال تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ یہ ملک جو تیزی سے دیوالیے کی طرف جا رہا ہے اسے کیسے روکا جائے، عمران خان نے جو ایک گھنٹے کی تقریر کی اس میں انہوں نے نئے انتخابات کے حوالے سے کوئی بات نہیں کی اس لیے ایسا لگتا ہے کہ وہ جلد انتخابات کے مطالبے سے تھوڑا پیچھے ہٹ رہے ہیں تاکہ موجودہ حکمران ملک کی ابتر معیشت کا مقابلہ کریں وہ معاشی بد حالی پر قابو نہ پا سکیں گے اور پھر عوام میں ان کی سیاسی پوزیشن خراب سے خراب تر ہوتی رہے۔