اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ناقابل فہم فیصلے

423

وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بعض ناقابل فہم فیصلے کئے گئے ہیں جن کا ملک کی تباہ حال معاشی صورت حال میں جواز تلاش کرنا خاصا دقت طلب کام ہے، کمیٹی نے جوتوں، کاسمیٹکس، میک اپ کے سامان، کنفیکشنری، کراکری، فرنیچر، مچھلی، منجمد خوراک، پھل، خشک میوہ جات، نجی اسلحہ، پر تعیش گدے، سلیپنگ بیگ، جام جیلی، دھوپ کی عینکیں، آلات موسیقی، سیلون اور شیونگ کے سامان سمیت تیس کیٹگریز کی مختلف اشیائے تعیش کی درآمد پر عائد پابندی ختم کرنے کی منظوری دے دی قبل ازیں ملک کی نازک معاشی حالت کے پیش نظر 19 مئی کو ان اشیائے تعیش کی درآمد پر پابندی لگائی گئی تھی، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے جمعرات کو اپنے اجلاس میں جن 545 اشیاء کی درآمد کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ان میں بارہ اقسام کے ٹریولنگ بیگ اور سوٹ کیس، دو اقسام کے دھوپ کے چشمے، بارہ اقسام کے آلات موسیقی، سات اقسام کا پاستہ اور میکرونی، ستر اقسام کا اسلحہ، ستائیس اقسام کے موبائل فون، چھ اقسام کا گوشت،پانچ اقسام کے فوم کے گدے، دس اقسام کی چمڑے کی جیکٹیں اور ملبوسات، بہتر اقسام کی جام جیلی، دس اقسام کی برانڈڈآئس کریم، تریسٹھ اقسام کے الیکٹرانکس اور گیس سے چلنے والے ہوم ایپلائنسز، چوبیس اقسام کا فرنیچر اور لکڑی کی مصنوعات، تیئس اقسام کے خشک میوہ جات، سولہ برانڈز کے جوتے اور چپل، بتیس اقسام کی مچھلی، سات بڑی کمپنیوں کے تیار کردہ دروازے اور فریم، دو کمپنیوں کی بنائی ہوئی بلیوں اور کتوں کی خوراک، پندرہ اقسام کی گھریلو سجاوٹ کی اشیا، بتیس اقسام کے برتن اور ڈنر سیٹ، ستائیس اقسام کے کاسمیٹکس اور شیونگ کا سامان، چار اقسام کا کارن فلیکس، دس اقسام کی ٹافیاں اور کینڈیز، نو عالمی برانڈزکے سگریٹ، چار اقسام کی چاکلیٹ، سات اقسام کے برقی قمقمے، اٹھارہ اقسام کے غیر ملکی قالین، انیس اقسام کی باتھ روم کی اشیا، سات اقسام کے جوسز اور منرل واٹر شامل ہیں۔ 49 اقسام کی گاڑیاں بشمول بلٹ پروف گاڑیاں، تمام اقسام کے موبائل فون اور 63 اقسام کی الیکٹرانک اور گیس کی ہوم ایپلائنسز کی درآمد پر پابندی برقرار رہے گی۔ جن اشیاء کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے ان کی فہرست پر دوبارہ نظر ڈالئے، ان میں ایک بھی چیز ایسی نہیں جس کی درآمد کے، بغیر اہل وطن کا گزارا نہ ہو سکتا ہو اس لیے اس کو بیرون ملک سے منگوانا ہماری مجبوری یا ضرورت ہو، ان میں سے کم و بیش تمام اشیاء پاکستان کے اندر بنتی اور با افراط دستیاب ہیں، اس فیصلے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ملک میں زر مبادلہ کے ذخائر کی ریل پیل ہے اور ان اشیاء کی درآمد کے لیے ڈالر نامی کرنسی وافر مقدار میں دستیاب ہے جب کہ عملی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں ڈالر ڈھونڈے سے نہیں ملتا اور وہ پاکستانی کرنسی روپے کو بری طرح روندتا ہوا تیزی سے آسمان کی بلندیوں کی جانب محو پرواز ہے، ملک کی سسکتی ڈوبتی معیشت میں ہمارے حکمرانوں کی اشیائے تعیش کی درآمد کی اجازت دینے کی حکمت عملی سمجھ سے بالاتر ہے جب کہ پہلے ہی ملک کا تجارتی خسارہ بلند ترین سطح کو چھو رہا ہے، اشیائے تعیش کی درآمد کی حالیہ اجازت سے قبل ہی عالم یہ ہے کہ تجارتی خسارہ ایک سال پہلے کے 30 ارب 96 کروڑ ڈالر کے مقابلے میں تیس جون کو ختم ہونے والے مالی سال میں 48 ارب 66 کروڑ ڈالر کی ریکارڈ تاریخی سطح کو چھو رہا ہے اور اس خسارہ کا بڑا سبب توقع سے زیادہ درآمدات ہی ہیں جن کے باعث خسارے میں 57 فیصد اضافہ سامنے آیا ہے۔ مئی 2022ء میں حکومت کی جانب سے 800 سے زائد اشیاء کی در آمد پر پابندی کے باوجود یہ خسارہ خطر ناک حد تک پہنچ چکا ہے دوسری جانب ہماری برآمدات دو ارب 80 کروڑ ماہانہ پر رکی ہوئی ہیں جب کہ درآمدی بل 2021-22ء کے مالی سال کے دوران 45ء 43 فیصد اضافہ کے ساتھ 80 ارب 51 کروڑ ڈالر ہو گیا جو ایک برس قبل 56 ارب 12 کروڑ ڈالر تھا۔ دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ مئی میں 800 اشیاء کی درآمد پر پابندی کے باوجود جون میں ہمارے درآمدی بل میں کمی کی بجائے 14.32 فیصد اضافہ ہوا۔ جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہماری قومی معیشت کس قدر دبائو کی شکار ہے اس کے باوجود وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے ساڑھے پانچ سو غیر ضروری اشیاء کی درآمد کی اجازت دینے کا واضح مطلب اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے حکمران جانتے بوجھتے معیشت کو تباہی سے دو چار کرنے کے در پے ہیں وہ فیصلے ملکی مفاد کی بجائے اندرونی اور بیرونی آقائوں کے دبائو اور ان کی خوشنودی کو پیش نظر رکھ کر کرتے ہیں۔ ہماری اقتصادی رابطہ کمیٹی کا یہ تازہ فیصلہ اس لحاظ سے یقیناً بہت تکلیف دہ اور افسوس ناک ہے کہ اس کے نتیجے میں حکمرانوں کے بعض بیرونی آقا اور اندرون ملک درآمد کنندگان تو شاید خوش ہو جائیں گے مگر اس کے سبب قومی معیشت کو جس خسارے کا سامنا کرنا پڑے گا اس کی کسی کو پروا نہیں… پریشانی کی بات یہ بھی ہے کہ ملک میں کوئی ایسی قوت موجود نہیں جو حکمرانوں کے ملک و قوم کے مفاد کے منافی فیصلوں پر ان کا ہاتھ پکڑ سکے…!!!
اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اسی اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ بیرون ملک سے مجموعی طور پر سولہ لاکھ ٹن گندم درآمد کی جائے گی جس میں سے پانچ لاکھ ٹن گندم کی درآمد کے ٹینڈر کی منظوری کمیٹی نے دے دی۔ یہ کس قدر افسوس ناک بات ہے کہ ہم ایک زرعی ملک ہونے کے دعویدار ہیں، اللہ تعالیٰ نے ہمیں نہایت ذرخیز زمین اور موزوں موسم سے نوازا ہے مگر ہم اپنی بے تدبیری اور نا اہلی کے باعث گندم جیسی بنیادی ضرورت بیرون ملک سے درآمد کرنے پر مجبور ہیں اور اس درآمد پر بھی زر مبادلہ میں سے خطیر رقم خرچ کرنا پڑتی ہے حالانکہ اگر ذرا سی توجہ دی جائے تو اپنے کسان اور زرمیندار کو بعض آسانیاں اور بروقت ترغیبات فراہم کر کے ہم اپنی گندم کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کر سکتے ہیں اس گندم اور دیگر اجناس کی درآمد پر خرچ ہونے والا قیمتی زر مبادلہ بآسانی بچایا جا سکتا ہے مگر افسوس کہ ہمارے حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کو اس جانب توجہ دینے کی فرصت ہی نہیں…!
ایک فیصلہ اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اپنے اس اجلاس میں یہ بھی کیا کہ پٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم ڈیلرز کا منافع بڑھا کر سات روپے فی لٹر کر دیا جائے ظاہر ہے کہ اس کا بوجھ بھی صارفین ہی کو برداشت کرنا پڑے گا جن کی کمر پٹرولیم مصنوعات کی ناقابل برداشت قیمتوں کے باعث پہلے ہی ٹوٹ رہی ہے۔ اس ضمن میں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ جہاں مناسب شرح منافع پٹرولیم ڈیلرز کا حق ہے وہیں ملاوٹ سے پاک اور پوری مقدار میں ڈیزل اور پٹرول وغیرہ حاصل کرنا صارفین کا بھی حق ہے جب کہ اس کو یقینی بنانا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر اس وقت انتہائی مہنگی ہونے کے باوجود پٹرولیم منصوعات ملاوٹ سے پاک اور پوری مقدار میں ملک بھر میں شاید ہی کہیں دستیاب ہوں… کیا حکومت اور پٹرولیم ڈیلرز اپنی اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جانب بھی توجہ دیں گے…؟