نئے انتخابات پر فضل الرحمن کے سوا دیگر راضی ہیں، شیخ رشید

222

راولپنڈی: عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشیداحمد نے کہا ہے کہ ‏ضمنی الیکشن کے بجائے نئے الیکشن پر معاملات طے پا گئے ہیں، تاہم فضل الرحمن راضی نہیں۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں شیخ رشید کا مزید کہنا تھا کہ اکتوبر میں الیکشن کی تاریخ،نئے الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کا فیصلہ قوم جلد سن لے گی۔قرنطینہ والے بھی الیکشن مان گئے ہیں،صرف فضل الرحمن رہ گئے ہیں۔‏اتحادیوں کی سیاسی ساکھ راکھ بن گئی ہے۔

شیخ رشید نے کہا کہ نہ یہ عوام میں جانے کے قابل، نہ فرار ہونے، نہ ہی باہر سے بلانے کے قابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب خلق خدا فیصلہ کرے گی ۔جمہوریت مذاق اور اسمبلی تماشا بن گئی ہے۔ ڈالر 250 کا،بجلی اور LPG میں 10 روپے کا اضافہ مارکیٹیں بند کرا دے گا۔بحران سری لنکا سے لبنان، عراق اور اب پاکستان کی طرف آرہا ہے۔ ان ہی دنوں میں یورپ میں 4حکومتیں ختم ہو گئی ہیں۔

دوسرے ٹوئٹر بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کا گورنر لگا نہیں سکے۔30 لگژری اشیا پر پابندی ختم۔S&P کا کریڈٹ منفی۔IMFنے ابھی تک بیل آؤٹ نہیں کیا۔ق لیگ کا نیا صدر اپنے 2 وزرا کو واپس بلائے گا۔BAP والوں نے بستر باندھ لیا ہے۔6ہزار میگاواٹ بجلی کا شارٹ فال اور6 ہزار کا دکانداروں پر اضافی ٹیکس مزید معاشی تباہی لائے گا۔