شریف خاندان اپنی تاریخ کے آئینے میں

647

سپریم کورٹ آف پاکستان نے بالآخر پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کی رولنگ کو کالعدم قرار دے کر چودھری پرویز الٰہی کو پنجاب کا وزیراعلیٰ مقرر کردیا ہے جس کے بعد پرویز الٰہی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ پرویز الٰہی کو پنجاب اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں 186 جب کہ حمزہ شہباز کو صرف 179 ووٹ ملے تھے۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ پنجاب کے گورنر کو چاہیے کہ وہ پرویز الٰہی سے حلف لیں لیکن اگر وہ حلف نہ لیں تو پھر صدر مملکت پنجاب کے نئے وزیراعلیٰ سے حلف لیں۔ نواز لیگ کی مریم نواز نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو جوڈیشل کوُ یا عدالتی مارشل لا قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے پی ڈی ایم کی پوری قیادت اعلان کرچکی تھی کہ اگر عدالت عظمیٰ نے حمزہ شہباز شریف کے خلاف فیصلہ کیا تو اس فیصلے کو قبول نہیں کیاجائے گا۔ اس سلسلے میں مریم نواز سب سے زیادہ متحرک تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ ہماری اعلیٰ عدلیہ ہمیشہ سے شریفوں اور نواز لیگ کے خلاف رہی ہے اور اس نے ہمیشہ ہمارے خلاف فیصلے دیے ہیں۔ وہ مسلسل اس بات کا ماتم کررہی تھیں کہ شریف خاندان مظلوم ہے اور پورا ریاستی بندوبست ظالم ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں تین ہی دیوقامت لوگ گزرے ہیں۔ قائداعظم، لیاقت علی خان اور مولانا مودودی۔ ان کے سوا جوتھا بونا تھا ذوالفقار علی بھٹو بونے تھے۔ جنرل ایوب خان بونے تھے، جنرل ضیا الحق بونے تھے مگر شریف خاندان کے اراکین تو بونے بھی نہیں ہیں۔ وہ بالشتے ہیں، ان میں سے کسی کا قد ایک بالشت ہے، کسی کا ڈیڑھ بالشت ہے۔ اس کے باوجود شریف خاندان خود کو دیوقامت لوگوں کا خاندان باور کراتا ہے۔ شریف خاندان اور اعلیٰ عدلیہ کے تعلق کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ 1990ء کی دہائی میں بے نظیر بھٹو کی حکومت بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات کے تحت برطرف ہوئی۔ بے نظیر حکومت کی بحالی کی درخواست لے کر عدالت عظمیٰ پہنچیں مگر عدالت عظمیٰ نے بے نظیر کی حکومت کو بحال کرنے سے انکار کردیا۔ بے نظیر بھٹو کے بعد میاں نواز شریف کی حکومت بھی بدعنوانی اور نااہلی کے الزامات کے تحت برطرف ہوئی۔ میاں صاحب نے بھی عدالت عظمیٰ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور عدالت عظمیٰ نے میاں صاحب کی حکومت کو بحال کردیا۔ اس ہولناک امتیاز کا ایک سبب تو حامد میر کی اصطلاح میں ڈومیسائل کا فرق تھا۔ بے نظیر بھٹو کا ڈومیسائل سندھ کا تھا اور میاں نواز شریف کا
ڈومیسائل پنجاب بلکہ ’’وسطی پنجاب‘‘ کا تھا۔ اس فرق کا دوسرا سبب بے نظیر بھٹو نے ’’چمک‘‘ کو قرار دیا۔ چمک 1990ء کی دہائی کی اصطلاح تھی اس لیے شاید اب لوگ اس کے معنی نہ سمجھ سکیں۔ چناں چہ اطلاعاً عرض ہے کہ بے نظیر بھٹو نے میاں نواز شریف پر الزام لگایا کہ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے ججوں کو رشوت دے کر اپنے حق میں فیصلہ لکھوایا ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی تاریخ شرمناک ہے۔ یہ ہماری اعلیٰ عدلیہ ہی ہے جس نے جنرل ایوب کے مارشل لا کو تحفظ فراہم کیا۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ ہی نے جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کو ’’حلال‘‘ قرار دیا۔ ہماری اعلیٰ عدلیہ ہی نے جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کو سند ِ جواز عطا کی۔ یہ ہماری اعلیٰ عدلیہ ہی تھی جس نے ذوالفقار علی کو پھانسی پر لٹکایا۔ مگر اس کے باوجود معاشرے کے کسی بھی طبقے نے کبھی اعلیٰ عدلیہ پر حملہ نہیں کرایا۔ بھٹو کی پھانسی ہر اعتبار سے ’’جوڈیشل مرڈر‘‘ تھی مگر پیپلز پارٹی نے عدالت عظمیٰ پر حملہ نہیں کرایا۔ لیکن میاں نواز شریف اور نواز لیگ کی تاریخ یہ ہے کہ انہوں نے جسٹس سجاد علی شاہ کے زمانے میں عدالت عظمیٰ پر منصوبے کے تحت حملہ کردیا۔ نواز لیگ کے غنڈوں نے ہر طرف سے عدالت عظمیٰ کی عمارت کو گھیر لیا۔ وہ عمارت کے اندر گھس گئے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کے معزز ججوں کا محاصرہ کرلیا اور اگر عدالت عظمیٰ کے ججوں کو ریاست سیکورٹی فراہم نہ کرتی تو نواز لیگ کے غنڈے ججوں بالخصوص جسٹس سجاد علی شاہ کی تکا بوٹی کردیتے۔ یہ بات بھی تاریخ کے ریکارڈ پر موجود ہے کہ میاں شہباز شریف نے اعلیٰ عدلیہ کے جج جسٹس قیوم کو ایک مقدمے کے سلسلے میں ٹیلی فون پر ہدایات دیں۔ یہ ٹیلی فون کال انٹرنیٹ پر موجود ہے اور اس سے کوئی بھی شخص استفادہ کرسکتا ہے۔ اس کال میں میاں شہباز شریف جسٹس قیوم کو اپنے نوکر کی طرح ہدایات دیتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ یہ ہیں اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ شریف خاندان اور نواز لیگ کے تعلق کی چند جھلکیاں۔ ان جھلکیوں کے تناظر میں مریم نواز کا یہ بیان پڑھ کر ابکائی آجاتی ہے کہ پنجاب کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دینے سے متعلق عدالت عظمیٰ کا فیصلہ ’’جوڈیشل کوُ‘‘ عدالتی بغاوت یا عدالتی مارشل لا ہے۔ بھلا شریف خاندان کے بالشتیوں کو عدالت عظمیٰ کے تقدس کی کیا پروا ہوسکتی ہے۔ شریف خاندان تو اتنا سفاک ہے کہ وہ قرآن پر جھوٹ بولتا رہا ہے۔ ان دنوں چودھری شجاعت شریف خاندان اور نواز لیگ کے قریبی اتحادی ہیں۔ انہوں نے ایک خط کے ذریعے چودھری پرویز الٰہی اور پنجاب کی وزارت عُلیا کے درمیان دیوار کھڑی کردی تھی۔ انہی چودھری شجاعت کی خودنوشت ہے جس کا عنوان ہے ’’سچ تو یہ ہے‘‘۔ اس خود نوشت میں چودھری شجاعت نے ایک عجیب واقعہ لکھا ہے۔ چودھری شجاعت نے لکھا ہے کہ (ق) لیگ نے شریفوں کے ساتھ ایک سیاسی معاہدے پر دستخط کیے تو شہباز شریف گھر کے اندر سے قرآن شریف اٹھا لائے اور چودھری صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگے کہ یہ قرآن شریف ہمارے درمیان اس بات کا ضامن ہے کہ ہم آپ کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی ایک ایک شق پر عمل کریں گے۔ چودھری صاحب کے بقول شریف خاندان نے بعدازاں معاہدے کی کسی بھی شق پر عمل نہ کیا۔ مسلمانوں میں ہزاروں کمزوریاں ہیں، وہ جھوٹ بولتے ہیں، حرام کھاتے ہیں، غیبت کرتے ہیں، بہتان باندھتے ہیں مگر کمزور سے کمزور مسلمان بھی جب قرآن پر قسم کھا لیتا ہے یا قرآن کو ضامن بنالیتا ہے تو پھر وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ پھر وہ جھوٹ نہیں بولتا۔ مگر شریف خاندان اتنا ناپاک اور اتنا بدبخت ہے کہ وہ قرآن کو ضامن بناتا ہے اور پھر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ کہنے کو قرآن کو ضامن میاں شہباز شریف نے بنایا تھا مگر شہباز شریف کوئی کام بھی میاں نواز شریف سے چھپا کر نہیں کرتے۔ وہ ہر کام میاں صاحب کی اجازت سے کرتے ہیں۔ چناں چہ انہوں نے قرآن کو ضامن بناتے ہوئے یقینا میاں نواز شریف سے مشاورت کی ہوگی۔ ممکن ہے اس ضمانت میں پورا خاندان ہی شریک ہو مگر جو کچھ ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔ پورا شریف خاندان قرآن کو ضامن بنا کر معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسے خاندان کا کوئی دین ایمان ہوسکتا ہے؟ کیا ایسے خاندان کا کوئی خدا اور کوئی رسول ہوسکتا ہے؟ کیا ایسے خاندان کے دل میں آخرت میں جواب دہی کا کوئی خوف ہوسکتا ہے؟ کیا قرآن پر جھوٹ بولنے والا خاندان ملک و قوم کا وفادار ہوسکتا ہے؟ آخر جو خاندان قرآن کا وفادار نہیں وہ ملک و قوم کا وفادار کیسے ہوسکتا ہے؟۔
یہ سوالات بے معنی نہیں ہیں۔ ملک و قوم سے غداری کے سلسلے میں بھی شریف خاندان کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ جنرل اسد درانی آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس یا ایم آئی کے سابق سربراہ ہیں۔ ایسے شخص سے زیادہ باخبر کون ہوسکتا ہے؟ جنرل اسد درانی نے اپنی تصنیف ’’اسپائی کرونیکلز‘‘ میں لکھا ہے کہ میاں شہباز شریف ایک زمانے میں بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ راجا امریندر سنگھ کے ساتھ پاکستانی پنجاب اور بھارتی پنجاب کو ایک کرنے کے منصوبے پر گفتگو کررہے تھے۔ جیسا کہ ظاہر ہے یہ گریٹر پنجاب اور پاکستان کو توڑنے کا منصوبہ تھا۔ پنجاب پاکستان کا حصہ ہے اور اسے کسی بھی صورت میں پاکستان سے جدا نہیں کیا جاسکتا۔ مگر میاں شہباز شریف پاکستانی پنجاب کو پاکستان سے الگ کرکے بھارتی پنجاب میں ضم کرنے پر تبادلہ خیال کررہے تھے۔ اس بات کی گواہی کسی عام آدمی یا شریف خاندان کے کسی سیاسی حریف نے نہیں پاکستان کی مقتدرہ کے ایک بہت اہم اور طاقت ور شخص نے اپنی کتاب میں دی ہے۔ ظاہر ہے کہ شہباز شریف گریٹر پنجاب کے منصوبے پر بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ کے ساتھ بات چیت کررہے تھے تو وہ یقینا ایسا میاں نواز شریف کی اجازت ہی سے کررہے ہوں گے۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ میاں نواز شریف بھی گریٹر پنجاب کی سازش کا حصہ تھے۔ کتنی عجیب بات ہے کہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے ایک سابق سربراہ نے اپنی کتاب میں گریٹر پنجاب کے کھیل کی اطلاع دی ہے مگر ریاست کے کسی ادارے کو آج تک اس کی خبر نہیں ہوسکی ہے۔ عمران خان نواز شریف پر کون سا الزام نہیں لگاتے مگر وہ گریٹر پنجاب کی کہانی سے صرف نظر کیے ہوئے ہیں۔ میاں صاحبان امریکا کے ایجنٹ ہیں یا نہیں اس کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں مگر گریٹر پنجاب کی غداری کا تو دستاویزی ثبوت موجود ہے۔ اتفاق سے جنرل اسد درانی ابھی تک زندہ ہیں۔ لگتا ہے یہاں بھی مسئلہ ’’ڈومیسائل‘‘ ہی کا ہے۔ حامد میر کے بیان کے مطابق پنجاب کا صحافی یا سیاسی رہنما ریاستی اداروں کے خلاف بیان داغنے لگتا ہے تو اس کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ وہ ’’انقلابی‘‘ ہوگیا ہے۔ البتہ اگر کسی اور صوبے کا آدمی ایسا کرتا ہے تو وہ ’’غدار‘‘ شمار ہوتا ہے اور حامد میر کے بقول اسے پنجرے میں قید کردیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو شریف خاندان واقعتا خوش قسمت ہے کہ اس کا ڈومیسائل صرف پنجاب بھی نہیں وسطی پنجاب ہے۔ لیکن یہاں زیر بحث پنجاب نہیں شریف خاندان ہے۔
شریف خاندان کی تاریخ کا ایک تاریک پہلو یہ ہے کہ شریف خاندان محسن کش ہے۔ اس کے خون میں وفا نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شریف خاندان حرام پر پلا بڑھا ہے۔ ممتاز صحافی ضیا شاہد نے میاں نواز شریف سے متعلق اپنی کتاب میں شریف خاندان کی حرام خوری کی ایک بہت بڑی مثال پیش کی ہے۔ ضیا شاہد نے لکھا ہے کہ ایک دن ان کی ملاقات میاں نواز شریف کے والد میاں شریف سے ہوئی تو میاں شریف نے انکشاف کیا کہ انہوں نے میاں نواز شریف کی سیاسی نشوونما پر تین ارب روپے صرف کیے ہیں۔ ضیا شاہد نے ان سے پوچھا کہ اب وہ کیا چاہتے ہیں، میاں شریف نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا سرمایہ تین گنا ہو کر ان کی طرف لوٹے۔ یعنی میاں نواز شریف اب سیاست سے انہیں 9 ارب روپے کما کر دیں۔ تاریخ بتاتی ہے کہ حرام پر پلنے والے کسی کے وفادار نہیں ہوتے۔ جنرل ضیا الحق میاں نواز شریف کے سب سے بڑے محسن تھے۔ میاں صاحب ایک زمانے میں انہیں اپنا ’’روحانی باپ‘‘ قرار دیتے تھے۔ مگر اب میاں صاحب جنرل ضیا الحق کو ایک فوجی آمر قرار دیتے ہیں۔ ایک زمانے مین قاضی حسین احمد شریف خاندان کے اتنے قریب تھے کہ شریف خاندان اپنے خاندانی معاملات میں انہیں ثالث بنایا کرتا تھا اور ان کی ثالثی کو قبول کرتا تھا، مگر پھر ایک وقت وہ آیا جب میاں نواز شریف نے قاضی صاحب جیسی شخصیت پر دس کروڑ روپے کھا جانے کا الزام لگایا، ایک وقت وہ بھی تھا جب میاں صاحب علامہ طاہر القادری سے مودبانہ انداز میں پوچھا کرتے تھے کہ آپ امام مہدی تو نہیں۔ اس زمانے میں میاں صاحب قادری صاحب کو کمر پر لاد کر خانہ کعبہ کا طواف کرایا کرتے تھے اور اب ایک وقت یہ ہے کہ میاں صاحب طاہر القادری کو ایک شعبدے باز سمجھتے ہیں۔ ان حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو شریف خاندان ایک قابل نفرت وجود ہے۔ اس خاندان کا خدا صرف اور صرف دولت ہے۔ حرام کی دولت۔