قومی اسمبلی سے 100اراکین مستعفی،2صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہوں تو انتخابات ہونگے، رانا ثناء

248
dissolved

اسلام آباد: وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ اگر قومی اسمبلی سے 100اراکین مستعفی ہوجائیں اور دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو پھر عام انتخابات ہی ہونگے۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کوفارن فنڈنگ کیس کا محفوظ فیصلہ نہ سنائے جانے پر شدید تشویش ہے، ہم سب کا مطالبہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر فوری طور پر پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنائیں، یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ 350لوگوں اور کمپنیوں نے عمران خان کو ممنوعہ فنڈنگ کی ہے،ایسے لوگ بھی ہیں جن کا تعلق بھارت اور اسرائیل سے ہے، اگر قومی اسمبلی سے 100اراکین مستعفی ہوجائیں اور دو صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہو جائیں تو پھر عام انتخابات ہی ہونگے،ہمارے خلاف کوئی فیصلہ ایسا نہیں جو نہ آیا ہو اور جو حق میں ہے وہ فیصلہ آتا نہیں،یہ کریڈٹ ہمیں ملے گا کہ ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا۔

 ان کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عمران خان کے معاہدے ہیں،اگر قوم نے عمران خان کی شناخت نہ کی تو ہمیں مستقبل قریب میں بڑے نقصان سے دوچار ہونا پڑے گا۔وہ جمعرات کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔