امریکا کے مرکزی بینک نے شرح سود میں 0.75 فی صد اضافہ کردیا

215

واشنگٹن: امریکا کے مرکزی بینک نے شرح سود میں 0.75 فی صد اضافہ کردیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق یو ایس سینٹرل بینک نے دنیا کی سب سے بڑی معیشت میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کو روکنے کے لیے جاری کوششوں کے دوران بدھ کو اپنی اسٹینڈرڈ شرح سود میں تین چوتھائی فی صد اضافہ کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق شرح سود میں اضافہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے کیا گیا ہے اور شرح سود میں متواتر 2 مہینوں میں 2 بار ایسا اضافہ کیا گیا ہے،شرح سود میں یہ اضافہ 1980 کی دہائی کے بعد کیا جانے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے۔

امریکی میڈیارپورٹس کے مطابق امریکی فیڈرل ریزرو نے قرض کی فراہمی کی رینج بڑھا کر 2.25 سے 2.5 فی صد کر دی ہے،توقع ہے کہ شرح سود کو وفاقی ریزرو 2022 کے آخر تک مزید 3.4 فی صد تک بڑھا دے گا۔

فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول نے مرکزی بینک کے ستمبر کے اجلاس میں کہا تھا کہ ایک اور غیر معمولی اضافہ مناسب ہو سکتا ہے،شرح سود میں تازہ ترین اضافے کو 12 رکنی ریٹ سیٹنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کیا ہے۔

پالیسی سازوں نے تسلیم کر لیا ہے کہ امریکی معیشت میں سست روی کے آثار واضح دکھائی دے رہے ہیں،فیڈرل ریزرو 1980 کی دہائی سے انتہائی جارحانہ رفتار سے شرحوں میں اضافہ کر رہا ہے، اور اب اس نے لگاتار چار پالیسی اجلاسوں میں اضافے کی منظوری دی ہے، جس کا آغاز مارچ سے شروع ہوا جب صفر کے قریب سے پہلے اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

یہ وہ سطح ہے جو وفاقی ریزرو نے کرونا وائرس کی وبا کے دوران معیشت کو فروغ دینے کے لیے مقرر کی تھی۔