غذائی بحران کا خطرہ

188

ہمارے ملی و قومی امور میں اقتصادی مسائل کو اولیت حاصل ہو گئی ہے۔ صرف قومی و سیاسی امور ہی میں نہیں، زندگی کے ہر مسئلے میں اقتصادیات کو مرکزی مقام دے دیا گیا ہے۔ لیکن عوام کے اقتصادی حالات کی بہتری کے لیے حکمرانوں اور منصوبہ سازوں کے پاس کوئی بصیرت نہیں ہے۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں غذائی بحران افسوس ناک ہے، گندم کی طلب اور ذخائر کے لیے جامع منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔ ہمارے ایک معاصر اخبار نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پنجاب میں رواں سال کپاس ہدف سے 3لاکھ 4ہزار ایکڑ کم رقبے پر کاشت کی گئی ہے۔ گزشتہ برس ملک میں کپاس کی پیدا وار میں 70 فی صد اضافہ دیکھا گیا تھا، کپاس کی کاشت کم ہونے کی وجہ غلط پالیسیاں ہیں، کپاس پارچہ بافی (ٹیکسٹائل) کی قیمت سے متعلق ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی صنعت ہے۔ زر مبادلہ کے ذخائر کو ضرورت کی حد پر رکھنے کے لیے برآمدات میں اضافہ کتنا ضروری ہے۔ اس سے ہر شخص واقف ہے۔ گندم اور کپاس دو بنیادی زرعی پیداوار میں شامل ہیں۔ وزیر اعظم اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ اس حوالے سے ہمارے پاس جامع منصوبہ بندی نہیں ہے۔ اس حوالے سے سابقہ حکومتوں پر الزام تراشی کا جواز تو موجود ہے لیکن میاں شہباز شریف جیسی شخصیات کے لیے جائز نہیں ہے۔ وہ اور ان کا خاندان طویل عرصے سے پاکستان کی مقتدرہ اور طاقت ور اشرافیہ سے متعلق ہیں۔ ان کی رائے منصوبہ سازی میں موثر ہے۔ وہ اپنے صوبے، اپنے خاندان اور دوستوں کے ہمراہ معاشی میدان میں آگے بڑھنے میں کامیاب ہیں لیکن قوم کیسے ترقی کرے اس کی حکمت نظری و عملی موجود نہیں ہے۔ اس سلسلے میں اہم سوال یہ بھی ہے کہ اقتصادی اور معاشی ماہر کِسے کہتے ہیں۔ زندگی کے وسیع تر شعور کے بغیر کیا کوئی معاشی حکمت کار بھی بن سکتا ہے۔ کیا اپنی فیکٹریوں، کار خانوں اور کاروباری اداروں کے اکائونٹینٹ اور بینکار ماہر معیشت ہوتے ہیں؟ اس سوال کا جواب کون دے گا۔