فضائی حدود کھولنے سے فلسطینیوں کی حمایت میں تبدیلی نہیں آئے گی، سعودی عرب

161
educational exhibition

نیو یارک : اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے نائب مستقل نمائندے نے کہا ہے کہ فلسطینی عوام کے لیے سعودی عرب کی مسلسل اور پختہ حمایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی خواہ اپنی فضائی حدود سے بین الاقوامی پروازوں کو گزرنے کی اجازت دے دیں۔

 غیر ملکی میڈیا کے مطابق نائب مستقل نمائندے محمد عبدالعزیز العتیق نے کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے اپنی فضائی حدود کو تمام بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے لیے کھولنا مملکت کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ہے نہ کہ دوسرے اقدامات کا پیش خیمہ۔

 مشرق وسطی پر تبادلہ خیال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران سعودی عرب کے نائب مستقل نمائندے نے کہا کہ سعودی عرب اسرائیلی قبضے کو ختم کرنے، مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے مستقل اصولوں پر یقین رکھتا ہے جس میں فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی کے حق کو یقینی بنانا بھی شامل ہے۔

 انہوں نے کہا کہ سعودی عرب فلسطین کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا۔ سعودی مندوب نے کہا کہ ہم اپنی جدید تاریخ کے سب سے طویل اور پیچیدہ تنازعات میں سے ایک کو ختم کرنے کے لیے سٹریٹجک انتخاب کے طور پر مشرق وسطی میں ایک جامع اور دیرپا امن کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہیں۔

 جو دو ریاستی حل پر مبنی ہے، اور بین الاقوامی شرائط کے مطابق ہے۔ سنہ 2002 کا عرب امن اقدام جو 1967 کی سرحدوں کے ساتھ ایک فلسطینی ریاست کے قیام کی ضمانت دیتا ہے جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

 ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی واپسی، شام کے گولان اور لبنانی علاقوں سمیت تمام عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضے کو ختم کیا جانا بھی مملکت کا مطالبہ رہا ہے۔ عبدالعزیز العتیق نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کی آزاد ریاست کی خواہش کے حصول میں مدد دیں اور بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اسرائیلی خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھائیں۔امریکی صدر نے سعودی عرب کی جانب سے تمام بین الاقوامی پروازوں کے لیے فضائی حدود کھولنے کو خوش آئند قرار دیا تھا۔