گوادر فری زون: آئندہ سال سے برآمدات شروع کی جائیں گی

132

گوادر: گوادر فری زون میں اہم پیش رفت،تاریخ میں پہلی دفعہ گوادر فری زون سے برآمدات شروع کی جائیں گی اور تمام مصنوعات 20 سال کی مدت کے لیے ہر قسم کے ٹیکسوں اور کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

گوادر پرو کے مطابق بیرونی ممالک کو برآمدات کے ساتھ ساتھ گوادر فری زون ( جی ایف زیڈ ، دونوں جنوبی اور شمالی) نے پاکستان کی مقامی مارکیٹ کے لیے تجارتی اشیاءاور مینوفیکچرنگ اشیاءکی سپلائی بھی شروع کر دی ہے۔

 ای-کسٹم (ویب پر مبنی ایک کسٹم ) سسٹم کے ساتھ منسلک دونوں غیر معمولی اقدامات کا مقصد پاکستان کو بین الاقوامی تجارتی منظر نامے میں ایک اعلیٰ کارکردگی کا حامل برآمدات پر مبنی ملک بننے کے اپنے خواب کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرنا ہے۔

گوادر پرو کے مطابق آگوان (Agvon )گوادر نارتھ فری زون میں شامل ایک انٹرپرائز جو کہ کھاد کی درآمد اور پروسیسنگ کا کام کرتا ہے پاکستانی اور بین الاقوامی منڈیوں میں 20,000 ٹن پوٹاشیم سلفیٹ برآمد کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

توقع ہے کہ اگلے سال کے آغاز تک اس کی پیداواری سہولت شروع ہو جائے گی۔ اس مقصد کے لیے آگوان (Agvon ) نے پہلے ہی 10 ایکڑ اراضی حاصل کر لی ہے اور مینوفیکچرنگ سیٹ اپ زیر تعمیر ہے۔

 مزید برآں جی ایف زیڈ میں کام کرنے والی ایک اور صنعت ایچ کے سن کارپوریشن پاکستان میں ٹیرف ایریا میں اپنی کنسائنمنٹ برآمد کرے گی۔گوادر پرو کے مطابق اس ماڈیول کے مطابق گوادر سے درآمد اور برآمد سے متعلق فعال اور اس کے برعکس جو متعارف کرائے گئے ہیں۔

 ان میں کراچی اور گوادر پورٹ دونوں سے ٹرانس شپمنٹ کے ذریعے بیرون ملک سے جی ایف زیڈ سےٹیرف ایریا میں درآمد اور جی ایف زیڈ سے بیرون ملک برآمد شامل ہیں۔

ایک جی ایف زیڈ اہلکار کا کہنا ہے پاکستان کسٹمز کی ایک دستاویز کے مطابق آنے والے ہفتے میں اضافی طریقہ کار متعارف کرائے جانے کی توقع ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جی ایف زیڈ سے ٹیرف ایریا اور بیرون ملک برآمدات اور اس کے برعکس ویب بیسڈ کسٹم کے ذریعے صنعت کاری کی مہم کو تقویت ملے گی اور گوادر اور خطے میں تجارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

 انہوں نے مزید کہا یہ لاجسٹک خدمات کو بھی تیز کرے گا ۔گوادر پرو کے مطابق گوادر پورٹ اور گوادر فری زون دو مختلف ادارے ہیں جن میں مختلف خصوصیات ہیں۔ گوادر فری زون کو برآمدات کے لیے فعال کرنے سے پہلے گوادر پورٹ نے 15 دسمبر 2019 کو برآمدات کیں ۔

پھر مشرق بعید کے ایک ملک کے لیے 50,000 ڈالر مالیت کے تین فش کنٹینرز لے جانے والے ایک بحری جہاز نے گوادر بندرگاہ کے ذریعے سمندری خوراک کی برآمدات کا آغاز کیا۔