پاکستان کی زراعت سے جڑے مسائل

280

پنجاب کی صوبائی اسمبلی میں تاحال جس قسم کی نوٹنکی ہو رہی ہے، اس پہ قلم اٹھانا اس وقت تک مناسب نہیں جب تک اونٹ کسی کروٹ بیٹھ نہ جائے۔ تب تک کیوں نہ ہم وطنِ عزیز کے زرعی مسائل کا ذکر کر لیں۔ تو قارئین کرام کو یاد دلاتے ہوئے بات شروع کرتا ہوں کہ ایک وقت تھا جب پاکستان کو چاندی کا دیس کہا جاتا تھا۔ پاکستان کو چاندی کا دیس کہنے کی وجہ یہاں دنیا کی اعلیٰ ترین اور انتہائی وافر مقدار پیداوار تھی۔ مگر پھر کیا ہوا؟ ہمارے موقع پرست اور خود غرض جاگیرداروں اور وڈیروں نے کرپٹ بیوروکریسی کی مدد سے کپاس کی جگہ گنے کی بوائی شروع کر دی۔ گنے کی پیداوار سے ان کی شوگر ملوں کو اندھا فائدہ ہوا سو ہوا، مگر اس نے ہماری بہترین زرعی زمین کو بنجر کر کے رکھ دیا کیوں کہ گنے کی فصل زمین سے سب پانی چوس لیتی ہے۔
اگر ملک کی زراعت کا جائزہ لیا جائے تو بات کچھ یوں ہے کہ پاکستان کا کل رقبہ 79.6 ملین ایکڑ ہے جس میں سے 23.77 ملین ایکڑ زرعی رقبہ ہے جو کل رقبے کا 28 فی صد بنتا ہے۔ اس میں سے بھی 8 ملین ایکڑ رقبہ زیر کاشت نہ ہونے کے باعث بے کار پڑا ہے۔ حالانکہ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا ماحول اور موسم بھی زراعت کے لیے بہترین زون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس طرح پاکستان میں ہمہ قسم کی غذائی اشیاء کی پیداواری صلاحیت موجود ہے۔ اس کی 75 فی صد سے زائد آبادی زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے۔ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں زراعت کا حصہ 21 فی صد ہے۔ یہ شعبہ ملک کے 45 فی صد لوگوں کے روزگار کا ذریعہ ہے۔ زراعت کا شعبہ لوگوں کو خوراک اور صنعتوں کو خام مال (Raw Materials) کی فراہمی میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستانی برآمدات سے حاصل ہونے والے زرِ مبادلہ (exchanges) کا 45 فی صد زرعی تجارت سے حاصل ہوتا ہے۔ پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس، گندم، گنا اور چاول کی فصل بیرونی منڈیوں میں خاص اہمیت رکھتی ہے اور ملک ان فصلوں کی بدولت قیمتی زرمبادلہ حاصل کرتا ہے۔ اس کے باوجود ملکی زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار نہایت سست ہے۔ ہمارے مقابلے میں دنیا کے دیگر ملک زیادہ پیداوار دے رہے ہیں۔
اگر زرعی ترقی میں حائل رکاوٹوں پر غور کیا جائے تو کئی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ہمارے کسان مہنگائی کے بوجھ تلے پستے جارہے ہیں۔ کھاد نہ صرف مہنگی ہورہی ہے بلکہ کاشت کے دنوں میں ناپید ہوجاتی ہے۔ دیگر زرعی لوازمات بھی ڈیزل اور مٹی کے تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مہنگے ہو رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے زرعی ٹیکس اور دیگر کئی صورتوں میں اشیاء کو شدید مہنگا کردیا ہے۔ غریب پہلے مہنگائی کی وجہ سے سبزی کھانے پر ترجیح دیتا تھا مگر اب وہ بھی مہنگائی کے باعث غریبوں کی پہنچ سے دور ہورہی ہے۔ موجودہ حالات میں کسان کھیتی باڑی کے بجائے اپنی زرعی زمینیں فروخت کرکے شہروں میں منتقل ہورہے ہیں۔ اگر یہی حالات رہے تو ملکی زرعی صورت حال مکمل طور پر ٹھپ ہوجائے گی۔
زراعت خود کفالت کا بہترین ذریعہ ہے۔ زرعی شعبہ ملک کی آبادی کو خوراک مہیا کرتا ہے اور یہی پاکستان کی آبادی کی روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور پاکستان کی زرعی حکمت عملی میں خود کفالت کے اصولوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ زراعت پاکستان کے لیے ایک جڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن زرعی شعبے کا حصہ ہماری معیشت میں کم ہوتا جارہا ہے۔ اس وقت ملک کی جی ڈی پی میں زراعت کا حصہ تقریباً 18 فی صد ہے۔ اس کے علاوہ جی ڈی پی میں 20 فی صد انڈسٹری اور 60 فی صد سروسز کا حصہ ہے۔ ملک کی آبادی کا بڑا حصہ زرعی شعبے سے وابستہ ہے اور زراعت ان کے روزگار کا اہم جزو ہے۔ اس وقت ملک کو جو سب سے بڑا چیلنج درپیش ہے وہ پانی ہے۔ پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے ہمیں اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پانی کی قلت کے باعث کاشت کاروں کو فصلوں کی کاشت میں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث ہر آنے والے سال میں یا تو فصلوں کی پیداوار میں کمی آرہی ہے یا پھر فصلوں کی کوالٹی متاثر ہورہی ہے۔ اچھی فصل کے حصول کے لیے مناسب اور بروقت پانی بہت زیادہ ضروری ہے۔ ہمارے کاشت کار اور کسانوں کی اکثریت غیرتعلیم یافتہ ہے اور انہیں جدید طریقوں سے آگاہی حاصل نہیں ہے۔ انہیں جراثیم کش ادویات کے استعمال، معیاری بیجوں کے انتخاب اور مصنوعی کھاد کے مناسب استعمال کے بارے میں زیادہ علم نہیں ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی فی ایکڑ پیداوار ملک کی ضروریات کے لحاظ سے بہت کم ہے۔ وہ کاشت کاری کے صرف ان روایتی طریقوں پر یقین رکھتے ہیں جو انہوں نے اپنے بزرگوں سے سیکھے ہیں۔ نئی اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کسان بہتر پیداوار حاصل کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے کسانوں اور کاشت کاروں کو آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور زراعت کے شعبہ کی ترقی کے سلسلہ میں بہتر اقدامات کیے جائیں اور سیلاب کی صورت حال کے پیش نظر ایسی حکمت عملی بنائی جائے جس سے ان علاقوں کو محفوظ رکھا جاسکے جو زیر کاشت ہیں۔ ڈیم کا بننا ہمارے لیے اس وقت اشد ضروری ہے کیونکہ اس سے سیلاب کو کافی حد تک روکا جاسکتا ہے اور پانی کو ذخیرہ کیا جاسکتا ہے۔
اگر حکومت زراعت کے شعبہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کو اپنی ترجیحات میں شامل کرلے اور اس کے گونا گوں مسائل پر توجہ دے تو یہ بآسانی حل ہوسکتے ہیں۔ اس سے زراعت کا شعبہ دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کرے گا۔ یوں پاکستان خوش حال ہوگا اور اس کے عوام آسودہ ہوں گے۔ پاکستان قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے وافر افرادی قوت سے بھی نوازا ہے جو باصلاحیت اور ہنرمند ہے۔ کمی صرف باہمت اور پُر عزم قیادت کی ہے جو دیانتدار ہو اور پاکستان سے مخلص بھی ہو۔ پاکستان واحد ملک ہے جہاں زرعی آلات پر ٹیکس عائد ہے۔ حکومت نے اپنے فیصلوں میں زراعت کو کبھی ترجیحی طور پر نہیں لیا۔ اس لیے یہ شعبہ حکومتی عدم دلچسپی کا شکار ہے۔ حکومت کو زراعت کی ترقی کے لیے انفرا اسٹرکچر پر توجہ دینی چاہیے۔ ہمارا ملک زراعت کے شعبے میں جب ہی ترقی کرسکتا ہے جب حکومت خود نیک نیتی سے زرعی شعبے کی ترقی پر توجہ دے اور زرعی ترقی کے لیے اقدامات کرے۔ مگر یہاں کے دولت کے پجاری مگر مچھوں کے بہت لمبے ہیں۔ انہیں ہماری کرپٹ بیورو کریسی کی تائید حاصل ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری زرعی زمینوں کو جس انتہائی خطرناک مسئلے کا سامنا ہے وہ یہ ہے کہ ان زرخیز زمینوں کو ہائوسنگ سوسائٹیوں میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں، آپ صرف چکوال کے نواحی علاقوں سے اگر اسلام آباد لاہور کی موٹروے کی جانب سفر کریں تو آپ دیکھیں گے کس ظلم سے وہاں کی زرعی زمینوں پر پے در پے ہائوسنگ سو ساٹیاں تعمیر ہو رہی ہیں۔ اور یہ سب کرنے والے حکمران جماعت کے وہی کرتے دھرتے ہیں جن کے نام آپ آئے دن اخباروں میں پڑھتے رہتے ہیں۔