گندم ہرممکن سستی خرید کر قوم کا پیسہ بچایا جائے، وزیراعظم

121
Fertilizer crisis

اسلام آباد : وزیرِ اعظم شہباز شریف نے گزشتہ پونے چار سالوں میں گندم کے ذخائر کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افسوسناک بات ہے کہ پاکستان جیسے زرعی ملک میں گزشتہ دورِ حکومت میں غذائی بحران آتے رہے۔

شہباز شریف نے کہاکہ گندم کی طلب اور ذخائر کیلئے جامع منصوبہ بندی نہ کرکے 22 کروڑ عوام کے ساتھ نا انصافی کی گئی،گندم کی آئندہ فصل تک اجراءکے ساتھ ساتھ Buffer Stock یقینی بنایا جائے،گندم کی درآمد کے دوران معیار اور مقدار کو یقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی کنسلٹنٹ سے مدد لی جائے۔

انہوں نے کہاکہ گندم کی خریداری میں جس حد تک ممکن ہو قیمت کو کم کروا کر ملک و قوم کا پیسہ بچایا جائے۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ملک میں گندم کے موجودہ ذخائر، ممکنہ طلب اور درآمد کے ٹینڈرز پر جائزہ اجلاس ہو ا جس میں وفاقی وزراءمفتاح اسماعیل، سید نوید قمر، طارق بشیر چیمہ اور متعلقہ اعلی حکام کی شرکت کی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں حالیہ گندم کی پیداوار کا تخمینہ 26.389MMT لگایا گیا جبکہ پچھلے سال کے 1.806MMT ذخائر موجود ہیں. 30.79MMT کی مجموعی قومی طلب کے مقابلے کل ذخائر 28.199MMT ہیں. طلب اور ذخائر میں فرق کو ختم کرنے کیلئے حکومت نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذریعے بروقت گندم کی درآمد کا فیصلہ کیا۔

فیصلے کے مطابق پہلی کھیپ کے بعد دوسرے ٹینڈر میں وزیرِ اعظم کی ہدایات کی روشنی اور حکومتی کوششوں کے نتیجے میں 300000 میٹرک ٹن پر فی میٹرک ٹن 34.54 ڈالر اور مجموعی طور پر قومی خزانے کا 1 کروڑ 3 لاکھ امریکی ڈالر بچایا گیا ۔

اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حکومت کے روس کے ساتھ معاہدے کے تحت 20 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد پر پیش رفت جاری ہے جو حتمی مراحل میں ہے ۔اسکے علاوہ اجلاس کو گوادر بندرگاہ کے ذریعے گندم کی درآمد پر پیش رفت پر بھی تفصیلی طور پر اگاہ کیا گیا۔

وزیرِ اعظم نے ہدایات جاری کیں کہ گندم کی گوادر بندگاہ کے ذریعے درآمد کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کو جلد یقینی بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے خصوصی ہدایات جاری کیں کہ Buffer Stock متعین کرکے جلد اس پر رپورٹ پیش کی جائے۔وزیرِ اعظم نے وزراتِ تجارت، وزارتِ فوڈ سیکیورٹی اور تمام متعلقہ وزارتوں اور حکام کی ٹینڈر میں فی ٹن لاگت میں کمی کیلئے کوششوں کو سراہا۔