مرضی کے فیصلے کےلئے عدلیہ پر دباؤ ڈالنا خطرناک ہوگا، جاوید قصوری

156
decisions

لاہور: امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی محمد جاوید قصوری نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کا احترام ضروری ہے،عدلیہ سے من پسند فیصلے لینے کے لئے دباﺅ ڈالنے اور بائیکاٹ کرنے کی روایات خطرناک ہوں گی۔

جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ جب حکومت وقت اداروں کے احترام کو ملحوض خاطر نہیں رکھے گی تو ملک میں انتشار اور افراتفری پھیلے گی۔عدلیہ سے من پسند فیصلے لینے کے لئے دباﺅ ڈالنے اور بائیکاٹ کرنے کی روایات خطرناک ہوں گی۔ پہلی مرتبہ کسی منتخب حکومت نے سپریم کورٹ کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا ہے، جو ملکی تاریخ کی منفرد مثال ہے۔ اس قسم کی غلط روایات نہیں ڈالنی چاہئیں جن سے آئین و قانون سبوتاژ ہوں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پنجاب کیس میں سپریم کورٹ میں ہونے والی پیش رفت پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت آئینی بجران پیدا کیا جا رہا ہے، جس پر گیارہ کروڑ عوام اضطراب میں مبتلا ہیں۔ ملکی تاریخ گواہ ہے کہ تحریک انصاف اور موجودہ اتحادی حکومت، دونوں ہی مرضی کے برخلاف فیصلوں پر معزز عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ ملکی آئین میں ریاستی اداروں کا دائر کار متعین ہے ۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ فرد واحد یا کسی گروہ کو خوش کرنے کے لئے ملکی آئین سے انحراف کیا جا ئے۔ نظریہ ضرورت ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہو گا۔ پاکستان نازک دور سے گز ر رہا ہے۔ جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون اب زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔

جاوید قصوری کا کہنا تھا کہ جو بھی حکومت بر سر اقتدار آئی اس نے ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ۔عوام کی فلاح و بہو د کے لئے کسی نے بھی کچھ نہیں کیا ۔عوام مہنگائی کی چکی میں پستے ہی چلے جا رہے ہیں اور ان کا کوئی پر سان حال نہیں۔ملک میںمہنگائی، بے روزگاری او ر لاقانونیت نے ڈیرے ڈال لئے ہیں۔

محمد جاوید قصوری کا اس حوالے سے مزید کہنا تھا کہ ملک بھر میں ہونے والی بارشوںسے سینکٹروں افراد لقمہ اجل بن گئے، کروڑوں روپوں کی املاک کو نقصان پہنچا ہے، فصلیں برباد اور مویشی ہلاک ہوگے ہیں مگر مجال ہے کہ حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک بھی رینگتی ہو۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں ہی پنجاب میں اقتدار کے حصول کی جنگ لڑ رہے ہیں۔عوام کو درپیش مسائل کے حل سے ان ظالم حکمرانوں کو کوئی غرض نہیں۔