ضمنی انتخابات اور تخت پنجاب

315

یوں تو عمران حکومت کے دور میں جتنے بھی ضمنی انتخابات ہوئے ان میں حکومت کے مخالفین ہی جیتتے رہے ہیں اور حالیہ ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی جیت کوئی تعجب خیز بات نہیں۔ عوام کو بالعموم حکومت وقت سے ہمیشہ شکایت رہتی ہے کیوں کہ وہ ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہتی ہے اور سابق حکومت کے مقابلے میں زیادہ نااہل ثابت ہوتی ہے۔ بے شک مہنگائی کے ہاتھوں پریشان عوام عمران خان کی حکومت سے بھی بہت نالاں تھے اور کوئی بہتر تبدیلی چاہتے تھے لیکن جو تبدیلی آئی وہ ان کے لیے بدترین ثابت ہوئی۔ اس تبدیلی نے ان پر مہنگائی کی صورت میں مصائب کا نیا پہاڑ توڑ دیا۔ پھر قومی اسمبلی میں جس نوعیت کی قانون سازی ہوئی اس سے بھی عوام میں یہ تاثر اُبھرا کہ جو لوگ حکومت میں آئے ہیں انہیں عوامی فلاح سے زیادہ اپنے خلاف کرپشن کے مقدمات ختم کرانے میں دلچسپی ہے۔ اسی لیے وہ نیب کے سارے دانت اکھیڑنا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت کو خود عدالتوں نے غیر آئینی قرار دیا لیکن وزیراعلیٰ کے دوبارہ انتخاب تک حمزہ ہی کو برقرار رکھا گیا جو سراسر دھاندلی تھی، جس کا پنجاب کے عوام نے منفی اثر قبول کیا اور حمزہ حکومت کی طرف سے کیے گئے تمام اقدامات کو مسترد کردیا۔ حتیٰ کہ ایک سو یونٹ بجلی مفت کرنے کے اعلان کو بھی انہوں نے کوئی اہمیت نہ دی۔ والد محترم میاں شہباز شریف نے اس موقع پر پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم کرکے بیٹے کو سیاسی حمایت فراہم کرنے کی کوشش کی تو عوامی سطح پر اس کا مذاق اڑایا گیا اور کہا گیا کہ شہباز حکومت نے تین مہینے میں پٹرول کی قیمت سو روپے بڑھا کر صرف اٹھارہ روپے واپس کیے ہیں، اسے پورے سو روپے واپس کرنے چاہئیں۔
یہ اور ایسے بہت سے عوامل تھے جو ضمنی انتخابات میں تحریک انصاف کی کامیابی بلکہ کلین سویپ کا باعث بنے لیکن ہمارے نزدیک اس کامیابی کا اہم سبب یہ ہے کہ عمران خان نے تن تنہا بہت جاندار انتخابی مہم چلائی اور اُن تمام اداروں کو شدید نفسیاتی دبائو میں رکھا جن کی طرف سے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کا خدشہ ہوسکتا تھا۔ وہ چیف الیکشن کمشنر پر مسلسل الزام لگاتے رہے کہ ان کا مریم نواز اور حمزہ شہباز سے رابطہ ہے اور وہ ان سے ہدایات لینے ہر ہفتے اسلام آباد سے لاہور جاتے ہیں۔ اس الزام میں کوئی حقیقت تھی یا نہیں لیکن اس الزام تراشی نے الیکشن کمیشن اور اس کے پورے انتخابی عملے کو شدید دبائو میں رکھا اور حمزہ حکومت اپنی انتظامی مشینری کے ذریعے اس عملے سے اگر کچھ سازباز کر بھی سکتی تھی تو نہ کرسکی۔ عمران خان نے سب سے زیادہ نفسیاتی دبائو اسٹیبلشمنٹ پر ڈالا جس کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ ہر الیکشن میں اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے اور سیاسی جماعتیں بھی اس کی طرف دیکھتی ہیں۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ 2003ء کے انتخابات میں نواز شریف نے اس سے تین چوتھائی اکثریت حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور ان کی یہ خواہش پوری کی گئی تھی۔ عمران خان نے اس پس منظر میں اسٹیبلشمنٹ کو ٹارگٹ کیا اور وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلسل یہ کہتے رہے کہ امپائر ہمارے سیاسی مخالفین کے ساتھ ہے لیکن اس کے باوجود وہ بیس کی بیس نشستیں جیت کر دکھائیں گے۔
انہوں نے نام لیے بغیر دعویٰ کیا کہ مسٹر ایکس کی لاہور میں مسٹر وائی کی ملتان میں ڈیوٹی لگادی گئی ہے کہ وہ ہر حال میں تحریک انصاف کو ہرائیں۔ عمران خان نے ان کے نام نہیں لیے لیکن لوگ برملا ان کے نام بھی لیتے رہے۔ پھر سوشل میڈیا پر فوجی قیادت کی جو بھَد اُڑائی گئی وہ پاکستان کی تاریخ میں بالکل انوکھی بات تھی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی کے انتخابی نتائج حاصل کرنے سے دستبردار ہوگئی۔ البتہ حمزہ شہباز کی حکومت نے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی پوری کوشش کی۔ اس نے جو چار پانچ سیٹیں جیتیں وہ بھی دھاندلی کے ذریعے حاصل کی گئیں، جس کے ثبوت میڈیا میں آچکے ہیں۔
اب پنجاب میں اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے مسلم لیگ (ن) نے جو گھنائونی سیاست کی ہے اس نے اس کا چہرا اور داغدار کردیا ہے۔ چودھری پرویز الٰہی اپنی جماعت (ق لیگ) کی طرف سے وزارت علیا کے امیدوار تھے اور تحریک انصاف ان کی حمایت کررہی تھی۔ اب کون سا آئین اور قانون یہ کہتا ہے کہ ایک پارٹی کو اپنے ہی نامزد کردہ امیدوار کو ووٹ دینے سے روک دیا جائے، جب کہ پارٹی کا سربراہ بھی بار بار اس کی حمایت کرچکا ہو۔ پنجاب اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نے چودھری شجاعت کے جس مبینہ خط کی آڑ لے کر (ق) لیگ کے ووٹ مسترد کیے اس کی حیثیت بھی متنازع ہوچکی ہے، خود چودھری شجاعت یہ خط لکھنے سے انکاری ہیں، وہ اتنے بیمار ہیں کہ خط کیا وہ بول بھی نہیں سکتے۔ ان کے نام پر ان کے بیٹے اور بھائی یہ ڈراما کررہے ہیں جو (ن) لیگ سے ملے ہوئے ہیں۔ ہم یہ سطور اس وقت لکھ رہے ہیں جب عدالت عظمیٰ میں یہ معاملہ زیر سماعت ہے اور چیف جسٹس نے بادی النظر میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیا ہے۔ عدالت نے حمزہ شہباز کے اختیارات بھی محدود کردیے ہیں۔ ن لیگی لیڈروں نے ممکنہ عدالتی فیصلے پر اثر انداز ہونے کے لیے بیانات کا طوفان برپاکردیا ہے۔ وہ کیس کی سماعت کے لیے عدالت عظمیٰ کے فل بنچ کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بہرکیف عدلیہ کا فیصلہ جس فریق کے بھی حق میں آیا دوسرا فریق اسے تسلیم نہیں کرے گا اور سیاسی بحران بڑھتا جائے گا۔ اس کا واحد حل فوری انتخابات ہیں تا کہ سیاسی بے یقینی اور انتشار کا خاتمہ ہو اور ملکی معیشت کو سنبھلنے کا موقع مل سکے۔ یہ معاملہ صرف تخت پنجاب کا نہیں پورے پاکستان کی بقا کا ہے۔ اس سلسلے میں صرف اسٹیبلشمنٹ ہی اپنا موثر رول ادا کرسکتی ہے، وہ سیاست سے کبھی لاتعلق نہیں رہی۔ اب حالات کا تقاضا ہے کہ وہ ملک کو انتخابات کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کرے۔