ہائیلی پیڈ ورکرز

459

ہاں بھئی لوگو ان افراد کو پہچان لو۔ یہی ہیں ہائیلی پیڈ ورکرز۔ اور معاوضہ بھی ایسا وصول کرتے ہیں کہ سن کر آپ کے ہی ہوش اڑ جائیں۔ کوئی ایسا ویسا معاوضہ نہیں کہ دن کے چھے آٹھ ہزار سے انکا کام چل جائے۔ یہ تو اس سے بھی زیادہ کئی زیادہ کئی سو گنا زیادہ بلکہ سات سو گناہ زیادہ لینے کے عادی ہیں۔ ان کی ایک اور خصوصیت جو آپ کو ان افراد کی پہچان کرا سکتی ہے کہ ان میں کوئی سڑک چھاپ میٹرک یا انٹر پاس نہیں۔ ان میں سے کوئی ’’تحقیق کار‘‘ ہے تو کوئی ڈاکٹر کوئی ’’سوشل مارکیٹنگ‘‘ اور بزنس میں کئی دہائیوں کا تجربہ رکھتا ہے تو کوئی مشہور پرفیشل جامعہ کا ’’انجینئر‘‘ کوئی سینوں میں قرآن کو محفوظ رکھے ہوئے ہے تو کوئی ’’فقہ کا ماہر‘‘ کوئی ’’طبیبہ‘‘ ہے تو کوئی ’’مشہور حکیم‘‘۔ کوئی درس نظامی کا مشہور معلم ہے تو کوئی بہترین ’’موٹیویشنل اسپیکر‘‘۔ اسی پر بس نہیں کوئی کئی کتب کی ’’مصنفہ‘‘ ہیں تو کہیں دلوں کو اپنے سحر میں کردینے والی ’’شاعرہ‘‘ کوئی بہترین ’’سرجیکل ڈاکٹر‘‘ ہے تو کوئی بغیر موسیقی کے اپنی ’’آواز سے سحرانگیز کردینے‘‘ والا بہترین انسان۔ کسی کے پاس بہترین اور سب سے محبت کرنے والا دل ہے تو کوئی ’’صرف اللہ کی خاطر لوگوں سے محبت کرنے کا فن‘‘ جانتا ہے۔ کوئی اپنی دولت بے تحاشا راہ خدا میں خرچ کرکے راتوں میں پرسکون سوتا ہے تو کوئی دن کے اجالوں میں اپنے بھرے پرے خوب صورت پرسکون گھروں کو چھوڑ کر دور افتادہ جگہوں خدا کی بستی، لیاری، ملیر، خمیسو گوٹھ اور دوسری بہت سی کچی بستیوں میں جاکر وہاں خلق خدا کی خدمت کرکے سکون پاتا ہے۔ کوئی نظم کی اطاعت میں اپنے اسٹیٹس اپنے مرتبے کو یکسر فراموش کرکے اسلام کے پیغام کو عام کرنے کا خواہاں ہے تو کوئی اس سے بڑھ کر اس طلب کا خواہش مند۔
یا خدا یہ کس بستی کے باشندے ہیں کہ جب پورا معاشرہ زر و زمین کی خاطر اپنی خونی رشتوں کی حرمت تک کو فراموش کرچکا ہے۔ یہ خلوص نیت سے دنیاوی لذتوں کی چاہ سے، ہر موسم سے بے پروا ہوکر سردی، گرمی، بہار، بارش، خزاں اور سخت دھوپ میں اپنے امیر کی ایک آواز پر لبیک کہتے ہوئے دیوانہ وار کبھی حکومت کے ظلم کے خلاف کئی دنوں کا دھرنا دیے بیٹھے رہتے ہیں تو کبھی بجلی کے دفتر کے سامنے اپنے شہر کے باسیوں کا مقدمہ لڑتے ہیں کبھی انہی مظلوم شہریوں کی خاطر واٹر بورڈ میں جاکر ٹینکر مافیا کے خلاف احتجاج بلند کرتے ہیں تو کبھی الیکشن کی تاخیری پر الیکشن کمیشن آفس کے سامنے دھرنے کی صورت میں آ موجود ہوتے ہیں۔۔۔ یہ اتنے ہائیلی پیڈ ورکرز ہیں کہ انہیں اس وقت صرف اپنے صلے کی تمنا ہوتی ہے۔ اس سات سو گناہ صلے کی خاطر وہ اپنے نظم کی اطاعت میں بڑے بڑے طوفانوں سے ٹکڑا جاتے ہیں۔ یہ مٹھی بھر افراد جن میں ہر عمر کے اور ہر طرح کے لوگ شامل ہیں چاہے وہ خواتین ہوں یا مرد وہ نوجون لڑکے لڑکیاں ہوں یا کم عمر بچے۔ ان کی باہمت خواتین ایسا نہیں ہے کہ اپنی ذمے داریاں کسی اور کے حوالے کردیتی ہیں اپنے گھریلو امور کی بحسنِ خوبی انجام دہی کے بعد ٹویٹر ٹرینڈ چلاتی ہیں اور ایسا کام کرتی ہیں کہ وہ ٹاپ ٹرینڈ بن جاتاہے، فیس بک پر بڑے احسن انداز میں بڑے بڑے پیجز چلاتی ہیں، واٹس اپ پر براڈ کاسٹ گروپوں کے ذریعے پوری دنیا تک اپنا پیغام پہنچا رہی ہیں۔ وہ ایسے دروس دیتی ہیں کہ سامعین پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے۔ وہ شہادت حق کی ایسی چلتی پھرتی گواہ ہیں کہ ان کے کام سے روز ایک نئی تاریخ رقم ہوتی ہے۔ یہ مٹھی بھر مجاہدین کی فوج نے آج فریق مخالف کے کیمپوں میں موجود پیڈ ورکرز کی طبیعت صاف کردی ہے۔ وہ بھی حیران ہیں کہ خدایا یہ کس طرح کا سودا ہے جو یہ کرکے آئے ہیں جو انہیں ہر طرح کے ڈر و خوف سے بے پروا کررہا ہے۔ مخالفین کے اوچھے ہتھکنڈوں اور بے وقعت الزامات سے بے پروا یہ لوگ خدا کے دین کے غازی ہیں ان کا یہ کہناہے کہ
یہ بازی عشق کی بازی ہے جو چاہو لگا دوڈر کیسا
گر جیت گئے تو کیا کہنے ہارے بھی تو بازی مات نہیں
یہ تمام الزامات ذاتی رنجشوں سے بے پروا ہوکر خالص اللہ کے دین کی سربلندی کے کیے کوشاں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ
آج بھی ہو جو براہیم کا ایماں پیدا
آگ کرسکتی ہے انداز گلستاں پیدا
وہ اس مادیت پرستی کی آگ کو گلزار بنانے کے لیے سرتن کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔ یہ ورکرز آپ کو کہیں ملیں تو ضرور ان میں شامل ہوجائیے اور اس یقین سے شامل ہوں کہ یہی تو جنت کا راستہ ہے اور یہ اس کے راہی سربکف۔۔
اس لیے تو یہ ’’ہائیلی پیڈ ورکرز‘‘ ہیں۔