بارش نے کراچی ڈبو دیا، پانی عمارتوں میں داخل، درجنوں افراد محصور، 5 جاں بحق

206

کراچی: شہر قائد میں مون سون کا نیا اسپیل انتظامیہ کی غفلت کے باعث کراچی والوں کے لیے زحمت بن گیا۔

شہر کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد پانی گھروں میں داخل ہو گیا جس کے بعد درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا جب کہ دفاتر، گھروں او ردیگر کام کے مقامات پر موجود شہری بارش تھمنے اور پانی کی نکاسی کے انتظار میں محصور ہوکر رہ گئے۔

شہر میں بارش کے دوران کرنٹ لگنے سمیت مختلف واقعات میں 5 افراد جاں بحق ہو گئے۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں ایک بار پھر موسلا دھار بارش ، سٹی ریلوے کالونی سمیت کئی علاقوں میں پانی گھروں میں داخل ہو گیا۔ ملیر، صدر، شاہراہ فیصل، پی آئی بی، یونیورسٹی روڈ پر بھی بارش ہوئی۔ گرو مندر، نمائش اور سولجر بازار کے اطراف بادل جم کر برسے۔

جناح اسپتال کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے باہر پانی جمع ہو گیا، بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل رہی۔ صدر میں برنس روڈ کا علاقہ پانی میں ڈوب گیا، فوڈ اسٹریٹ پر قائم بیشتر دکانوں میں پانی داخل ہونے سے دکانداروں کا خاصا نقصان ہوا۔ کبوتر چورنگی سے سندھ اسمبلی جانے والی سڑک تالاب بن گئی۔ سندھ حکومت نے کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں پیر کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا۔

جامعہ کراچی میں ہونے والے پرچے بھی ملتوی کر دیئے، سندھ اسمبلی کا بھی اجلاس ملتوی کردیا گیا۔ بارشوں کے باعث فلائٹ آپریشن بھی متاثر ہوا۔ صوبائی وزیر شرجیل میمن نے سب میرین انڈر پاس کا دور کر کے نکاسی آب کا معائنہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کی مشینری پانی نکالنے میں مصروف ہے۔ ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب نے بھی شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور بلدیاتی عملے کو جلد پانی کی نکاسی کی ہدایت کی۔ انہوں نے بارش کے دوران دورے کی ویڈیو ٹویٹر پر شیئر کی۔