اہل کراچی کو جرنیلوں کو یاد کرنے پر مجبور نہ کریں

342

ملک میں جب جب بھی فوجی حکومتیں رہی ہیں اس میں دینی جماعتوں بالخصوص جماعت اسلامی کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں ویسے تو کراچی میں دو مرتبہ جماعت اسلامی کے میئر افغانی صاحب رہے اور قومی اسمبلی کے دو اور صوبائی اسمبلی کے چھے ارکان تھے۔ جنرل حضرات یہ جانتے تھے کہ بھٹو کے خلاف تحریک میں جماعت اسلامی کا لیڈنگ رول رہا ہے اس لیے انہوں نے ایک خاموش منصوبہ بندی کے تحت کراچی میں جماعت کی سیاسی قوت کو ختم یا کمزور کرنے کی کوشش کی اور اس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ 1980 کی دہائی تک اسلامی جمعیت طلبہ ملک کے تمام کالجوں میں چھائی ہوئی تھی اسی طرح ملک کے بڑے بڑے اداروں مثلاً ریلوے، پی آئی اے، واپڈا اور دیگر چھوٹے بڑے اداروں میں جماعت کی مزدور تنظیم نیشنل لیبر فیڈریشن سے ملحق یونینیں سودے کاری ایجنٹ بنی ہوئی تھیں اسی طرح شعبہ صحافت میں ملک کے بڑے اور نمایاں صحافی و دانشور جماعت اسلامی کی فکر سے وابستہ تھے ان تین مضبوط بنیادوںکے ساتھ جماعت کی چوتھی قوت کراچی میں اس کے سیاسی اثرات تھے جس کی وجہ سے کراچی کی بلدیہ اس کے پاس تھی۔
جماعت اسلامی کی ان قوتوں کو توڑنے کے لیے پہلے پورے ملک میں تمام طلبہ تنظیموں پر پابندی لگائی گئی پھر ملک کی تمام ٹریڈیونینوں پر پابندی لگائی گئی، کئی جماعت کی فکر سے منسلک صحافیوں کو جنرل ضیاء نے اپنے ساتھ ملا لیا یہ حضرات جماعت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے لگے اور جماعت کے کارکنوں کے اندر فکری انتشار پیدا کرنے کا سبب بنے کراچی کو جماعت اسلامی سے کاٹنے کے لیے ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی گئی اس کی پرتشدد کارروائیوں پر انتظامیہ نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اس طرح کراچی کو جماعت سے چھین کر ایم کیو ایم کے حوالے کردیا گیا اور کراچی کی سیاست کو پورے ملک سے کاٹ دیا گیا جماعت کے بارے میں یہی بات تو کہی جاتی تھی کہ جماعت کراچی میں اپنے سیاسی اثرات کی وجہ سے حکومتوں کے خلاف تحریکیں اٹھاتی ہے اور پھر پورے ملک اپنے تنظیمی نیٹ ورک ذریعے اسے ملک گیر تحریک بنادیتی ہے۔ اس تمہید کا مقصد یہ بتانا ہے کہ مارشل لا اور سیاسی جماعتوں کے لیے تو سازگار رہا ہو لیکن جماعت اسلامی کو فوجی ادوار میں ہمیشہ سیاسی نقصان ہی پہنچا ہے۔
دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے شہر کراچی کو فوجی ادوار ہی میں سب سے زیادہ فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ جنرل ایوب کے دور میں پورے ملک میں جو صنعتی ترقی ہوئی اس میں کراچی شہر میں سب سے زیادہ صنعتیں لگیں۔ ایک وقت تھا کہ کراچی کا سائٹ ایریا چوبیس گھنٹے مشینوں کی آواز سے گونجتا رہتا تھا۔ پورے ملک سے روزگار حاصل کرنے کے لیے لوگ کراچی آتے تھے اور کراچی کے نوجوانوں کو بھی آسانی سے جاب مل جاتی تھیں سرکاری اداروں میں کراچی کے نوجوان میرٹ کی بنیاد پر سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتیں حاصل کررہے تھے۔ لیکن پھر جب بھٹو صاحب کی حکومت آئی تو پہلے تو انہوں نے صوبے میں اردو سندھی زبان کی بنیاد پر لسانی فسادات کرائے پھر آئین میں دس سال کے لیے کوٹا سسٹم نافذ کردیا جس کے نتیجے میں سندھ کے شہری علاقوں کو 40فی صد اور دیہی علاقوں کو 60فی صد حصہ داخلوں اور ملازمتوں میں دیا گیا اس طرح کراچی کے نوجوانوں کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتوں کے حصول سے محروم کردیا گیا۔ جب جنرل ضیاء کی فوجی حکومت آئی تو اہل کراچی کو یہ فائدہ ہوا کہ ان کے بلدیاتی مسائل ان کے دروازے پر ہی حل ہونے لگے، جنرل ضیاء جب 90دن میں دوبارہ انتخاب کرانے کے وعدے سے منحرف ہو گئے تو اس کے بعد انہوں نے پورے ملک میں بلدیاتی انتخاب کرائے کراچی میں جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی دو مرتبہ یعنی آٹھ سال میئر رہے ان کے دور میں کراچی میں سڑکوں کا جال بچھ گیا شہر کے بیش تر حصوں میں نئی سیوریج لائن ڈالی گئی اور دیگر ترقیاتی کام ہوئے یہ سب جنرل ضیاء کے دور میں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں کراچی کے نوجوانوں کے ساتھ ایک زیادتی یہ ہوئی کہ جو کوٹا سسٹم دس سال کے لیے تھا 1983میں اس کو ختم ہونا تھا لیکن ضیاء صاحب نے اسے مزید دس سال کے بڑھا دیا، اس لیے کہ وہ ایک سندھی وزیر اعظم کو پھانسی دے چکے تھے۔
جنرل ضیاء کے بعد جمہوری حکومتوں کا دور آیا پی پی پی اور ن لیگ میں اقتدار کی باریاں لگیں لیکن کسی جمہوری حکومت نے ملک میں بلدیاتی انتخاب نہیں کرائے، سیاسی جماعتیں بلدیاتی انتخاب اس لیے نہیں کراتیں کہ سارے بلدیاتی فنڈ ان کے ہاتھ میں ہوتے ہیں اس لیے یہ اس فنڈ کو اپنی مرضی سے اللے تللے خرچ کرتی ہیں اگر وہ بلدیاتی انتخاب کرائیں گی تو ہو سکتا ہے کہ ان کا مخالف سیاسی گروپ جیت جائے اور یہ فنڈ ان کے ہاتھ سے نکل جائے سیاسی جماعتیں اس لیے بھی انتخاب نہیں کرواتیں کہ اس سے ان کی تنظیم میں ٹوٹ پھوٹ کا اندیشہ رہتا ہے ان کے تنظیمی انتشار پر قابو پانا مشکل ہو جاتا ہے۔
جمہوری حکومتوں کے بعد جب جنرل پرویز مشرف کا دور آتا ہے تو اس فوجی دور میں بھی پورے ملک میں بلدیاتی انتخاب کرائے جاتے ہیں کراچی میں ایک بار پھر جماعت اسلامی کامیاب ہوتی ہے اور نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ ناظم سٹی بن جاتے ہیں اور کراچی کے 8ٹائونز پر بھی جماعت اسلامی کے ٹائون ناظمین منتخب ہوتے ہیں۔ نعمت اللہ صاحب کراچی کے لیے ایک نعمت ثابت ہوئے اور انہوں نے کراچی میں جو ترقیاتی کام کرائے اس نے شہر کا نقشہ تبدیل کرکے رکھ دیا۔ جنرل مشرف جب بھی کراچی آتے تو شہر کے ترقیاتی کام دیکھ کر نعمت اللہ خان کی تعریف کرتے کچھ سیاسی لوگوں نے جنرل مشرف پر اعتراض بھی کیا کہ آپ جب بھی آتے ہیں نعمت اللہ صاحب کی تعریف کرتے ہیں انہوں نے جواب دیا کہ میںکیا کروں، جہاں جاتا ہوں لوگ نعمت صاحب کے کاموں کی تعریف کرتے ہیں۔ نعمت اللہ صاحب نے جہاں یہ کام کیا کہ پانچ ارب روپے کے بجٹ کو پانچ سال میں 45ارب تک پہنچا دیا لیکن ان کا ایک کارنامہ اور بھی تھا کہ کراچی کے وہ بڑے بڑے سرکاری و نیم سرکاری ادارے جوکراچی میں ہیں اور یہاں کے انفرا اسٹرکچر سے فائدہ اٹھا رہے ہیں تو ان مختلف اداروں پر کراچی کے کچھ بڑے اور اہم ترقیاتی کام مختص کردیے جائیں، اس طرح نعمت اللہ صاحب کی کوششوں سے جنرل مشرف کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس ہوا جس میں ان اداروں کے افسران بھی شریک ہوئے جنہوں نے اپنے ذمے کچھ کام لیے اس طرح 29کروڑ کا ایک ترقیاتی پیکیج کراچی کے لیے منظور ہوا جس کی اس زمانے میں ایم کیو ایم نے بھی تعریف کی تھی۔
آخر میں عرض ہے کہ یہ تمام تفصیل اس لیے رکھی گئی ہے کہ فوجی ادوار میں یہ کام اس لیے آسانی سے ہو گئے کہ صوبائی اور مرکزی حکومتوں کی طرف سے بلدیہ کراچی کو فنڈ کے حصول میں کوئی پریشانی یا مشکل نہیں ہوتی تھی اور پھر کرپشن کو ختم نہیں تو کم کرکے پیسے بچائے گئے اس لیے آئندہ جو بھی کراچی کا میئر ہو غالب امکان تو یہی ہے کہ جماعت اسلامی کا میئر ہوگا لہٰذا اس کے راستے میں مالی وسائل کی فراہمی کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہ ڈالی جائے تاکہ کراچی میں تیزی سے ترقیاتی کام مکمل ہو جائیں ورنہ اگر میئر کراچی کو کام نہیں کرنے دیا گیا اور قدم قدم پر رکاوٹیں ڈالی گئیں تو پھرکراچی کے عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ ان جمہوری حکومتوں سے ہمارے شہر کے لیے مارشل لا ہی بہتر ہے۔